 | | | مشتری کی رنگین تصویریں پہلی بار جاری کی گئی ہیں |
امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے پہلی بار مشتری یعنی جوپیٹر کے رنگین نقشے جاریے کیے ہیں۔ یہ نقشے ان تصاویر کو یکجا کرکے تیار کیے گئے ہیں جو کیسینی مشن نے گیارہ اور بارہ دسمبر دوہزار کو مشتری کے قریب سے گزرتے وقت اتاری تھیں۔ کیسینی کے ذریعے اتاری گئیں تصویریں صرف دو رنگوں میں ہی تھیں۔ لیکن ناسا کے سائنسدانوں نے ان تصویروں پر مبنی جو نقشے تیار کیے ہیں انہیں اس طرح رنگین بناکر پیش کیا گیا ہے جیسے وہ آنکھوں کو دکھائی دیں گے۔ ان نقشوں میں مشتری کے شمالی اور جنوبی قطب کو بھی دکھایا گیا ہے۔ کیسینی مشن نے چھتیس تصویری فریم تیار کیے تھے جن کی بنیاد پر مشتری کا نقشہ تیار کیا گیا۔ کیسینی نے جب یہ تصاویر اتاری تھیں اس وقت وہ سیٹرن یعنی زحل کے لیئے مشتری کے قریب سے گزر رہا تھا۔ کیسینی مشن پہلی جولائی دوہزار چار کو زحل کے مدار کے دائرے میں پہنچ گیا۔  | | | اصلی تصویریں صرف دو رنگوں میں تھیں، انہیں بعد میں مزید رنگین بنایا گیا | نقشوں میں رنگین بادل، مساوی لائنوں میں چلنے والے سفید اور لال۔بھورے رنگ کے بینڈ، گریٹ ریڈ سپاٹ یعنی ایک بڑا لال نقطہ، کئی سطحوں پر بکھرے ہوئے علاقے وغیرہ دکھائی دیتے ہیں۔کئی بادل ہوا کے جھونکوں یا سمندر کی موجوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ یہ موجیں اور جھونکے مشتری کے فضا میں افراتفری کا نتیجہ ہوسکتے ہیں۔ سیارہ مشتری کو شمال اور جنوب میں نصف حصوں میں تقسیم کرنے والے خط استوا کے شمال میں کچھ چمکنے والے دھبے بھی دکھائی دیتے ہیں جو بجلی گرانے والے طوفان لگتے ہیں۔ حال ہی میں سائنسدانوں نے مشتری پر ایک ایسا لال نقطہ دیکھا ہے جو بڑا ہوتا جارہا ہے۔ لگتا ہے کہ اس طرح کے لال نقطے مشتری کے بادلوں میں طوفان ہیں تاہم سائنسدانوں کو نہیں معلوم ہے کہ یہ رنگ اس سیارے پر کیسے وجود میں آتا ہے۔
|