BBCUrdu.com
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 October, 2006, 17:47 GMT 22:47 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
طالبان کمانڈر کے ساتھ ایک سفر
 

 
 
نیٹو فوج
افغانستان میں نیٹو افواج کے لیئے مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں
افغانستان میں نیٹوفوج خودکش حملوں کو جھیل رہی ہے اور اس میں لگاتار اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

پہلے یہ توقع کی جارہی تھی کی یہ فوجیں علاقے میں امن اور بھائی چارہ قائم کرنےمیں کامیاب ہو نگی اوراس کے نتیجے میں تعمیرنو کے کاموں میں تیزی آئے گی۔لیکن اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ چند سال قبل جس دور اقتدار کا خاتمہ کیا گیا تھا اب وہ پھر واپس آ رہا ہے۔

ایک شخص جو برطانوی فوج کے خلاف مورچہ بندی میں بحیثیت کمانڈر شریک ہے، کا کہنا ہے کہ’ آپ نے ہماری حکومت کو تباہ کر دیا اور صرف اس لیئے کہ ہمارے پاس ہمارا مہمان اسامہ تھے‘۔

ہم دیر رات گئے مکان کے اس حصے میں بیٹھے تھے جوعام طور پر عورتوں کے لیئے مخصوص ہوتی ہے۔ ہم سے کچھ دور کے فاصلے پر ایک مرد پہرہ دار موجود تھا جو ایک ایک حرکت پر اپنی نگاہ رکھ رہا تھا۔اس جگہ چین کی بنی ایک سلائی مشین پڑی تھی اورطالبان جنگجوؤں نے کپڑوں کی کترنوں سےگھر کو بھر رکھا تھا تاکہ کسی کو ہم لوگوں کے وہاں ہونے کا احساس نہ ہو۔

ہم جس سے بات چیت کررہے تھےاس شخص کی عمر کوئی چالیس سال ہوگی۔وہ کافی عقلمند معلوم ہوتا تھا۔ اس کےہاتھ میں وائرلیس ریڈیو تھا جس کے ذریعہ وہ لگاتارباہر کے حالات کا جائزہ لیتا رہتا تھا۔ اس دوران اسے خبر ملی کہ ایک برطانوی گاڑی پر بارودی سرنگ سے حملہ کر دیا گیا ہے۔ جب میں نےان سے یہ کہا کہ برطانوی تو یہاں تعمیر نو کا کام کرنے آئے ہیں تواس نے بلا اختیار ہمیں دور رہنے کا اشارہ کیا۔

اس کمانڈر نے کہاکہ’ وہ لوگ یہاں گزشتہ پانچ سالوں سے ہیں اور آپ یہاں کی سڑکوں کی صورت دیکھیں‘۔

کئی سالوں کے بعد طالبان کے تئیں عوام کے اعتماد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے

جنوب میں برطانوی آپریشنز کے تئیں لوگوں میں جو اعتماد کی کمی آئی ہے وہ نیٹواور برطانوی فوج کے لیئےسب سے بڑا مسئلہ ہے۔افغان یہ محسوس کرتے ہیں کہ تعمیر نو کے کاموں میں اربوں ڈالر خرچ ہونے کے باوجود انہیں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔یہی حال یہاں کی سڑکوں کا بھی ہے۔

جب ہم قندھار سے مغرب کی جانب جا رہے تھےاس دوران ہمیں ان شاہ راہوں میں مختلف چیک پوائنٹ پر روکا گیا۔ہر جگہ ہم سے آفغانی کرنسی کا مطالبا کیا گیا۔ ان چیک پوائنٹوں پرافغانی فوجی تعینات ہیں۔

ان شاہ راہوں پر کئی طرح کی بد عنوانیوں کا بول بالا ہے۔ کافی ہد تک نیٹو فوج نے بھی بدعنوانی میں اضافہ کرنے کا ماحول تیار کردیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ جس طرح کی بدعنوانیوں کوطالبان نے 90 کی دہائی میں ختم کردیا تھا اب حامد کرزئی اور نیٹو کے دور میں ویسی بدعنوانیاں عام ہوگئی ہیں۔ ان حالات نے طالبان کو اپنے لیئے سازگار ماحول تیار کرنے میں مدد کی ہے۔ اس کے علاوہ نیٹو فوج کی موجودگی کے بعد سے تشدد میں ہوئے اضافے نے بھی طالبان کو مدد پہنچائی ہے۔

میں نے دیکھا کہ نیٹو فوجوں کے حملے میں مساجد اور دوسری عبادت گاہیں تباہ ہوگئی ہیں اوراس تباہی نےطالبان کو عوام کے دلوں کوجیتنےمیں مدد پہنچائی ہے۔

اپنےاس بار کے سفر میں میں نے طالبان کے لوگوں کےساتھ کسی بھی خاتون کو نہیں دیکھا۔ جب راستے میں شام ہوگئی اور ہم لوگ افطار کے لیئے ایک جگہ رکےتو ہمیں کہا گیا کہ ہم جلد سے جلد اپنا افطار ختم کرلیں۔ایسا اس لیئے کہا گیا تاکہ ہماری نظریں وہاں آکر بعد میں افطار میں شامل ہونے والی خواتین پر نہ پڑیں۔

طالبان کے کمانڈر نے ہمیں بتایا کہ بیشک طالبان کےدور میں بھی غلطیاں ہوئی ہیں۔ لیکن اس بار وہ نہیں چاہتے کہ وہ اپنی باتیں لوگوں پر مسلط کریں۔

 کمانڈر نے بتایا کہ ہمارے پاس ایسے سیکڑوں خود کش حملہ آور موجود ہیں جو برطانوی افواج پر حملہ کرنے کے لیئے اپنی باری کا انتظا کر رہے ہیں۔ انہیں کئی بار واپس کر دیا جاتا ہے۔
 
کمانڈر نے بتایا کہ ہمارے پاس ایسے سیکڑوں خود کش حملہ آور موجود ہیں جو برطانوی افواج پر حملہ کرنے کے لیئے اپنی باری کا انتظا کر رہے ہیں۔ انہیں کئی بار واپس کر دیا جاتا ہے۔

طالبان کمانڈر خود کش حملے کی طریقہ کار کوایک اہم ہتھیار مانتے ہیں اور حالات بتا رہے ہیں کہ نیٹو کے لیئے یہ جنگ جیتنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے،وہ بڑے پیمانے پر تباہی نہ پھیلائیں تو۔

 
 
اسی بارے میں
نیٹو مِشن کو درپیش مسائل
05 September, 2006 | آس پاس
کابل میں طالبان کا خوف
27 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد