BBC Urdu

صومالی قزاق: ایک فرانسیسی یرغمال ہلاک

فرانسیسی حکام کے مطابق فرانس کے ایک بحری جہاز کو اغوا کرنے والے صومالی قزاقوں کے خلاف فوجی آپریشن میں جہاز پر یرغمال بنایا گیا ایک فرانسیسی شخص ہلاک ہوگیا ہے جبکہ چار کو رہا کروالیا گیا ہے۔

فرانس کے حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں دو قزاق ہلاک جبکہ تین کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ فوجی آپریشن اس وقت کیا گیا جب قزاقوں سے بات چیت کا سلسلہ ناکام ثابت ہوا اور ہمیں معلوم ہوگیا کہ ان قزاقوں سے کس طرح کا خطرہ لاحق ہے۔

اس بحری جہاز ’تانت‘ کو گزشتہ ہفتے اغوا کیا گیا تھا۔ رہا کروائے جانے والے افراد میں دو فرانسیسی جوڑے اور ایک بچہ شامل ہیں۔

یہ فوجی آپریشن ایسے وقت پر کیا گیا جب صومالیہ ہی میں اغوا کیے گئے ایک اور بحری جہاز کے کپتان نے فرار ہونے کی ناکام کوشش کی۔ کپتان رچرڈ فلپس نے جہاز سے چھلانگ لگا کر لائف بوٹ کے ذریعے فرار کی کوشش کی تھی تاہم وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

امریکی ادارے ایف بی آئی کے اہلکار رچرڈ فلپس کی رہائی کے لیے قزاقوں سے مذاکرات کررہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات طویل ہوسکتے ہیں کیونکہ خدشہ ہے کہ قزاق کافی بھاری تاوان کا مطالبہ کریں گے۔

محمد سما نامی ایک صومالی قزاق کا کہنا ہے کہ اس ہفتہ اغوا کیے گئے برطانوی جہاز میں اس کا ’حصہ‘ ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ اغوا کیے گئے دو جہاز قزاقوں کے مرکزی حصے سے نکل چکے ہیں جبکہ مزید دو جہاز بھی حرکت میں آگئے ہیں۔

ان دو جہازوں پر 54 افراد ہیں جن میں چین، روس، جرمنی، یوکرین، فلپائن، انڈونیشیا اور تائیوان کے باشندے شامل ہیں۔

فرانس کے صدارتی ترجمان مورن کا کہنا ہے کہ فرانس کا عہد ہے کہ وہ بلیک میلنگ میں نہیں آئے گا، مجرموں کو سزا دلوائے گا اور مغوی افراد کی رہائی کی کوشش کرے گا۔

تاہم یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اغوا شدہ بحری جہاز پر موجود فرانسیسی خاندانوں کو پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ وہ اس رستے پر سفر کرنے سے اجتناب کریں۔

فرانسیسی وزارت خارجہ کے ایج ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ بات مشکل سے سمجھ آتی ہے کہ اس وارننگ کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لیا گیا۔

گزشتہ ہفتے کے دوران صومالی قزاقوں نے چھ بحری جہاز اغوا کیے۔