|
آخری مرحلے کی ووٹنگ مکمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک معلق پارلیمان کی قیاس آرائیوں کے درمیان ہندوستان میں انتخابات کے آخری اور حتمی مرحلے میں ووٹنگ شروع ہوگئی ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کا حکمران اتحاد پانچ سو ترتالیس نشستوں کی پارلیمینٹ میں مکمل اکثریت حاصل نہیں کر پائے گا۔ پیر کے روز ہونے والی ووٹنگ میں بیس کروڑ سے زیادہ لوگ ووٹ ڈالیں گے جس کی وجہ سے یہ حالیہ الیکشن میں سب سے اہم اور بڑا مرحلہ ہے۔ ووٹوں کی گنتی جمعرات سے شروع ہوگی اور اسی روز الیکشن کے نتائج متوقع ہیں۔ آخری مرحلے میں ووٹنگ زیادہ تر شمالی ہندوستان میں ہوگی جن میں دہلی بھی شامل ہے۔ ان علاقوں میں بی جے پی کی مقبولیت قدرے کم تصور کی جاتی ہے اور کامیابی کے لئے پارٹی کو اپنی حلیف علاقائی جماعتوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔ آخری مرحلے سے پہلے مغربی بنگال کے ایک رہنما کے ایک بیان کے بعد ملک کے آزاد الیکشن کمیشن نے خبردار کیا تھا کہ اس مرحلے میں وہاں ووٹنگ منسوخ کی جا سکتی ہے۔ مغربی بنگال میں حکمران جماعت لیفٹ فرنٹ کے رہنما بیمان باسو سے منسوب ایک بیان کے مطابق انہوں نےے اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ اگر الیکشن مبصر ووٹنگ میں رکاوٹ بنے تو انہیں پولنگ بوتھوں سے باہر نکال دیا جانا چاہیئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||