’ہجوم چیخ رہا تھا کہ یہ عضو تناسل چوری کرتے ہیں‘: سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہیں جنھوں نے 80 افراد کی جان لے لی

    • مصنف, منگائی نگیگے
    • عہدہ, بی بی سی گلوبل ڈس انفارمیشن یونٹ
    • مصنف, الفریڈ لاسٹیک
    • عہدہ, بی بی سی افریقہ
    • مقام, ٹنڈوما
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

اکتوبر 2025 سے رواں سال جولائی تک چھ افریقی ممالک کی پولیس سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، بی بی سی گلوبل ڈس انفارمیشن یونٹ نے معلوم کیا ہے کہ ’اعضائے تناسل چرانے‘ کے جھوٹے الزامات کے باعث 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ واقعات ان افواہوں سے جڑے ہیں جن میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ کسی اجنبی کے چھونے یا کندھے پر ہاتھ رکھنے سے مرد کے اعضائے تناسل سکڑ سکتے ہیں یا غائب ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ ان دعوؤں کی کوئی سائنسی بنیاد موجود نہیں، لیکن سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط معلومات نے ان افواہوں کو مزید ہوا دی ہے۔

تنزانیہ کے مکینک بونفیس مگالا نے بی بی سی کو بتایا کہ اپریل میں ایک ہجوم نے انھیں اس شبہے میں تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ مبینہ طور پر اعضائے تناسل چرانے والوں میں شامل ہیں۔

انھوں نے کہا، ’لوگ چیخ رہے تھے کہ ہم نے کسی کے اعضائے تناسل چرا لیے ہیں۔ وہاں اتنا بڑا ہجوم تھا کہ ہمارے لیے بچ نکلنا ممکن نہیں تھا۔‘

بی بی سی کی جانب سے دیکھی گئی ویڈیوز میں بھی ایسے ہی مناظر سامنے آئے ہیں۔ ان میں بعض مرد دعویٰ کرتے ہیں کہ کسی اجنبی سے رابطے کے بعد ان کے اعضائے تناسل سکڑ گئے ہیں یا غائب ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد مشتعل ہجوم مبینہ ملزمان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ’چرائی گئی‘ چیز واپس کریں۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کے دعوؤں کی جڑیں پرانے توہمات اور جادو ٹونے سے متعلق عقائد میں ہیں، جو افریقہ کے بعض علاقوں میں آج بھی پائے جاتے ہیں۔ تاہم سوشل میڈیا نے خوف اور غلط فہمیوں کو پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

حالیہ افواہوں کی یہ لہر بظاہر گذشتہ سال جمہوریہ کانگو سے شروع ہوئی، جہاں 2008 میں بھی اسی نوعیت کے دعوے سامنے آ چکے تھے۔ بعد ازاں یہ افواہیں برونڈی، زیمبیا اور تنزانیہ سمیت موزمبیق، انگولا، ملاوی اور کینیا تک پھیل گئیں۔

زیمبیا میں اعضائے تناسل کے غائب ہونے سے متعلق افواہوں نے مارچ میں اس وقت شدت اختیار کی جب ایک خاتون ہجوم کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے کے بعد ہلاک ہو گئیں۔ اس کے بعد خوف و ہراس سرحد پار تنزانیہ تک جا پہنچا۔

زیمبیا کی سرحد کے قریب واقع مصروف تجارتی قصبے ٹنڈوما کے نزدیک اپنے گھر مپیمبا میں بیٹھے بونفیس مگالا سر کے دائیں جانب موجود درانتی نما زخم کے نشان پر انگلیاں پھیرتے ہوئے اپنا خوفناک تجربہ یاد کرتے ہیں۔

مگالا، جو پیشے کے اعتبار سے مکینک ہیں، کہتے ہیں، ’اگر مجھے معلوم ہوتا کہ اُس دن میں موت کے اتنا قریب پہنچ جاؤں گا تو میں کھانا کھانے کے لیے اُس ریستوران میں نہ جاتا۔ لیکن کوئی نہیں جانتا کہ موت کتنی قریب ہو سکتی ہے۔‘

وہ اور اُن کا ایک دوست یکم اپریل کو گاڑی کی فروخت کے سلسلے میں ایک گاہک سے ملنے ٹنڈوما گئے تھے اور ملاقات سے قبل دوپہر کا کھانا کھانے کے لیے ایک ریستوران میں رکے۔ تاہم وہ ابھی بیٹھے ہی تھے کہ ایک مشتعل ہجوم نے انھیں گھسیٹ کر باہر نکال لیا۔

ان کی ٹھوڑی پر موجود دو چھوٹے زخموں کے نشان اور ایک ٹوٹا ہوا دانت آج بھی اس حملے کی یاد دلاتے ہیں۔ تشدد کے دوران وہ بے ہوش ہو گئے تھے۔

مگالا کو دو دن بعد ہسپتال میں ہوش آیا، جہاں انھیں معلوم ہوا کہ اُن کا دوست جان کی بازی ہار چکا ہے۔

بیوی اور چار بچوں کے ساتھ گھر لوٹنے کے بعد سے وہ لنگڑا کر چلتے ہیں اور مسلسل سر درد کی شکایت کرتے ہیں۔ وہ اب تک اپنے مکینک کے کام پر واپس نہیں جا سکے، اگرچہ پڑوسیوں اور دوستوں نے ان کے علاج کے کچھ اخراجات میں مدد کی ہے۔

جس روز مگالا اور ان کے دوست پر حملہ ہوا، اسی دن تجارتی فوٹوگرافر اور کاروباری شخصیت مائیکل سیلاووے نے بھی ٹنڈوما میں اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ دیکھا۔ ان کے مطابق، ٹک ٹاک پر مبینہ طور پر ’چوری شدہ اعضائے تناسل‘ سے متعلق ویڈیوز کے پھیلاؤ کے بعد علاقے میں پہلے ہی خوف کی فضا قائم ہو چکی تھی۔

سیلاووے کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی دکان کے باہر لوگوں کو بھاگتے دیکھا۔ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ ایک شخص پر الزام لگا کر اسے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور بعد میں اسے آگ لگا دی گئی۔

23 سالہ سیلاووے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جیسے ہی اسے آگ لگائی گئی، پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لوگ منتشر ہو کر بھاگ گئے۔‘

بی بی سی گلوبل ڈس انفارمیشن یونٹ کی تصدیق کردہ ایک ویڈیو، جسے ٹک ٹاک اور فیس بک پر ایک لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا، میں ایک ہجوم کو ایک شخص کو مارتے اور اس سے مبینہ طور پر چرائے گئے اعضائے تناسل واپس کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

سیلاووے کہتے ہیں کہ ’ایسے واقعات بڑھتے گئے اور لوگ مسلسل تشدد کا نشانہ بنتے رہے۔‘ ان کے مطابق اُس وقت نوجوان طبقہ شدید خوف کا شکار تھا، تاہم اب وہ سمجھتے ہیں کہ ان افواہوں میں کوئی حقیقت نہیں۔

مومبا ضلع کے قصبے ٹنڈوما کی 50 سالہ درزی اور فیشن ڈیزائنر آشا سٹیون موکلیسا بھی اس رائے سے اتفاق کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے احساس ہوا کہ یہ بات درست نہیں تھی۔‘ تاہم ان کے خوف میں مکمل کمی نہیں آئی، خصوصاً جب ان کے شوہر یا بیٹے گھر سے باہر ہوتے ہیں۔ البتہ وہ اس بات پر اطمینان کا اظہار کرتی ہیں کہ پولیس اب باقاعدہ گشت کر رہی ہے۔

ضلع مومبا کے کمشنر الیاس ڈینیئل موانڈوبو کے مطابق مقامی تحقیقات سے اشارہ ملا ہے کہ بعض واقعات کے پیچھے دانستہ مجرمانہ مقاصد کارفرما تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’کچھ عناصر نے ذاتی مفادات کے لیے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی۔‘

دارالسلام میں بنائی گئی ایک اور ویڈیو میں ایک ہجوم کو ایک شخص کو گرد آلود بازار کی سڑک پر گھسیٹتے، پکڑتے اور مارتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ وہ اس سے اعضائے تناسل واپس کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور وہ شخص مسلسل اپنی بے گناہی کا دعویٰ کرتا رہتا ہے۔

بی بی سی ڈس انفارمیشن یونٹ نے موزمبیق اور کینیا میں پیش آنے والے اسی نوعیت کے حملوں کی ویڈیوز کی بھی تصدیق کی ہے۔

ٹک ٹاک اور فیس بک پر ہجومی تشدد کی درجنوں ویڈیوز، مبینہ عینی شاہدین کے بیانات، انتباہی پیغامات اور ایسے کلپس گردش کر رہے ہیں جنھیں مخصوص علاقوں میں پیش آنے والے حقیقی واقعات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

بی بی سی کے تجزیے میں شامل متعدد پوسٹس، جن میں بعض ہجومی تشدد کی تصاویر اور ویڈیوز بھی شامل ہیں، اب بھی آن لائن موجود ہیں۔

میٹا کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’ہم ہمارے ساتھ شیئر کیے گئے مواد کا جائزہ لے رہے ہیں اور جو مواد ہماری پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتا پایا جائے گا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘

ٹک ٹاک نے اس معاملے پر بی بی سی کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

کچھ سوشل میڈیا صارفین عوام کو محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا وہ خود ان دعوؤں پر یقین رکھتے ہیں یا محض زیادہ توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب بعض صارفین ایسے مبینہ تعویذات کی تشہیر بھی کرتے ہیں جو ان کے بقول اعضائے تناسل کی ’چوری‘ سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، جبکہ مزاح نگار اس موضوع پر طنزیہ اور مزاحیہ ویڈیوز بنا رہے ہیں۔

مصنف جولیاں بونوم کے مطابق سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا افواہوں کو تیزی سے وسیع پیمانے پر پھیلاتے ہیں اور ایک بار پھیل جانے کے بعد ان پر قابو پانا کہیں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

ان کی کتاب ’دی سیکس تھیوز: دی اینتھروپالوجی آف اے رومر‘ میں یہ جائزہ لیا گیا ہے کہ ’جنسی چوروں‘ سے متعلق افواہیں کیسے جنم لیتی اور پھیلتی ہیں اور لوگ ان پر کیوں یقین کرتے ہیں۔

بونوم کے مطابق لوگ صرف یہ نہیں سنتے کہ کسی کے اعضائے تناسل غائب ہو گئے ہیں بلکہ وہ ایسے افراد کو براہ راست اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا دعویٰ کرتے ہوئے بھی دیکھتے ہیں، یا پھر ہجوم کو ان الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

ان کے بقول سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز غیر مصدقہ دعوؤں کو زیادہ قابلِ یقین بنا سکتی ہیں کیونکہ ان کا اثر فوری ہوتا ہے۔ وہ اسے موجودہ ڈیجیٹل ماحول اور ماضی میں پھیلنے والی ایسی افواہوں کے درمیان ’سب سے اہم فرقوں میں سے ایک‘ قرار دیتے ہیں۔

موزمبیق کا شمالی صوبہ کابو ڈیلگاڈو، جہاں جاری بدامنی کے باعث بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، ان افواہوں اور ان کے نتیجے میں جنم لینے والے خوف سے خاص طور پر متاثر ہوا ہے۔

سب سے زیادہ متاثرہ ملک موزمبیق رہا، جہاں پولیس نے مئی میں بتایا تھا کہ چھ ہفتوں کے دوران 55 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک پولیس اہلکار، طبی کارکن اور سرکاری ملازمین بھی شامل تھے۔

موزمبیق کے صدر ڈینیئل چاپو نے ان افواہوں اور ان سے جڑی ہلاکتوں کی عوامی سطح پر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دعوے بے بنیاد ہیں اور حکومت کو ایسا کوئی طبی ثبوت نہیں ملا جس سے ظاہر ہو کہ کسی شخص کے جسم کا کوئی حصہ غائب ہوا ہو۔

اپریل میں صوبہ کابو ڈیلگاڈو میں دو طبی کارکنوں کے گھروں اور کام کی جگہوں پر حملے کیے گئے تھے۔ یہ صوبہ تنزانیہ کی سرحد سے متصل ہے اور تقریباً ایک دہائی سے شورش کا شکار رہا ہے۔

ان حملوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں صحت کی کئی سہولیات ہفتوں تک بند رہیں، جبکہ حکام نے افواہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عوامی آگاہی مہم شروع کی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ بعض خدشات کا تعلق ’کورو سنڈروم‘ نامی ایک نفسیاتی عارضے سے ہو سکتا ہے، جس میں افراد کو یہ خوف لاحق ہو جاتا ہے کہ ان کے اعضائے تناسل سکڑ رہے ہیں یا غائب ہو رہے ہیں۔

حالیہ تشدد کے واقعات کینیا میں بھی پیش آئے، جہاں ساحلی کاؤنٹیوں کوالے اور ممباسا میں ہجوم نے پانچ افراد کو ہلاک کر دیا۔

جولائی میں پہلی رپورٹس سامنے آنے کے بعد ممباسا کاؤنٹی کے کمشنر محمد نور نے بعض سوشل میڈیا مواد تخلیق کرنے والوں پر الزام عائد کیا کہ وہ زیادہ توجہ حاصل کرنے کے لیے ان دعوؤں کو ہوا دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سب ’صرف توجہ اور زیادہ ناظرین حاصل کرنے‘ کی کوشش ہے۔

محمد نور نے بی بی سی سے گفتگو میں خبردار کیا کہ ’اس نوعیت کی غلط معلومات آسانی سے قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہیں۔‘ ان کے مطابق پولیس نے بعد میں صورت حال پر قابو پا لیا اور متعدد افراد کو گرفتار کیا، جن میں ایک باپ اور بیٹا بھی شامل تھے۔ دونوں کو ایک خاتون پر حملے کا اعتراف کرنے کے بعد ایک سال قید کی سزا سنائی گئی۔ انھوں نے اس خاتون پر مردوں کے اعضائے تناسل غائب کرنے کا الزام لگایا تھا۔

اسی نوعیت کے دعوؤں نے پڑوسی ملک ملاوی میں بھی ہجومی تشدد کو جنم دیا، جہاں آٹھ افراد جان سے گئے۔ تنزانیہ کے شہر ٹنڈوما میں مکینک مگالا جسمانی طور پر تو حملے کے اثرات سے صحت یاب ہو رہے ہیں، لیکن نفسیاتی صدمہ اب بھی ان کے ساتھ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’آج بھی جب میں اپنے دوست کی بے معنی موت کے بارے میں سوچتا ہوں تو شدید دکھ محسوس کرتا ہوں، کیونکہ مجھے اب تک سمجھ نہیں آئی کہ آخر ہو کیا رہا تھا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص اچانک بغیر کسی وجہ کے ہجوم کے نشانے پر آ جائے اور پھر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے؟‘