 |  بد سلوکی کے الزامات پہلے بھی کئی بار لگ چکے ہیں اور ان کی تحقیقات بھی ہوئی ہیں |
امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے گوانتانامو بے میں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات کے بارے میں از سرِ نو تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان باقاعدہ اندرونی تحقیقات کا حکم امریکہ کی جنوبی کمان کے سربراہ نے دیا ہے۔گوانتانامو بے ان کے دائرۂ عمل میں آتا ہے۔ پچھلے ماہ ایسی دستاویزات شائع ہوئی تھیں جن میں ایف بی آئی کے اہلکاروں نے 2002 کے دوران گوانتانامو بے میں تفتیشی طریقہ کار پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان دستاویزات میں ایک ایف بی آئی ایجنٹ کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ اس نے گوانتانامو بے میں قیدیوں کو ایک وقت میں چوبیس گھنٹے تک اس حالت میس دیکھا تھا کہ ان کے ہاتھ ان کے پاؤں کے ساتھ بندھے ہوئے تھے اور وہ اکڑوں حالت میں پڑے تھے۔ پینٹاگون کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ گوانتانامو بے کے قیدیوں پر تشدد اور ان کے ساتھ انتہائی بد سلوکی کے متعدد الزامات سامنے آئے ہیں اس وقت گوانتانامو بے میں پانچ سو پچاس کے لگ بھگ نظربند ہیں جس کا تعلق چالیس ملکوں سے ہے۔ پنٹاگون ہمیشہ مصر رہی ہے کہ گوانتانامو بے میں قیدیوں سے بدسلوکی نہیں کی جاتی تاہم اس کے ساتھ وہ یہ بھی کہتی رہی ہے کہ وہ ایسے تمام الزامات کی تحقیق کرنے کے لیے تیار ہے جو قابلِ اعتبار ہوں۔ عراق، افغانستان اور گوانتانامو بے میں قیدیوں سے بدسلوکی کی اب تک آٹھ بڑی تحقیقات ہو چکی ہیں تاہم ان کے نتائج اس حوالے سے تنقید کرنے والوں کو مطمعن کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ |