BBCUrdu.com
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
ہر لحاظ سے بڑا انتخاب
 

 
 
انتخابی پوسٹر
انتخابی پوسٹر پر واجپئی اور اڈوانی کی تصویر
بھارت میں الیکشن 2004 کا پانچواں، آخری اور سب سے بڑا مرحلہ مکمل ہوا جس میں بارہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام چار علاقوں میں بیس کروڑ کے لگ بھگ ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

اب جنتا آئندہ تین دن تک چین کی نیند سو سکے گی جبکہ نیتا تیرہ مئی کے انتظار میں انگلیاں چٹخاتے ہوئے جاگیں گے۔

ان انتخابات کے نتیجے میں کئی نئی اور دلچسپ چیزیں بھی سامنے آئی ہیں۔ مثال کے طور پر چودھویں لوک سبھا کے لئے ہونے والے یہ انتخابات اب تک کے سب سے مہنگے انتخابات تھے۔

اس کا اندازہ یوں لگائیے کہ 1966 میں جو انتخابات ہوئے ان پر تقریباً دو کروڑ روپے خرچہ آیا تھا مگر 2004 کے انتخابات پر سرکاری اخراجات کا تخمینہ بارہ سو سے چودہ سو کروڑ روپے کے درمیان لگایا گیا ہے۔

آٹھ لاکھ ٹن کاغذ صرف بیلٹ پیپر اور ووٹروں کو ووٹ دینے کی ترکیب دینے والے اشتہارات میں استعمال ہوا ہے جبکہ امیدواروں نے جو کاغذ استعمال کیا ہے وہ الگ ہے۔

سونیا گاندھی

تقریباً ایک ارب روپے کے انتخابی اشتہارات ٹی وی چینلز پر چلے ہیں اور اخباری اشتہارات اس کے علاوہ ہیں۔

لاکھوں موبائل فونوں پر وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کا ریکارڈڈ میسج بھیجا گیا، خود وزیراعظم نے ہزاروں ووٹروں کو ذاتی طور پر فون کئے، ان انتخابات میں کھڑے ہونے والے ساڑھے پانچ ہزار امیدواروں نے گھر گھر جا کر مہم چلانے کے علاوہ ووٹروں کو ذاتی خطوط بھی لکھے۔

دہلی میں ایک امیدوار نے اپنے حلقے کے تقریباً دو لاکھ ووٹروں کو ذاتی خطوط بھیجے۔

جتنا سٹہ ان انتخابات میں لگا ہے شاید ہی کبھی لگا ہو۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے انتخابات کے آخری مرحلے میں دارالحکومت دہلی کے سٹہ مرکز یعنی چاندنی چوک کے سٹہ کھیلانے والوں کا اندازہ ہے کہ سولہ سو کروڑ سے اٹھارہ سو کروڑ روپے تک کی رقم داؤ پر لگی ہوئی ہے۔

نفیسہ علی

اس میں صرف دہلی کی پانچ نشستوں پر پانچ سو کروڑ روپے تک کا سٹہ لگا ہے۔ سب سے زیادہ بھاؤ اس بات پر ہے کہ وزیراعظم واجپئی چوتھی مرتبہ وزیراعظم بنیں گے یا نہیں۔

یہ انتخابات اس لئے بھی یاد رکھے جائیں گے کہ شو بِزنس کی شخصیات کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ بڑی تعداد میں میدان میں اتارا گیا ہے۔

دھرمیندر، ونود کھنہ اور ٹی وی سٹار سمیتری ایرانی نے اگر بی جے پی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا تو سنیل دت، گووندا، موسمی چٹرجی اور نفیسہ علی کانگریس کے پلیٹ فارم سے امیدوار تھے۔ جبکہ سماج وادی پارٹی نے جیا پرادہ اور راج ببر کو میدان میں اتارا۔

مجمع کھینچنے کے لئے اگر بی جے پی نے شترو گھن سنہا، ہیما مالینی، سنی دیول، سنیل شیٹھی، سریش اوبرائے اور ان کے صاحبزادے ویوک اوبرائے کو استعمال کیا تو اثرانی اور نغمہ کو کانگریس نے سٹیج پر چڑھایا اور پونم ڈھلوں کو شیو سینا کی طرف سے ووٹروں کا دل گرمانے پر معمور کیا گیا۔

نئی نویلی ریاست اترآنچل جہاں پہلی مرتبہ لوک سبھا کے انتخابات ہو رہے ہیں، وہاں بی جے پی نے اگر ریٹائرڈ میجر جنرل کھنڈروی کو میدان میں اتارا تو گانگریس نے مقابلے میں ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ٹی پی ایس روات کو کھڑا کر دیا۔

انتخابی مہم میں لوگوں کا جوش و خروش

ہر امیدوار خواہ وہ سیکولر ہو یا قوم پرست، کسی بھی مشہور مندر یا درگاہ پر ماتھا ٹیکنا نہیں بھولا۔

اٹل بہاری واجپئی نے اگر گوہاٹی کے کمشکایا مندر کے باہر سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا تو ایل کے اڈوانی نے خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ پر ماتھا ٹیکا۔

لیکن اس سب کے باوجود ووٹر ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہوا۔ انتخابی پنڈتوں کا اندازہ ہے کہ الیکشن 2004 میں یہ ریکارڈ بھی قائم ہو گا کہ مجموعی طور پر ووٹروں نے اس میں سب سے زیادہ عدم دلچسپی کا اظہار کیا۔

اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ سونیا گاندھی نے دہلی کے رام لیلا میدان میں جو آخری انتخابی ریلی کی اس میں آٹھ ہزار سے دس ہزار کے درمیان لوگ آئے تھے جبکہ حکمراں این ڈی اے کے سب سے بڑے سٹار اٹل بہاری واجپئی لکھنؤ کے حلقے میں اور گجرات میں گاندھی نگر سے لڑنے والے ایل کے اڈوانی کے حلقے میں چالیس فیصد سے بھی کم ووٹ پڑے حالانکہ اس سے پہلے کے ہر انتخاب میں ووٹنگ کا تناسب پچاس فیصد سے زائد رہا ہے۔

ان حالات میں نیتاؤں کا دھیان بھگوان کی طرف پہلے سے کہیں زیادہ ہو گیا ہے۔

ایل کے اڈوانی اور اٹل بہاری واجپئی

انتخابی مہم کے خاتمے کے بعد زیادہ تر امیدواروں نے مندروں اور درگاہوں کا رخ کیا، کچھ نے تو دریاؤں میں ڈبکیاں بھی لگائی ہیں۔

رائے عامہ کا کوئی بھی جائزہ حکمراں این ڈی اے کو دو سو ساٹھ سے زائد نشستیں دینے پر تیار نہیں جبکہ کانگریس کے بارے میں اندازہ ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ ایک سو اسی نشستیں مل سکیں گی۔

باقی نشستیں علاقائی جماعتوں میں بٹ جائیں گی۔ کسی بھی جماعت یا اتحاد کو حکومت بنانے کے لئے کم از کم دو سو بہتر نشستیں درکار ہیں۔

بی جے پی کو یقین ہے کہ حکومت اس بار بھی اسی کی بنے گی۔ اس یقین کی وجہ تیرہ کا ’ہندسہ‘ ہے۔ بی جے پی کے ایک ورکر کے بقول واجپئی انیس سو چھیانوے میں پہلی مرتبہ تیرہ دن کے لئے وزیراعظم بنے، انیس سو اٹھانوے میں دوسری مرتبہ واجپئی سرکار تیرہ مہینے تک چلی، انیس سو ننانوے میں واجپئی جب تیرہویں لوک سبھا کے انتخاب کے نتیجے میں وزیراعظم بنے تو انہوں نے پانچ سال پورے کئےاور اب چودہویں لوک سبھا کے نتائج تیرہ مئی کو آئیں گے۔۔۔ کیا سمجھے۔۔۔؟

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد