امرتیا سین کی بھارت رتن لوٹانے کی پیشکش

بھارتی میڈیا میں نوبل انعام یافتہ امرتیا سین کی طرف سے بھارت کے اعلی ترین شہری اعزاز ’بھارت رتن‘ کو لوٹانے کی پیش کش پر بحث جاری ہے۔
واضح رہے کہ انھوں نے ’بھارت رتن‘ لوٹانے کی بات گجرات کے وزیر اعلی کے بارے میں متنازعہ بیان پر تنقید کے بعد دیا ہے۔
خبروں کے مطابق ماہر معاشیات امرتیا سین نے کہا تھا کہ وہ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو ملک کے وزیر اعظم کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔
نریندر مودی بھارت میں حزب اختلاف کے اہم رہنما ہیں اور آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات میں پارٹی کے انتخابی سربراہ ہیں۔
اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق ان کے اس بیان پر بی جے پی کے پارلیمان اور صحافی چندن مترا نے تنقید کرتے ہوئے ان سے بھارت رتن لوٹانے کی بات کی تھی جس کے جواب میں نوبل انعام یافتہ سین نے اس ایوارڈ کو لوٹانے کی بات کی تھی۔
اخبار کے مطابق امرتیہ سین نے کہا: ’چندن مترا کو معلوم ہونا چاہیے کہ بھارت رتن مجھے بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے دیا تھا اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے اپنے ہاتھوں سے اسے مجھے دیا تھا۔ اگر مسٹر واجپائی کہیں گے کہ اسے لوٹا دو تو میں اسے ضرور لوٹا دوں گا۔‘
مبصرین کا کہنا ہے کہ نریندر مودی اکثر سیاسی رائے عامہ کو تقسیم کر دیتے ہیں اور انھوں نے اپنی ریاست گجرات میں 2002 کے مسلم کش فسادات کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ان فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔ مودی نے ہمیشہ اس بات کی تردید کی ہے۔
ایک دوسرے سرکردہ اخبار دا انڈین ایکسپریس نے لکھا ہے کہ بی جے پی نے خود کو چندن مترا کے بیان سے یہ کہتے ہوئے علیحدہ رکھنے کی کوشش کی ہے کہ یہ ان کا ذاتی بیان ہے۔ لیکن حکمراں جماعت کانگریس کا کہنا ہے کہ چندن مترا کا بیان بی جے پی کی ’فاشسٹ ذہنیت‘ کا ترجمان ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک ٹی وی چینل آئی بی این7 پر امرتیا سین نے کہا تھا: ’ہم ہندوستانی ایسی صورتحال نہیں چاہتے جہاں اقلیت خود کو غیر محفوظ محسوس کریں اور سوچیں کہ 2002 میں ان کے خلاف منظم تشدد ہوئے تھے۔ یہ ایک خوفناک ریکارڈ ہے۔ ایک بھارتی شہری ہونے کے ناطے میں ایسا وزیراعظم نہیں چاہوں گا جس کا ایسا ریکارڈ ہو۔‘
گجرات کی ترقی کے ماڈل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا: ’گجرات میں بنیادی ڈھانچہ ٹھیک ہو سکتا ہے لیکن اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ وہاں تعلیم اور صحت کی حالت بدتر ہے۔ انہیں ان پر توجہ دینا چاہئے۔‘
اس کے جواب میں ایک دوسرے سرکردہ ماہر اقتصادیات جگدیش بھگوتی نے منٹ اخبار میں شائع ایک کالم میں لکھا: ’گجرات نے ترقی کی ہے اور اس کے سماجی اشاریوں میں بھی قابل ذکر تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ کیرالہ کسی بھی طرح ترقی کا ماڈل نہیں ہو سکتا جس کی مثال سین طویل عرصے سے دیتے آئے ہیں۔ اب وہ بنگلہ دیش کی بات کرتے ہیں لیکن وہ بھی ترقی کا مثالی ماڈل نہیں ہے۔‘



















