|
کبھی دھمکی نہیں دی: آرمیٹیج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے سابق انڈر سیکرٹری رچرڈ آرمیٹیج نے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی یہ نہیں کہا تھا کہ اگر پاکستان دہشگردی کے خلاف جنگ میں تعاون نہیں کرتا تو امریکہ اس پر بمباری کر کے اسے واپس پتھر کے دور میں بھیج دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کل (جمعرات کو ) ہی مشرف سے ملے اور ان سے پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔ ’مشرف کا کہنا تھا کہ یہ بات انہیں اُن کے انٹیلیجنس کے سربراہ نے بتائی تھی۔‘ رچرڈ آرمیٹیج نے کہا کہ کل پاکستانی صدر کے ساتھ ان کی ملاقات چالیس منٹ تک جاری رہی جو کہ اچھی رہی۔ آرمیٹیج نے مزید کہا کہ وہ اس قسم کی دھمکی کبھی بھی نہیں دے سکتے تھے کیونکہ اول یہ کہ ایسی دھمکی دینے کے ان کے پاس اختیارات ہی نہیں اور دوسرے یہ کہ ان کے لیئے ایسی دھمکی کے بعد کی صورتحال پر کوئی اختیار نہ ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے آج (جمعہ) کی صبح دوبارہ اس دن کی سفارتی ڈاک دیکھی جس دن ان کی پاکستانی انٹیلیجنس کے سربراہ سے بات ہوئی تھی۔ میری بات بالکل دو ٹوک تھی اور وہ یہ تھی کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں یا نہیں۔ آرمیٹیج کا خیال ہے کہ اس معاملے میں انٹیلیجنس کے سربراہ مکمل غلطی پر ہیں اور دوسرے یہ کہ انٹیلیجنس سربراہ کی بات کی اسلام آباد میں کوئی خاص اہمیت نہیں کیونکہ بعد میں مشرف نے متعلقہ سربراہ کو نوکری سے بھی فارغ کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں ’امریکہ نےحملے کی دھمکی دی‘ 21 September, 2006 | پاکستان ’فوجی نصب العین سے انحراف‘22 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||