|
وکیل صفائی بھی سرکاری ہوگا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی حکومت خیلج گوانتانامو میں قید مبینہ دہشت گردوں کی قانونی حیثیت کا تعین کرنے کے لیے مزید فوجی عدالتیں قائم کر رہی ہے۔ امریکی وزرات دفاع کی طرف سے مزید فوجی عدالتیں قائم کرنے کا اقدام امریکی سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد کیا گیا ہے جس میں عدالت اعظمی نے گوانتانامو کے قیدیوں کو اپنی غیر معینہ حراست کے خلاف مقدمات دائر کرنے کا اختیار دے دیا تھا۔ حکام کے مطابق گزشتہ دس دنوں میں پانچسو پچانوے قیدیوں کو یہ حق دے دیا گیا ہے۔ یہ فوجی ٹرائبیونل تین فوجی افسروں پر مشتمل ہوں گے جن میں کم از کم ایک فوجی وکیل ہو گا۔ ان فوجی عدالتوں میں سماعت کے دوران قیدیوں کو اپنے وکیل کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا اور انہیں فوجی ٹرائبیونل کی طرف سے ہی ایک فوجی وکیل مہیا کیا جائے گا۔ بی بی سی کے نامہ نگار نک چائلڈ کے مطابق بش انتظامیہ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد دباؤ کا شکار ہے۔ گوانتانامو میں قید نو افراد کے وکلاء نے پہلے ہی واشنگٹن میں ایک وفاقی عدالت میں مقدمات دائر کر دئے ہیں۔ بش انتظامیہ کا خیال ہے کہ اگر ان قیدیوں کی طرف سے مقدمات قائم کئے جاتے ہیں تو وہ عدالت کے سامنے یہ عذر پیش کر سکے گی کہ ان قیدیوں کے مقدمات پہلےہیں فوج عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ پینٹاگن نے کہا ہے کہ یہ فوجی عدالتیں ان کمیشنوں کے علاوہ ہیں جو ان قیدیوں کو سزائیں دینے کے لیے قائم کئے گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||