پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جانا چاہیے: پاکستانی وزیر اعظم
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کو ’کبھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘
وزیر اعظم نے انڈیا کا نام نہیں لیا لیکن وہ اپنے خطاب میں نئی دہلی کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کی طرف ہی اشارہ کر رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا: ’پانی ہمارے خطے میں زندگی کی بنیاد ہے۔ یہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو برقرار رکھتا ہے، ہماری زمینوں کو سیراب کرتا ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناتا ہے۔ اسے کبھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ نہ ہی اسے دباؤ ڈالنے کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔‘
’ہمارے مشترکہ آبی وسائل سے متعلق معاہدے سنجیدہ اور پابند بین الاقوامی عہد ہیں۔ یہ ایسے سیاسی معاملات نہیں جنہیں مرضی کے مطابق نظر انداز کر دیا جائے۔‘
وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان علاقائی سطح پر دہشتگردی کے خلاف تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
’پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔ تاہم اس بارے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ جب تک دہشت گرد افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے بے گناہ پاکستانیوں اور دیگر ممالک کے شہریوں کا خون بہاتے رہیں گے، پائیدار امن ہماری پہنچ سے دور رہے گا۔’