اسرائیل کے انتخابات اور ایران سے نمٹنے کے معاملے پر سیاسی کشمکش, جمال الدین موسوی، بی بی سی، تل ابیب
اسرائیل میں انتخابی مہم ان دنوں اپنے عروج پر ہے اور اس دوران دو بڑے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔
ایک طرف موجودہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو ہیں، جبکہ دوسری جانب حزب اختلاف کے رہنما گاڈی آئزن کوٹ میدان میں ہیں۔
اس کے ساتھ دیگر سیاسی رہنما بھی زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے اور آئندہ حکومت کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
انتخابی فضا اس قدر گرم ہے کہ ایک مقامی صحافی نے اس مقابلے کو ’سیاسی خونریزی‘ سے تشبیہ دی ہے۔ دوسرے لفظوں میں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر سخت تنقید کر رہی ہیں اور انتخابی معرکہ غیر معمولی شدت اختیار کر گیا ہے۔
تاہم اس تمام سیاسی کشمکش کے باوجود تقریباً تمام بڑی جماعتوں کے لیے ایک موضوع مشترک ہے اور وہ ہے ایران۔
اس انتخابی مہم کے دوران امیدواروں سے بار بار ایک ہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ وہ ایران کے حوالے سے کیا پالیسی اپنائیں گے۔
اس سوال کے جواب میں تقریباً سب کا مؤقف ایک جیسا ہے کہ ایران کا مقابلہ کیا جانا چاہیے، لیکن ہر جماعت کے نزدیک اس کا طریقۂ کار مختلف ہے۔
اگرچہ تمام جماعتیں ایران سے نمٹنے کی ضرورت پر متفق دکھائی دیتی ہیں لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے پیش کی جانے والی حکمتِ عملیوں، شرائط اور ترجیحات میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔