BBCUrdu.com
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 July, 2004, 00:51 GMT 05:51 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
وکیل صفائی بھی سرکاری ہوگا
 
فوجی ٹرائبیونل ہی قیدیوں کو وکیل مہیا کریں گے
فوجی ٹرائبیونل ہی قیدیوں کو وکیل مہیا کریں گے
امریکی حکومت خیلج گوانتانامو میں قید مبینہ دہشت گردوں کی قانونی حیثیت کا تعین کرنے کے لیے مزید فوجی عدالتیں قائم کر رہی ہے۔

امریکی وزرات دفاع کی طرف سے مزید فوجی عدالتیں قائم کرنے کا اقدام امریکی سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد کیا گیا ہے جس میں عدالت اعظمی نے گوانتانامو کے قیدیوں کو اپنی غیر معینہ حراست کے خلاف مقدمات دائر کرنے کا اختیار دے دیا تھا۔

حکام کے مطابق گزشتہ دس دنوں میں پانچسو پچانوے قیدیوں کو یہ حق دے دیا گیا ہے۔

یہ فوجی ٹرائبیونل تین فوجی افسروں پر مشتمل ہوں گے جن میں کم از کم ایک فوجی وکیل ہو گا۔

ان فوجی عدالتوں میں سماعت کے دوران قیدیوں کو اپنے وکیل کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا اور انہیں فوجی ٹرائبیونل کی طرف سے ہی ایک فوجی وکیل مہیا کیا جائے گا۔

بی بی سی کے نامہ نگار نک چائلڈ کے مطابق بش انتظامیہ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد دباؤ کا شکار ہے۔

گوانتانامو میں قید نو افراد کے وکلاء نے پہلے ہی واشنگٹن میں ایک وفاقی عدالت میں مقدمات دائر کر دئے ہیں۔

بش انتظامیہ کا خیال ہے کہ اگر ان قیدیوں کی طرف سے مقدمات قائم کئے جاتے ہیں تو وہ عدالت کے سامنے یہ عذر پیش کر سکے گی کہ ان قیدیوں کے مقدمات پہلےہیں فوج عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

پینٹاگن نے کہا ہے کہ یہ فوجی عدالتیں ان کمیشنوں کے علاوہ ہیں جو ان قیدیوں کو سزائیں دینے کے لیے قائم کئے گئے تھے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد