BBCUrdu.com
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 July, 2004, 15:39 GMT 20:39 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
ملٹی نیشنل کمپنیاں اور ان کی سماجی ذمہ داری
 

 
 
ماحول کی جانب کمپنیوں کی ذمہ داری؟
ماحول کی جانب کمپنیوں کی ذمہ داری؟
آزاد تجارت پر ایک عام تنقید یہ کی جاتی ہے کہ یہ کثیرالاقوامی اداروں کے خزانے بھرنے میں مدد کرتی ہے جبکہ مزدوروں، مقامی لوگوں اور چھوٹے صنعت کاروں کے حقوق کو کچل دیتی ہے۔ گو کہ تجارتی معاہدوں کے تحت کثیرالاقوامی اداروں کو خاص حقوق نہیں ملتے لیکن ملکوں کے درمیان آزاد تجارت کی چھپن سالہ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے معاشی حالات سے خوب فائدہ اٹھایا ہے۔ کیا ملٹی نیشنل اداروں کو ان تجارتی فوائد کے بدلے میں کچھ ذمہ داریاں بھی اٹھانی چاہئیں؟

اب قدرے زیادہ امریکی لوگ ان ممالک میں بنائی گئی اشیاء خرید رہے ہیں جہاں پر انسانی اور مزدوروں کے حقوق کو کم تحفظ حاصل ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ تجارتی معاہدے نہ صرف تجارت کے فروغ کی حوصلہ افزائی کریں بلکہ ترقی پزیر ملکوں کی مدد کریں کہ وہ ان حقوق کا تحفظ کرسکیں ۔ پچھلے بیس سالوں میں پالسی سازوں نے ان مسائل کے حل کے لیے وسیع حکمت عملیوں پر کام کیا ہے۔ مثال کے طور پر انہوں نے محنت کشوں اور ماحول کے متعلق معاہدوں کو نارتھ امریکن فری ٹریڈ اگریمنٹ (نیفٹا) کے ساتھ نتھی کر دیا ہے اور ایسے منصوبوں کو مالی مدد فراہم کی ہے جن کا مقصد ترقی پزیر ملکوں میں افسران کی تربیت کرنا ہے تاکہ وہ ماحول اور دفتروں میں زیادہ بہتر طور پر کام کر سکیں۔

ان کے نتائج ابھی سامنے نہیں آئے ہیں لیکن یہ ظاہر ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ایک ایسا راستہ اپنایا ہے جو ان کے اپنے مفاد میں ہیں۔

کمپنیوں کی ذمہ داری
 سی ایس آر کی تعریف یوں ہے کہ معاشی کامیابی کے حصول کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں، برادریوں اور ماحول کو بھی خاطر میں لایا جائے۔ کمپنیاں اجتماعی طریقوں سے سی ایس آر پر عمل کر سکتی ہیں۔
 

پالسی ساز ان نظریات کو ایک نئے طریقے سے مضبوط کر رہے ہیں جس کے تحت تجارتی معاہدے یا پالسیاں رضاکارانہ کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (سی ایس آر) یا اجتماعی سماجی ذمہ داری کے ساتھ منسلک کر دیا جاتا ہے۔ سی ایس آر کی تعریف یوں ہے کہ معاشی کامیابی کے حصول کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں، برادریوں اور ماحول کو بھی خاطر میں لایا جائے۔ کمپنیاں اجتماعی طریقوں سے سی ایس آر پر عمل کر سکتی ہیں۔ کمپنیاں اجتماعی ضابطے اپنا کر سرمایہ کاروں کو کمپنی کی ماحولیاتی اور سماجی کارکردگی کے بارے میں معلومات فراہم کرکے ایسا کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ کمپنیاں سول سوسائٹی کو سماجی اور ماحولیاتی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے کہہ سکتی ہیں تاکہ اس بات کی تائید ہو کہ اس حوالے سے حکمت عملی پائدار اور ہمدردانہ ہیں۔

امریکہ کی ورتھ لین ورلڈ وائڈ نے ایک ہزار امریکی سرمایہ داروں کا ایک سروے کیا جس کے مطابق بانوے فی صد لوگوں کا خیال تھا کہ تجارتی منصوبوں میں سی ایس آر ایک اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ باسٹھ فی صد نے اسے ”بہت اہم” قرار دیا۔اس کے باوجود رضاکارانہ سی ایس آر کو تجارتی معاہدوں کے ساتھ منسلک کرنا بے حد ضروری سمجھا گیا لیکن یہ آسان نہیں۔ سی ایس آر ایک نرم قانون ہے جبکہ تجارتی معاہدے بین الاقوامی قوانین میں کلیدی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور حکومتوں کے رویوں پر نظر رکھتے ہیں۔ پالسی سازوں کو ایسے راستے ڈھونڈنے ہونگے تاکہ سی ایس آر کو تجارتی معاہدوں کے ساتھ اس طرح منسلک کیا جا سکے کہ ڈبلیو ٹی او کے اہم اصول موسٹ فیورڈ نیشن ٹریٹمنٹ (ایم ایف این) کی خلاف ورزی بھی نہ ہو۔

ایم ایف این
ایم ایف این کے تحت ڈبلیو ٹی او کے ایک سو اڑتالیس ممبران کو ایک ہی جیسے سلوک کا پابند بنایا گیا ہے۔ لیکن امریکہ کیلئے جہاں دنیا کی سب سے زیادہ کارپوریشنیں ہیں، ممکن ہے کہ وہ آسانی سے آزاد تجارتی معاہدوں کے اندر رہ کر بھی ایسے ممبران جو ڈبلیو ٹی او کے ممبران نہیں ہیں جیسے روس کے ساتھ معاہدے کے باہر رہ کر بھی ایسا تعلق رکھ سکتا ہے۔

تجارت کے رہنما اصول
 او ای سی ڈی حکومتوں کی طرف سے ایسی گذارشات ہیں جن میں کثیرالملکی اداروں کو انسانی حقوق، ماحول اور روزگار سے متعلق ہدایات دی گئی ہیں۔ تقریباً اڑتیس ممالک جن میں امریکہ بھی شامل ہے ان گذارشات پر عمل پیرا ہیں۔ یورپی یونین اپنی کمپنیوں پر زور دیتی ہے کہ وہ باہمی معاہدوں میں او ای سی ڈی کے رہنما اصولوں پر عمل کریں۔
 

امریکہ اور ایسے دوسرے ممالک میں جہاں کثیرالملکی کمپنیاں موجود ہیں حکومتی اہلکار رضاکارانہ سی ایس آر کو تجارتی پالسیوں اور معاہدوں کے ساتھ منسلک کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ڈچ حکومت پر لازم ہے کہ اس کی کمپنیاں اگر ٹیکس ادا کرنے والی تجارتی چھوٹ سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں تو وہ سی ایس آر پر عمل کریں۔ او ای سی ڈی حکومتوں کی طرف سے ایسی گذارشات ہیں جن میں کثیرالملکی اداروں کو انسانی حقوق، ماحول اور روزگار سے متعلق ہدایات دی گئی ہیں۔ تقریباً اڑتیس ممالک جن میں امریکہ بھی شامل ہے ان گذارشات پر عمل پیرا ہیں۔ یورپی یونین اپنی کمپنیوں پر زور دیتی ہے کہ وہ باہمی معاہدوں میں او ای سی ڈی کے رہنما اصولوں پر عمل کریں۔

بش انتظامیہ نے بھی اپنے دو طرفہ معاہدوں (جیسے چِلی، سنگاپور) میں سی ایس آر کی زبان شامل کی ہے مگر انہوں نے کوئی خاص سی ایس آر حکمت عملی وضح نہیں کی ہے۔ انہوں نے یہ مسئلہ ہر کمپنی کی انتظامیہ (اور جو مفاد میں شریک ہوں) پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ کیسے سی ایس آر پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ زبان بھی صرف آزاد تجارتی معاہدوں کے ان ابواب میں ملتی ہے جو ماحولیات سے متعلق ہیں۔ مستقبل کے معاہدوں میں اس زبان کو مزید واضح کرنے کی ضرورت ہے اور اسے آزاد تجارتی معاہدوں میں بھی شامل کرنا چاہیے۔ علاوہ ازیں شفاف قانون سازی سے متعلق زبان کو بھی زیادہ بہتر کرنا ہوگا تاکہ وہ رضاکارانہ طور پر کمپنی کی بیرون ملک سماجی اور ماحولیاتی کارکردگی کے بارے میں باہم معلومات فراہم کرے۔

بش انتظامیہ نے پہلی مرتبہ رضاکارانہ سی ایس آر اور ڈبلیو ٹی او میں (انسانی حقوق کی پامالی اور ہیروں کی پیداوار میں) تجارتی چھوٹ کے درمیان واضح کڑی کی تائید کی ہے۔ امریکہ کی حمایت اس عالمی مسئلے پرمدد بہت اہم ہے کیونکہ امریکہ ہیروں کی دنیا میں سب سے بڑی منڈی ہے۔ جب اقوام متحدہ نے ہیروں کی پیداوار میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مبینہ خلاف ورزیوں پر سازباز کا پتہ چلایا تو ہیروں کی صنعت نے ایک سند کا آغاز کیا جس کے تحت ہیروں کے تاجر ہیروں کی کھدائی اور پیداوار میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر تیل نہیں چھڑکیں گے۔

سن دو ہزار دو میں بش انتظامیہ نے کانگریس پر دباؤ ڈالا کہ وہ امریکہ کو اس چھوٹ میں شریک ہونے کی اجازت دے۔ جنوبی افریقہ کی حکومت کے مطابق اس سندی سکیم سے افریقہ کی کئی دوسری حکومتوں کو سبق ملا ہے کہ اگر انہیں اپنی اشیاء برآمدکرنی ہیں تو انہیں انسانی حقوق پر نظر رکھنی ہوگی۔

انسانی حقوق کا تحفظ ضروری
 ج کل جب انسانی حقوق کے بارے میں امریکہ کی ساکھ کو دہشت پسندی کے خلاف جنگ کی وجہ سے کافی نقصان پہنچا ہے یہ ضروری ہے کہ بش انتظامیہ کے حکام دنیا کے مختلف خطوں میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کریں۔
 

بش انتظامیہ کو اس سلسلے میں مزید کام کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے تو اسے کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی کہ وہ ان سی ایس آر اقدام (او ای سی ڈی کے رہنما اصول، گلوبل رپورٹنگ انیشیاٹِواور آئی ایل او کی قرارداد) کو اپنائیں اور اپنے اندرونی سی ایس آر ضابطے انہی اقدام کی روشنی میں بنائیں۔ دوسرا یہ کہ جہاں پر بھی ڈبلیو ٹی او میں چھوٹ کو جنگوں جھگڑوں میں تجارتی سرگرمیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے تو امریکہ کو ایسے مواقع کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ ایسے مواقع کم ہوتے ہیں لیکن ہوتے ضرور ہیں۔ تیسرا یہ کہ امریکی پالسی ساز شاید سی ایس آر اقدام اور تجارت کے درمیان کوئی کڑی جوڑ سکتے ہیں جو چین میں مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ چونکہ چین ڈبلیو ٹی او کا ممبر ہے اس لیے امریکہ ایسے سی ایس آر اقدام نہیں اپنا سکتا جو ایم ایف این کی خلاف ورزی کرتے ہوں۔

گزشتہ اپریل میں امریکہ- چین کے صنعت و تجارت کے مشترکہ کمیشن نے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا تھا تاکہ ایسے مسائل پر نظرثانی کی جا سکے جو چین کی معاشی اور اقتصادی پالسیوں کے نتیجہ میں پیدا ہورہی ہیں۔ دونوں ملکوں نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ چین میں آئی ایل او کے ضابطوں پر عمل درآمد کے لیے بات چیت کریں گے۔ وہ امریکی صنعت کاروں کو کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنے مال فراہم کرنے والوں کو کہیں کہ وہ چینی مزدوروں کے حقوق کے قوانین پر عمل درآمد کریں اور اپنی صنعتوں میں ان کو لاگو کریں۔ وہ ان مال فراہم کرنے والوں کو بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنے مزدوروں کے ساتھ چینی قوانین کے تحت حقوق کے بارے میں بات چیت کریں۔ بہت سی امریکی کمپنیاں یہ کر رہی ہیں۔

آج کل جب انسانی حقوق کے بارے میں امریکہ کی ساکھ کو دہشت پسندی کے خلاف جنگ کی وجہ سے کافی نقصان پہنچا ہے یہ ضروری ہے کہ بش انتظامیہ کے حکام دنیا کے مختلف خطوں میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کریں۔ چونکہ بڑی امریکی کمپنیاں عالمگیریت کا اہم ستون ہیں اس لیے ان کا ذمہ دارانہ رویہ ہی ایک اچھی پیش قدمی ہوگی۔

ہمیں لکھئے: عالمگیریت سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟

نوٹ: سوسان ایریئل آرونسون یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کے کنان انسٹیٹیوٹ میں گلوبلائزیشن اسٹڈیز کی ڈائرکٹر ہیں۔ یہ مضمون بی بی سی اردو آن لائن اور ییل سنٹر فار دی اسٹڈی آف گلوبلائزیشن کے درمیان پارٹنرشِپ کے تحت شائع کیا جارہا ہے اور ییل گلوبل کی کائپ رائٹ ہے۔

 
 
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
 
  
 
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
 
اسی بارے میں
 
 
بیرونی لِنک
 
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد