BBCUrdu.com
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 June, 2005, 00:44 GMT 05:44 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’محافظ نے قرآن کو ٹھوکر ماری‘
 
نیوز ویک نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ گونتانامو بے کے قید خانے میں قرآن کے ایک نسخے کو بیت الخلاء میں بہا دیا گیا
گونتانامو بے کے حراستی مرکز میں تعینات امریکی محافظوں نے نہ صرف قرآن کو پاؤں سے ٹھوکریں ماریں بلکہ بعض مواقع پر قرآن کے اوراق پر پانی اور پیشاب تک انڈیل دیا۔

پینٹاگون نے پانچ ایسے واقعات کی تفصیلات جاری کی ہیں جن میں گونتانامو بے میں تعینات امریکی فوجیوں نے فوجی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قرآن کی بے حرمتی کی۔

ایک واقعے میں ایک امریکی فوجی نے قرآن کی ایک جلد پر دو انگریزی الفاظ پر مشتمل کوئی فحش عبارت درج کر دی۔

پینٹاگون نے یہ تحقیقات امریکی میگزین نیوزویک میں گونتانامو بے میں قرآن کی بے حرمتی سے متعلق شائع ہونے والے ایک رپورٹ کے بعد شروع کی تھیں۔

نیوز ویک نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ گونتانامو بے کے قید خانے میں قرآن کے ایک نسخے کو بیت الخلاء میں بہا دیا گیا۔ میگزین نے بعد میں یہ رپورٹ واپس لے لی تھی اور کہا تھا کہ اس رپورٹ کو صحیح ثابت کرنے کے لیے مواد فراہم نہیں کیا جا سکتا۔

گونتانامو بے میں قائم امریکی حراستی مرکز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل جے ہُڈ کے مطابق جس قیدی نے قرآن کی بے حرمتی سے متعلق سب سے پہلے الزام لگایا تھا اس نے بعد میں اپنا بیان واپس لے لیا۔

نیوز ویک میں اس خبر کی اشاعت کے ساتھ ہی پوری مسلم دنیا میں زبر دست امریکہ مخالف احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

افغانستان میں اس خبر کی اشاعت کے بعد ہونے والے فسادات میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بش انتظامیہ نے نیوز ویک کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ اس نے مسلم دنیا میں امریکی شبیہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد