|
خاتون خلائی سیاح واپس پہنچ گئیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پہلی خاتون خلائی سیاح انوشے انصاری روسی راکٹ ’سویوز‘ پر بین الاقوامی خلائی سٹیشن تک سفر کے بعد واپس زمین پر پہنچ گئیں ہیں۔ ُانیس سالہ انوشے انصاری اران نژاد امریکی شہری ہیں اور انہوں نے اس خلائی مشن پر جانے کے لیئے بیس ملین ڈالر کی رقم ادا کی تھی۔ سویوز راکٹ جمعہ کی صبح قزاقستان میں ایک میدان میں اتر گیا۔ مِز انصاری کے شوہر حامد ان کا استقبال کرنے کے لیئے موجود تھے اور انہوں نے انہیں سرخ گلابوں کا گلدستہ بھی پیش کیا۔ خلائی سٹیشن سے واپسی کے سفر میں تین گھنٹے لگے۔ انوشے انصاری کے علاوہ امریکہ کے خلاباز جیف وِلیمز اور روس کے پاویل وینوگرادوو بھی اس مشن پر تھے۔ تینوں خلابازوں کو راکٹ سے کرسیوں پر اتارا گیا۔ انوشے انصاری نے کہا ’یہ لوگ مجھے خیریت سے واپس لے آئے ہیں۔‘ نے خبر رساں ادارے ٹاس کو بتایا کہ ’انوشے نے بڑی اچھی طرح سے کام کیا، وہ ٹیم کی فرد ہیں۔‘ جیف ولیمز نے کہا اس سفر کو ’زندگی کا منفرد سفر‘ قرار دیا۔ انوشے انصاری خلائی سیاحوں میں پہلی مسلمان اور خاتون ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ دس دن میرے لیئے شاندار رہے۔‘ انوشے انصاری خلاء میں جانے والی چوتھی سیاح ہیں۔ ان سے پہلے ڈینس ٹیٹو، مارک شٹلورتھ اور گریگ اولسن جا چکے ہیں۔ انوشے انصاری نے اس سفر پر جانے سے پہلے کہا تھا کہ ان کے جانے کا ایک مقصد خلا نوردی کے لیئے نجی سرمایہ کاری کے امکان کی تشہیر کرنا ہے۔ |
اسی بارے میں پہلا نجی جہاز، خلاء کیلیے تیار 19 June, 2004 | نیٹ سائنس خلا بازوں کے لیے راکٹ پر کھانا روانہ24 December, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||