|
میڈل کی نقل بھارت کے حوالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سویڈن کی حکومت نےہندوستان کی حکومت کو رابندر ناتھ ٹیگور کے نوبیل میڈل کی ہو بہو نقل پیش کی ہے۔ ٹیگور کا نوبیل میڈل مغربی بنگال کی وشو بھارتی یونیورسٹی کے میوزیم سے چوری ہوگیا تھا۔ سویڈین کے وزیرخارجہ ہینس ڈلگرین نوبیل میڈل کی نقل ہندوستان کو پیش کرنے کے لۓ خصوصی طور پر دلی آۓ ہیں۔ انہوں نے وزارت خارجہ کے دفتر میں ایک سادہ تقریب میں کہا کہ ٹیگور کا میڈل چوری ہونے پر پورے ہندوستان میں غم کا اظہار کیا گیا تھا۔ یہ سویڈن کے لۓاعزازکی بات ہے کہ وہ ٹیگور کا میڈل دوبارہ پیش کر رہا ہے۔ سویڈین نے میڈل کی دو نقول پیش کی ہیں ۔ ایک میڈل سونے کا ہے جبکہ دوسرا کانسی کا ۔ ڈلگرین نے بتایا کہ یہ نقول اصل کی مشابہ ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ہندوستان کی طرف سے یہ میڈل وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے قبول کیے۔ انہوں نے کہا کہ رابندر ناتھ ٹیگور نہ صرف پہلے ہندوستانی بلکہ پہلے ایشیائی تھے جنہیں نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا۔ یہ اعزاز نہ صرف ٹیگور کی شاعرانہ عظمت بلکہ اس وقت ہندوستان میں جاری ثقافتی نشاۃ ثانیہ کے اعتراف میں دیا گيا تھا۔
نوبیل انعام ٹیگور کو انکی شاعرانہ تخلیق گیتا نجلی کے لیۓ 1913 میں دیا گیا تھا۔نوبیل انعام اور ٹیگور کے کئی دیگر فن پارے اس سال 25 مارچ کو وشوبھارتی یونیورسٹی سے چوری ہوگئے تھے۔ یہ معاملہ سی بی آئی کے حوالے کردیا گیا لیکن میڈل کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ ٹیگور کے بعد ہندوستان کے سائنسدان سی وی رمن کو 1930 میں فزکس کا نوبیل انعام ملا۔ 1986 میں ڈاکٹر ہر گوبند کھورانہ کو میڈیسن کےشعبے میں نوبیل انعام سے نوازا گیا۔سبرامنیم چندر شیکھر کو فزکس میں انکی خدمات کے لیۓ 1983 میں نوبیل انعام دیا گیا۔1997 میں مدر ٹریسا کو امن نوبیل انعام ملا۔ ڈاکٹر امرتیا سین کو 1998میں اکنامکس کے شعبے میں نوبیل انعام ملا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||