لائیو, نیپال میں سیلاب سے 750 سے زیادہ اموات: پانچ سالہ بچی دو دن بعد ملبے سے زندہ نکال لی گئی
نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 752 ہو گئی ہے۔ ادارے کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2,502 افراد لاپتا ہیں، جبکہ اس سے پہلے یہ تعداد 2,498 بتائی گئی تھی۔
خلاصہ
نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق ملک میں تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 752 ہو گئی ہے، جبکہ 2,5000 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
مغربی کنارے میں آبادکاروں کا قُصرہ پر حملہ 'جرائم پر مبنی تشدد' قرار: نیتن یاہو کی مذمت
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریبآبادی کے مطابق ’آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھلے گی جب تک امریکہ اپنے وعدے پورے نہیں کرتا۔‘
’ہمیں لگا بلی کی آواز آ رہی ہے‘، ملبے سے زندہ نکالی گئی بچی والدین سے مل گئی, آزادہ مشیری اور اینڈریو کلیرنس، بی بی سی نیوز، کٹھمنڈو
،ویڈیو کیپشنانتباہ: وہ مناظر جب پانچ سالہ بچی کو نیپال میں سیلاب کے دو روز بعد ملبے سے نکالا گیا
نیپال میں تباہ کن اچانک سیلاب کے دو روز بعد ملبے تلے سے زندہ نکالی جانے والی پانچ سالہ بچی اپنے والدین سے ہسپتال میں جا ملی ہے۔ ہسپتال حکام کے مطابق منیشا نامی بچی کی حالت اب مستحکم ہے اور وہ دارالحکومت کھٹمنڈو کے ٹیچنگ ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔
ریسکیو اہلکار ضلع راسووا کے علاقے سیابروبیسی کے قریب زندہ بچ جانے والے افراد کی تلاش کر رہے تھے کہ انھیں ملبے کے نیچے کسی بلی کے پھنسے ہونے جیسی آواز سنائی دی۔
نیپال کی آرمڈ پولیس فورس کے اہلکار سنجو کھتری کے مطابق امدادی ٹیموں نے علاقے کی تلاشی لی اور ملبہ ہٹانا شروع کیا، جس کے دوران انھیں منیشا ملبے تلے پھنسی ہوئی ملی۔ بچی کو نکالنے کی کارروائی میں تقریباً دو گھنٹے لگے اور آخرکار اسے زندہ ملبے سے باہر نکال لیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ جب منیشا کو نکالا گیا تو وہ زندہ تھی لیکن بمشکل جواب دے رہی تھی۔ امدادی کارکنوں نے اسے فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم خراب موسم کے باعث ایسا ممکن نہ ہو سکا۔
بعد ازاں اسے ریسکیو کیمپ لے جایا گیا جہاں اسے پانی پلایا گیا۔ کچھ دیر بعد اس نے ہوش سنبھال لیا، جس کے بعد امدادی کارکنوں نے اس کی جسمانی حالت بہتر بنانے کے لیے اسے چاول کا ابلا ہوا پانی پلانا شروع کیا۔
حکام کے مطابق منیشا شدید ذہنی صدمے کا شکار تھی، تاہم سنیچر کی دوپہر اسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کھٹمنڈو کے ٹیچنگ ہسپتال کے شعبۂ اطفال منتقل کر دیا گیا۔
ہسپتال نے اتوار کو جاری کیے گئے تازہ بیان میں بتایا کہ منیشا کی صحت بہتر ہو رہی ہے اور وہ صحت یابی کی جانب گامزن ہے۔
اسحاق ڈار سرکاری دورے پر استنبول پہنچ گئے
،تصویر کا ذریعہMOFA
پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سنیچر کے روز سرکاری مصروفیات کے سلسلے میں ترکی کے شہر استنبول پہنچ گئے ہیں۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق استنبول پہنچنے پر ان کا استقبال ترکی کے ڈپٹی چیف آف سٹاف برائے انتظامیہ بریگیڈیئر جنرل شینول وارول، ترکی میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید، ترک وزارتِ خارجہ کے سفیر جہاد ارگینائے اور ترک حکومت کے دیگر اعلیٰ حکام نے کیا۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسحاق ڈار ترکی میں مختلف سرکاری سرگرمیوں اور ملاقاتوں میں شرکت کریں گے۔
ریسکیو کے لیے ہیلی کاپٹروں کی پروازیں جاری، لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ اب بھی کسی خبر کے منتظر
،تصویر کا ذریعہReuters
نئی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیلاب کے پانچ روز بعد بھی امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔
نوواکوٹ ضلع میں واقع ایک فوجی کیمپ میں فوجیوں کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے نکالے گئے بچوں کو محفوظ مقام تک پہنچاتے دیکھا جا سکتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ اب بھی کیمپ کے باہر منتظر ہیں اور اپنے پیاروں کے بارے میں کسی خبر کے لیے بے چینی سے امید لگائے ہوئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ریسکیو آپریشن میں ہیلی کاپٹر کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
نیپال کے وزیرِ خارجہ نے گذشتہ روز کہا تھا کہ بعض متاثرہ علاقے دلدلی زمین میں تبدیل ہو گئے ہیں، جس کے باعث وہاں زمینی راستے سے پہنچنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 752 ہو گئی، لاپتا افراد کی تعداد 2,500 سے تجاوز
،تصویر کا ذریعہReuters
نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 752 ہو گئی ہے۔
اس سے قبل این ڈی آر آر ایم اے اور نیپال پولیس نے 734 ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔
ادارے کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2,502 افراد لاپتا ہیں، جبکہ اس سے پہلے یہ تعداد 2,498 بتائی گئی تھی۔
دوسرا سیلاب پہلے سے کم شدت کا ہونے کے باوجود سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے: ماہرین کی تنبیہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سیلاب سے متعلق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ’نیپال اور تبت میں فوری تشویش کی بات یہ ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب نے مزید نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔‘
یونیورسٹی آف ریڈنگ میں سیلاب کی پیشگی وارننگ اور آفات کے خطرات پر تحقیق کرنے والے ماہر جیف ڈا کوستا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’قدرتی آفت کے نتیجے میں بہہ کر آنے والے ملبے نے دریاؤں کا راستہ روک دیا ہے اور بالائی علاقوں میں نئی جھیلیں بن گئی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’دوسرے سیلاب کا پہلا سیلاب جتنا بڑا ہونا ضروری نہیں تاکہ وہ سنگین اثرات مرتب کر سکے۔‘
ڈا کوستا کے مطابق ’اب یہ نگرانی کرنا انتہائی اہم ہے کہ علاقے میں بننے والی جھیلوں اور پانی روکنے والی رکاوٹوں میں کس طرح تبدیلی آ رہی ہے اور وہ کہاں پھٹ سکتی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’چین اور نیپال کے لیے ضروری ہے کہ وہ نگرانی سے متعلق معلومات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں کیونکہ بالائی علاقوں میں ہونے والی صورتحال سرحد کے دوسری جانب لوگوں کو بہت تیزی سے متاثر کر سکتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’معلومات بھی اسی رفتار سے منتقل ہونی چاہییں تاکہ زمینی سطح پر بروقت اور عملی فیصلے کیے جا سکیں۔‘
ڈا کوستا نے کہا کہ ’موسمیاتی تبدیلی بھی اس قدرتی آفت کے پس منظر میں ایک اہم عنصر ہے، کیونکہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہمالیہ بھر میں گلیشیئرز، مستقل جمی ہوئی زمین (پرما فراسٹ) اور پہاڑی ڈھلوانوں کے استحکام کو تبدیل کر رہا ہے۔‘
تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ’مزید تجزیے کے بغیر اس آفت کو براہِ راست موسمیاتی تبدیلی سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔‘
تبت میں تباہی کی شدت کا اندازہ لگانا مشکل کیوں ہے؟
،تصویر کا ذریعہReuters
تبت چین کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں سخت حکومتی کنٹرول ہے۔ چین نے سنہ 1950 کی دہائی میں اس خطے پر اپنا کنٹرول قائم کیا تھا۔
تبت میں طویل عرصے سے زیادہ خودمختاری کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے اور چین وہاں کسی بھی قسم کے احتجاج یا بدامنی کے حوالے سے انتہائی محتاط رہتا ہے۔
اسی وجہ سے حالیہ قدرتی آفت کے بعد چینی صدر شی جن پنگ نے خود امدادی کارروائیوں کے حوالے سے ہدایات جاری کی ہیں۔
وزیراعظم لی چیانگ بھی جمعرات کو متاثرہ علاقے میں پہنچے۔ بڑے پیمانے کی کسی قدرتی آفت کے فوراً بعد ان کا اتنی جلدی متاثرہ علاقے کا دورہ کرنا غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
تبت میں داخلہ آسان نہیں۔ غیر ملکیوں کو وہاں جانے کے لیے خصوصی ویزا اور اجازت نامے درکار ہوتے ہیں، جبکہ غیر ملکی میڈیا کے لیے بھی تبت تک رسائی انتہائی مشکل ہے۔ وہاں مقامی لوگوں سے رابطہ کرنا بھی آسان نہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسی وجہ سے اس وقت تبت میں ہونے والی تباہی کی اصل شدت کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے۔ وہاں کی صورتحال جاننے کے لیے بڑی حد تک چینی سرکاری میڈیا کی رپورٹس پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
نیپال سے مقدس پہاڑ کیلاش جانے والے زائرین کو بھی تبت میں داخلے کے لیے چار مختلف اجازت نامے حاصل کرنا پڑتے ہیں، جن میں چینی فوج کی خصوصی اجازت بھی شامل ہے۔
چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق سنیچر کی شام 6 بجے تک تبت میں مٹی کے تودے گرنے کے واقعات میں 16 افراد ہلاک جبکہ 546 افراد لاپتہ ہیں، جن میں 226 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔
نیپال اور تبت میں سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈ کی تباہ کاریوں کے مناظر سے چین کے بیشتر عوام لاعلم کیوں ہیں؟
سوئٹزرلینڈ میں تقریب کے دوران فائرنگ، ایک شخص ہلاک، پانچ زخمی
،تصویر کا ذریعہEPA
سوئٹزرلینڈ کے شمالی علاقے میں رات گئے ایک تقریب کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں۔
مقامی پولیس کے مطابق واقعے کے بعد نامعلوم حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔ آؤرگاؤ کینٹونل پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’نامعلوم ملزم کی تلاش کے لیے کارروائی جاری ہے۔‘
پولیس کے مطابق فائرنگ کے محرکات اور واقعے کے درست حالات تاحال واضح نہیں ہیں۔
پولیس نے سوئس میڈیا کو بتایا کہ ’فائرنگ آؤراؤ کے علاقے شاخن میں گھوڑوں کی دوڑ کے میدان کے قریب ہوئی، جو زیورخ سے تقریباً 46 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ علاقے میں اتوار کی صبح تک ایک ریَیو (Rave) پارٹی جاری رہنے والی تھی۔
پولیس نے گھوڑوں کی دوڑ کے میدان، شہر کے سوئمنگ پول اور کھیل کے میدان کے اطراف کا علاقہ گھیرے میں لے لیا ہے اور عوام سے وہاں جانے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔ پولیس کے مطابق احتیاطی طور پر آؤراؤ سے باہر بھی بڑی تعداد میں اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
پولیس نے عینی شاہدین سے اپیل کی ہے کہ وہ جائے وقوعہ سے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز حکام کے ساتھ شیئر کریں۔
اتوار کی صبح آؤراؤ سے سامنے آنے والی تصاویر میں علاقے میں پولیس کی بھاری نفری موجود دکھائی دی، جبکہ ایک بکتر بند گاڑی نے سڑک کو بند کر رکھا تھا۔
نشریاتی ادارے ایس آر ایف کے مطابق پولیس اور فائر بریگیڈ کے اہلکاروں کے علاوہ علاقائی ڈیزاسٹر رسپانس یونٹ کو بھی کارروائی میں شامل کیا گیا۔ ایس آر ایف نے بتایا کہ ’علی الصبح سوئس فوج کا ایک ہیلی کاپٹر بھی علاقے کا فضائی جائزہ لیتا دیکھا گیا۔‘
پمز ہسپتال میں اہم انتظامی تبدیلیاں، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت متعدد افسران معطل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں اہم انتظامی تبدیلیاں کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت متعدد اعلیٰ عہدیداروں کو معطل کر دیا ہے، جبکہ مختلف عہدوں پر نئی تقرریوں کے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر (بی ایس-21) پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر کو سول سرونٹس (ایفیشینسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے ضابطہ 5 کے تحت ابتدائی طور پر 120 دن کے لیے معطل کیا گیا ہے۔
حکومت نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) اسلام آباد کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمد سلمان کی خدمات پمز کے سپرد کرتے ہوئے انھیں ڈیپوٹیشن پر نیا ایگزیکٹو ڈائریکٹر (بی ایس-21) مقرر کیا ہے۔ ڈاکٹر محمد سلمان این آئی ایچ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا اضافی چارج بھی سنبھالیں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پمز کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر (نان میڈیکل) چوہدری وارث علی رضا کو بھی ضابطہ 5 کے تحت 120 دن کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر نوشیلا امجد، پروفیسر و سربراہ شعبہ امراضِ نسواں و زچگی، ڈاکٹر مطاہر شاہ، ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر چلڈرن ہسپتال، ڈاکٹر نگار نواز، سینئر رجسٹرار شعبہ امراضِ نسواں و زچگی، ڈاکٹر سعدیہ ریاض، ایسوسی ایٹ پروفیسر پیڈیاٹرکس اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی محمد عثمان کو بھی معطل کیا گیا ہے۔
حکومت نے پمز میں مختلف عہدوں پر نئی ذمہ داریاں بھی تفویض کی ہیں۔ ڈاکٹر نزهت یاسمین کو چلڈرن ہسپتال کا جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر جبکہ ڈاکٹر الطاف حسین کو جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر (نان میڈیکل) کا چارج سونپا گیا ہے۔
اسی طرح ڈاکٹر شمائلہ کو پروفیسر و سربراہ شعبہ امراضِ نسواں و زچگی مقرر کیا گیا ہے، جبکہ چارج نرس مس نسرین اور لیڈ سکیورٹی سٹاف مس ماریہ کو فوری طور پر پمز کے ایڈمن پول میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری تمام احکامات فوری طور پر نافذ العمل قرار دیے گئے ہیں۔
میناب سکول سانحہ ایران کے لیے کبھی نہ بھرنے والا زخم ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہIRNA
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے میناب سکول سانحے کو ملک کے لیے ایک ’دائمی زخم‘ قرار دیتے ہوئے عوام اور جدید فنون کے شائقین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے سے متاثرہ فن پاروں کی نمائش ضرور دیکھیں۔
سنیچر کی شب انسٹاگرام پر جاری بیان میں عراقچی نے بتایا کہ انھوں نے ایک روز قبل نمائش کا دورہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ ’ان تصویروں میں میناب کے بچوں کا درد اور معصومیت جھلکتی ہے، جہاں رنگ لفظوں کی جگہ بولتے ہیں اور کینوس وہ کچھ بیان کرتا ہے جو زبان میں نہیں کہا جا سکتا۔‘
عراقچی نے کہا کہ ’ان رنگوں اور تصویروں کے پیچھے ایران کے دشمنوں کی جانب سے اس سرزمین کے معصوم بچوں پر کیے گئے جرم کی تلخ یاد موجود ہے۔‘ انھوں نے زور دیا کہ ’یہ سانحہ نہ وقت کے ساتھ مٹ سکتا ہے اور نہ ہی سوگوار قوم کی یادداشت سے محو ہوگا۔‘
وزیرِ خارجہ کے مطابق فنکاروں نے اپنے کام کے ذریعے اس سانحے کی یاد کو محفوظ رکھنے اور متاثرین کے درد کو فراموش نہ ہونے دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال 28 فروری کو شجرۂ طیبہ پرائمری سکول کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا، جو ایران پر امریکی اسرائیلی جارحیت کے پہلے دن پیش آیا۔ حملے میں تقریباً 170 افراد جن میں طلبہ، اساتذہ اور والدین شامل تھے ہلاک ہوئے۔
عباس عراقچی نے ایرانی عوام اور جدید ایرانی فن کے شائقین کو نمائش کے دورے کی دعوت دی ہے۔
نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 734 ہو گئی، 2,498 افراد لاپتہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق ملک میں تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 734 ہو گئی ہے، جبکہ 2,498 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
ریسکیو کارروائیاں پانچویں روز بھی جاری ہیں اور اب تک 3,700 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
حکام کے مطابق شدید سیلاب اور مٹی کے تودوں کے باعث متاثرہ علاقوں تک رسائی بدستور ایک بڑا چیلنج ہے۔ نیپال میں 18 ہزار سے زیادہ امدادی کارکن ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں، جبکہ خراب موسم اور دشوار گزار راستے امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
حکام نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امداد پہنچانے کا عمل تیز کر دیا ہے اور بعض مقامات پر ریسکیو کے لیے ڈرونز کے استعمال پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سیلاب میں بڑی تعداد میں غیر ملکی شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔ نیپال ٹورزم بورڈ کے مطابق 261 غیر ملکی شہریوں کو ریسکیو کیا جا چکا ہے، جبکہ مزید 320 غیر ملکی تاحال لاپتہ ہیں۔ ریسکیو کیے جانے والوں میں 167 انڈین، 40 چینی، آٹھ یوکرینی، چار جرمن، چار مالٹیز اور تین امریکی شہری بھی شامل ہیں۔
خراب موسم متاثرین تک امداد کی رسائی میں بڑی رکاوٹ: اقوامِ متحدہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
اقوامِ متحدہ کی نیپال میں نمائندہ لیلا پیٹرز یحییٰ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’امدادی سامان تو پہنچ رہا ہے، مگر متاثرین تک پہنچانا انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔‘
یحییٰ کے مطابق ’انڈیا اور چین کی ریسکیو ٹیمیں جو گزشتہ روز پہنچی ہیں، اضافی مدد فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن راستوں کی خراب صورتحال امدادی کام میں بڑی رکاوٹ ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’رسائی بہت مشکل ہے، اسی لیے امداد لوگوں تک پہنچانا بھی مشکل ہو رہا ہے۔‘
ان کے مطابق حکومت نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سامان کی ایئرلفٹنگ شروع کر دی ہے، جبکہ ڈرون کے ذریعے امداد پہنچانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
یحییٰ نے مزید کہا کہ ’خراب موسمی حالات بھی ہمارے لیے مسئلہ بن رہے ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
اس سے قبل نیپال کے محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’بدھ کو آنے والے اچانک سیلاب کے بعد سے جاری مسلسل شدید بارش نے تلاش اور ریسکیو آپریشن مزید مشکل بنا دیا ہے۔‘
محکمۂ موسمیات کے مطابق ’علاقے میں بارش کا سلسلہ آئندہ دنوں تک جاری رہنے کا امکان ہے۔‘
حکام کے مطابق ’علاقے کے لیے ’یلو رین وارننگ‘ جاری کی گئی ہے جو کم از کم پیر تک برقرار رہے گی اور لوگوں کو موسم کی تازہ صورتحال سے باخبر رہنے کا مشورہ دیا ہے۔‘
مغربی کنارے میں آبادکاروں کا قُصرہ پر حملہ ’جرائم پر مبنی تشدد‘ قرار: نیتن یاہو کی مذمت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی قصبے قُصرہ پر حملے کی مذمت کی ہے۔ یہ واقعہ تین ہفتوں سے جاری کشیدگی کی تازہ ترین مثال ہے۔
نیتن یاہو نے ایک غیر معمولی بیان میں ان حملوں کو ’جرائم پر مبنی تشدد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ کارروائیاں ’چند قانون شکن عناصر‘ کی جانب سے کی گئیں، جو نہ صرف قانون کی پابندی کرنے والی یہودی برادری کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ فوج کے کام میں رکاوٹ اور اسرائیل کی عالمی ساکھ کو بھی متاثر کرتی ہیں۔‘
اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’سرخ لکیر عبور کرنا‘ قرار دیا اور کہا کہ ’یہ اسرائیل کی شہرت پر ’داغ‘ ہے۔‘
انھوں نے حکومت، سکیورٹی اداروں اور عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ اس رجحان کو ختم کرنے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جائیں اور ذمہ داروں کو مکمل سزا دی جائے۔
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
قُصرہ کے رہائشیوں اور اسرائیلی فوج کے مطابق درجنوں آبادکاروں نے قصبے پر دھاوا بول کر پتھراؤ کیا اور ایک گھر میں گھس کر خود کو اندر بند کر لیا، جبکہ اندر فلسطینی موجود تھے۔
قریب ہی واقع گاؤں جالود میں این بی سی نیوز نے رپورٹ کیا کہ نقاب پوش آبادکاروں نے اس کے عملے اور ایک فلسطینی خاتون پر حملہ کیا۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ ’اس نے علاقے میں ’اسرائیلی شرپسندوں کی آمد اور پرتشدد جھڑپوں‘ کی اطلاعات کے بعد فوجی اور بارڈر پولیس اہلکار بھیجے، جن میں فلسطینیوں اور عام شہریوں پر پتھراؤ بھی شامل تھا۔‘
کم جونگ اُن کی فوجی کمان میں بڑی تبدیلی، وزیرِ دفاع سمیت کئی اعلیٰ عسکری عہدیدار برطرف
،تصویر کا ذریعہReuters
شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ رہنما کم جونگ اُن نے فوجی کمان میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرتے ہوئے وزیرِ دفاع سمیت کئی اعلیٰ عسکری عہدیداروں کو برطرف کر دیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق یہ فیصلے سنیچر کو کم جونگ اُن کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں کیے گئے، جو مسلح افواج کی ’تشکیل نو کے منصوبوں‘ کا حصہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق نو کوانگ چُل کو وزیرِ دفاع کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور انھیں تنزلی کی بعد حکمران جماعت کے ڈھانچے میں اسلحہ سازی کی صنعت کے انتظامیہ کے پہلے نائب سربراہ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔
کم سونگ گی، جو کورین پیپلز آرمی کے جنرل پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں، کو نیا وزیرِ دفاع مقرر کیا گیا ہے۔
مزید یہ کہ کم جونگ اُن کے دفاعی مشیر پاک جونگ چُن کو سینٹرل ملٹری کمیشن کا نائب چیئرمین اور ورکرز پارٹی آف کوریا کے پولٹ بیورو کا رکن بھی بنا دیا گیا ہے۔
شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے ان تبدیلیوں کی وجہ بیان نہیں کی۔
تاہم یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پیونگ یانگ گزشتہ چند ماہ سے اپنی عسکری صلاحیتوں میں اضافے اور روس کے ساتھ دفاعی تعاون پر زور دے رہا ہے، جبکہ کورین جزیرہ نما میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
ایران سے ’سنگین خطرے‘ کے باعث یائر نیتن یاہو کو امریکہ سے فوری اسرائیل منتقل کیا گیا: اسرائیلی میڈیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے ’اہم اور سنگین خطرے‘ کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کے صاحبزادے یائر نیتن یاہو کو فوری طور پر امریکہ سے اسرائیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی داخلی سکیورٹی ایجنسی شِن بیت کے مطابق انٹیلی جنس نے یائر نیتن یاہو کے خلاف ممکنہ حملے کی تصدیق کی، جس کے بعد انھیں ان کی سکیورٹی ٹیم کے ساتھ ہنگامی طور پر واپس بلایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق شِن بیت نے اپنے بیان میں کہا کہ ’یائر نیتن یاہو کو نقصان پہنچانے کا واقعی ایک سنگین خطرہ موجود تھا اور صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ انھیں فوراً اسرائیل منتقل کیا جائے۔‘
یہ خبر ایسے وقت سامنے آئی جب اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ یائر نیتن یاہو فلوریڈا سے فوری طور پر اسرائیل روانہ ہوئے ہیں۔ انٹیلی جنس اداروں کو ان کے خلاف ایک ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا گیا تھا، تاہم شِن بیت نے خطرے کی نوعیت یا اس کے ذمہ دار کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔
چند روز قبل بنیامن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ ’ایران نے ان کے ایک بیٹے کو قتل کرنے کی کوشش کی، لیکن انھوں نے نام ظاہر نہیں کیا تھا۔‘ شِن بیت کی تازہ تصدیق سے واضح ہوتا ہے کہ ان کا اشارہ یائر نیتن یاہو کی جانب تھا۔
دوسری جانب ایرانی حکام پہلے ہی ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے بیٹے یا دیگر افراد کے قتل کی کسی بھی منصوبہ بندی کے الزامات کو مسترد کر چکے ہیں۔ شِن بیت کے یائر نیتن یاہو سے متعلق تازہ بیان پر تہران نے تاحال کوئی سرکاری ردِعمل نہیں دیا۔
آبنائے ہرمز امریکی وعدوں کی تکمیل تک نہیں کھلے گی: کاظم غریبآبادی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریبآبادی نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھلے گی جب تک امریکہ اپنے وعدے پورے نہیں کرتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے گزرنے کے انتظامات پر سمجھوتہ ہو چکا ہے، تاہم راستہ کھولنے کا فیصلہ امریکی ذمہ داریوں کی تکمیل سے مشروط ہے۔‘
ایرانی عہدیدار کے مطابق امریکہ کی جن ’ذمہ داریوں‘ کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہ اسلام آباد ’میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ‘ کی شقوں سے متعلق ہیں، جن میں ایران پر فوجی حملوں کا مکمل خاتمہ اور ملک کی بحری ناکہ بندی کا اٹھایا جانا شامل ہے۔‘
یہ بیان تہران اور مسقط کے درمیان آبنائے ہرمز میں ایک نئے اور عارضی بحری راستے کے قیام پر ہونے والی بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے۔
غریبآبادی اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ یہ نیا راستہ ’ریٹرن ہائی وے‘ کی طرح کام کرے گا، جس کے تحت جہاز ایران کی طرف سے داخل ہوں گے اور عمان کی طرف سے باہر نکلیں گے۔
فارس نیوز ایجنسی میں سنیچر 27 ستمبر کو شائع ہونے والے بیان میں انھوں نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند ہے اور اگر کوئی جہاز گزرتا ہے تو وہ ایران کی اجازت اور ہم آہنگی کے بغیر ممکن نہیں۔ ایرانی مسلح افواج آبنائے ہرمز میں ہر حرکت سے مکمل طور پر باخبر ہیں اور امریکی دعوے کہ جہاز گزر رہے ہیں، کسی طور درست نہیں۔‘
کیئو کے قریب یوکرین کے اسلحہ ڈپو پر روسی ڈرون حملہ، 37 افراد ہلاک
،تصویر کا ذریعہGetty Images
روس کے ایک ڈرون حملے میں یوکرین کی فوج کے لیے اسلحہ ذخیرہ کرنے والے ایک ڈپو کو نشانہ بنائے جانے کے بعد 37 افراد ہلاک اور تقریباً 400 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ ڈپو دارالحکومت کیئو کے مضافات میں ایک رہائشی علاقے کے قریب واقع تھا۔
صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق جمعے کی رات ہونے والے حملے کے نتیجے میں گولے، بارودی سرنگیں اور ڈرون پھٹ گئے، جس سے شدید دھماکہ ہوا اور قریبی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ متاثرہ عمارتوں میں بزرگوں اور معذور افراد کے لیے قائم ایک نگہداشت مرکز بھی شامل ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اسلحہ ذخیرہ کرنے کی یہ جگہ ’یقینی طور پر یہاں نہیں ہونی چاہیے تھی‘ اور لوگوں کے عین قریب دھماکہ خیز مواد ذخیرہ کرنے میں ’سنگین غفلت‘ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیئو کے قریب گزشتہ چند ماہ کے دوران کسی اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنانے کا یہ دوسرا حملہ ہے، جس پر ایک بار پھر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
علاقائی سربراہ تیمور تکاچینکو کے مطابق جمعے کی رات ہونے والے دھماکے میں زخمی ہونے والے 42 افراد میں چار بچے بھی شامل ہیں۔ سنیچر کو بوچا ضلع میں واقع جائے وقوعہ پر امدادی کارروائی جاری رہی۔
روس کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ ’اس کی افواج نے یوکرینی دارالحکومت کے مغرب میں واقع گاؤں میلا میں ’اسلحہ ڈپو‘ کو نشانہ بنایا، جہاں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بغیر پائلٹ فضائی طیاروں کے پرزے اور لانچ بوسٹرز‘ رکھے گئے تھے۔
دھماکے کے نتیجے میں گاؤں کے تقریباً 130 گھروں کو نقصان پہنچا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
مقامی رہائشی 45 سالہ لیوبوف پاولینکو نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا گھر اسلحہ گودام سے تقریباً 200 میٹر دور ہے اور وہ نقصان کا جائزہ لینے وہاں پہنچی تھیں۔ ان کے مطابق گھر کی پوری بیرونی حدود اور کھڑکیوں کے اطراف دراڑیں پڑ گئی ہیں اور عمارت کی ساختی مضبوطی متاثر ہوئی ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ ’گاؤں میں دھماکہ خیز مواد ذخیرہ کرنے کا فیصلہ ’بالکل ناقابلِ قبول‘ تھا۔ ان کے مطابق ’سرکاری غفلت‘ کے الزام میں فوجداری کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
نیپال اور تبت میں سیلاب: امدادی کارروائیاں پانچویں روز بھی جاری، ہلاکتیں 675، 2,400 سے زائد لاپتہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیپال اور تبت میں بدھ کو سرحدی علاقے میں آنے والے سیلاب کے بعد امدادی کارروائیاں پانچویں روز بھی جاری ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے اور مقامی حکام کا کہنا ہے کہ تباہ کن سیلاب ممکنہ طور پر ایک گلیشیئر کے ٹوٹنے کے باعث آیا تھا۔
نیپال میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے مطابق ملک میں کم از کم 675 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 2,400 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ امدادی کارروائیوں کے لیے 18,700 سے زیادہ ریسکیو اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق تبت میں ہلاکتوں کی سرکاری تعداد 16 ہے جبکہ 546 افراد لاپتہ ہیں۔
نیپال ٹورزم بورڈ نے اپنی تازہ ترین اطلاع میں بتایا ہے کہ 261 غیر ملکی شہریوں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے جبکہ 320 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
حکام کے مطابق مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے جن افراد کو ریسکیو کیا گیا، ان کی تفصیل یہ ہے:
بیلجیئم: 1
بلغاریہ: 1
چین: 40
جرمنی: 4
انڈیا: 167
اٹلی: 2
مالٹا: 4
عمان: 1
پرتگال: 1
روس: 2
سپین: 2
سوئٹزرلینڈ: 2
ترکیہ: 2
یوکرین: 8
امریکہ: 3
شناخت معلوم نہیں: 21
وزیر داخلہ بلوچستان کا مبینہ طور پر خود کش حملے کے لیے تیار کی گئی دو نو عمر لڑکیوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر داخلہ
میر ضیا اللہ لانگو نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی خفیہ اطلاع پر کی گئی کاروائی
میں دو نو عمر لڑکیاں پکڑی گئیں ہیں جنھیں مبینہ طور پر خود کش حملے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
کوئٹہ میں دونوں لڑکیوں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کرتے
ہوئے وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ دونوں کے پکڑے جانے سے ایک کالعدم عسکریت پسند تنظیم
کی جانب سے انھیں خودکش حملے میں استعمال کرنے کا منصوبے ناکام ہو گیا ہے۔
حراست میں لی گئی لڑکیوں کی عمر 16 اور 12 سال بتائی گئی ہے۔
سول سیکریٹریٹ میں ہونے والی پریس کانفرنس میں صرف چھ سے سات
میڈیا کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا تھا۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دوران تفتیش گرفتار خواتین نے کالعدم
تنظیم کے مذموم عزائم سے پردہ اٹھایا۔
میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی دہشت گردی کا
واقعہ رونما ہوتا ہے ہمیشہ سوال کیا جاتا ہے
کہ سکیورٹی ادارے کیا کررہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک واقعہ ہوجاتا ہے تو ہمارے
ادارے ایسے دس واقعات کو روک بھی رہے ہوتے ہیں۔
وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ کالعدم تنظیم نے گرفتار شدہ 16
سالہ لڑکی کے خاندان کے آٹھ سے دس افراد کو قتل کیا جن میں اس کا شوہر بھی شامل ہے۔
ضیا اللہ لانگو کے مطابق شدت پسند تنظیم کے ایک مقامی کمانڈر
نے لڑی کے شوہر کو اپنی تنظیم کے لیے کام کرنے سے انکار پر قتل کردیا تھا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ان لڑکیوں ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنے
کے دوران سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کاروائی کی اور انھیں حراست میں لے لیا۔
گل پلازہ آتشزدگی: کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
کراچی کے گل پلازہ میں 17 جنوری 2026 کو لگنے والی آگ محض
ایک حادثہ نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی بد انتظامی، عمارت میں غیر قانونی
تبدیلیاں، حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد کی ناکامی اور سرکاری اداروں کے درمیان ذمہ
داری سے گریز شامل ہے۔
واقعے کے تقریبا آٹھ ماہ بعد سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس آغا
فیصل کی سربراہی میں قائم کمیشن آف انکوائری کی 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کر
دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم 72 افراد ہلاک ہوئے
تھے۔
کمیشن نے اس پورے واقعے میں ریاستی اداروں کے کردار کا
جائزہ لیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب لوگ عمارت کے اندر زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے
تھے تو انھیں بچانے کی ذمہ داری آخر کس ادارے کی تھی؟
شہری منصوبہ ساز عارف حسن نے کمیشن کے سامنے صورت حال کو
ایک جملے میں بیان کرتے ہوئے اسے ’انتظامی
افراتفری‘ قرار دیا ہے۔
اس واقعے ایک مقتول کی عمر رسیدہ والدہ نے کمیشن کے سامنے بیان
دیتے ہوئے کہ خاندان اور انتظامیہ دونوں اس حادثے کے تماشائی بنے رہے، فرق صرف
اتنا تھا کہ مرنے والے ہمارے بچے تھے۔
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
آگ کیسے لگی؟
کمیشن کے مطابق آگ ہفتہ 17 جنوری کی رات تقریباً 10 بجے سے 10 بج کر 5 منٹ کے درمیان گراؤنڈ فلور کی دکان نمبر 193 میں لگی۔ یہ ایک مصنوعی پھولوں کی دکان تھی جہاں موجود انتہائی آتش گیر سامان نے آگ کو تیزی سے پھیلنے میں مدد دی۔
رپورٹ کے مطابق بچوں کے ماچس سے کھیلنے کے باعث آگ بھڑکنے کی اطلاع سامنے آئی۔ آگ نے پہلے دکان کے سامان کو لپیٹ میں لیا جس کے مرکزی ایئر کنڈیشننگ ڈکٹ اور بجلی کی تاروں کے ذریعے تیزی سے دوسری جگہوں تک پھیلی۔
تاہم کمیشن کے مطابق اصل تباہی صرف آگ سے نہیں ہوئی۔
بجلی بند ہوئی اور عمارت اندھیرے میں ڈوب گئی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آگ لگنے کے چند ہی منٹ بعد پلازہ کی مبینہ انتظامیہ کے ایک نمائندے کی ہدایت پر بجلی فراہم کرنے والی کمپنی سے پورے کمپلیکس کی بجلی منقطع کرا دی گئی۔ نتیجتاً عمارت اچانک مکمل اندھیرے میں ڈوب گئی اور اندر موجود خریداروں، دکانداروں اور ملازمین کے لیے باہر نکلنے کے راستے تلاش کرنا انتہائی مشکل ہوگیا۔
کمیشن کے مطابق پلازہ میں 16 داخلی و خارجی دروازے تھے لیکن آگ کے وقت ان میں سے صرف دو سے چار کھلے تھے۔
عمارت کی متعدد کھڑکیوں اور بالکونیوں کو مستقل لوہے کی جالیوں، اینٹوں اور دیگر تعمیراتی رکاوٹوں سے بند کیا گیا تھا، جبکہ کئی جگہ سامان بھی اس طرح رکھا گیا تھا کہ باہر نکلنے کے راستے محدود ہوگئے تھے۔
اس کے علاوہ رپورٹ میں کہ بھی کہا گیا ہے کہ بالائی منزلوں پر موجود افراد کے لیے صورتحال مزید خطرناک ہو گئی تھی اور کئی لوگ بند دروازوں اور گلی نما راستوں میں پھنس گئے۔
کمیشن کے مطابق میزنائن فلور پر واقع کراکری کی ایک دکان سے 30 لاشیں برآمد ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ افراد مدد کے انتظار میں اندر بند ہو گئے تھے اور بالآخر دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئے۔
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
اداروں نے ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کی: انکوائری کمیشن
حادثے کے بعد سب سے اہم سوال یہ تھا کہ آگ بجھانے اور لوگوں کو بچانے کی ذمہ داری کس ادارے کی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران کمیشن کے سامنے مختلف اداروں کے مؤقف میں واضح تضاد پایا گیا۔
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے فائر ڈیپارٹمنٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ فائر فائٹنگ اور ریسکیو کی ذمہ داری ریسکیو 1122 کی تھی۔
ریسکیو 1122 نے خود کو بنیادی طور پر معاون ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی ذمہ داری کے ایم سی فائر ڈیپارٹمنٹ کی تھی، سول ڈیفنس نے بھی ذمہ داری کے حوالے سے دونوں اداروں کی طرف اشارہ کیا۔
دوسری جانب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے عمارت کی حفاظتی نگرانی اور نفاذ سے متعلق ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا۔ کمیشن کے مطابق الیکٹریکل انسپکٹریٹ نے بتایا کہ برقی حفاظتی معائنے کا عمل تقریباً دو دہائی قبل صوبائی حکومت کے حکم پر معطل کردیا گیا تھا۔
یعنی جب کمیشن نے پوچھا کہ ذمہ دار کون تھا؟ تو مختلف اداروں کے جوابات ایک دوسرے سے مختلف تھے۔
اسی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے کمیشن نے مصطفیٰ زیدی کے مشہور شعر کا حوالہ دیا ہے۔
’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروںتمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے‘
کمیشن نے ریسکیو کے دوران وقت کے ضائع ہونے کی بھی نشاندہی کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے بعد تقریباً 10 بج کر 22 منٹ پر ابتدائی ہنگامی کالز کی گئیں، لیکن امدادی کارروائیوں کو شہر کی ٹریفک اور سڑکوں کی صورتحال نے بھی متاثر کیا۔
کمیشن کے مطابق ایم اے جناح روڈ پر گرین لائن بی آر ٹی کی تعمیر کے باعث سڑک کا قابل استعمال حصہ بعض مقامات پر صرف تقریباً 12 فٹ رہ گیا تھا جس کی وجہ سے بھاری ریسکیو اور فائر فائٹنگ مشینری کے پہنچنے میں مشکلات پیش آئیں۔
ابتدائی طور پر رضاکاروں اور فلاحی اداروں کے ایمبولینس ڈرائیوروں نے محدود وسائل کے ساتھ لوگوں کو نکالنے کی کوشش کی۔ کھڑکیوں پر لگی لوہے کی جالیاں کاٹنے کے لیے بھاری مشینری دستیاب نہ ہونے کے باعث بعض جگہ ہاتھ سے استعمال ہونے والے ہتھوڑوں اور سیڑھیوں کا استعمال کیا گیا۔
کمیشن نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ابتدائی طور پر پہنچنے والے فائر فائٹرز کے پاس مناسب حفاظتی سامان، آکسیجن ماسک اور بھاری لوہے کی جالیاں کاٹنے کے اوزار کی کمی تھی۔ رپورٹ کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل اور بڑے پیمانے پر پانی کی فراہمی تقریباً دو گھنٹے بعد رات 12 بج کر 12 منٹ کے بعد ممکن ہو پائی۔ اس وقت تک عمارت کے اندر موجود افراد کے زندہ بچنے کے امکانات انتہائی کم ہو چکے تھے۔
رپورٹ کے مطابق آگ کا فوری سبب حادثاتی ہوسکتا ہے، لیکن اتنی بڑی تعداد میں اموات صرف آگ کا نتیجہ نہیں تھیں۔ غیر قانونی تعمیرات، بند راستے، کھڑکیوں پر جالیاں، عمارت کے استعمال میں تبدیلیاں، حفاظتی معائنوں کی عدم موجودگی، ریسکیو اداروں کے درمیان واضح کمانڈ کا نہ ہونا اور امدادی کارروائیوں میں مشکلات نے مل کر صورتحال کو انتہائی خطرناک بنا دیا۔
کمیشن نے صرف آگ لگنے کے واقعات کا جائزہ نہیں لیا بلکہ گل پلازہ کی زمین، لیز اور تعمیراتی تاریخ کو بھی دیکھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ زمین برطانوی دور میں 1873 کی ایک رعایت کے تحت ٹرام وے کے لیے دی گئی تھی۔
کمیشن کے مطابق 1991 میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے اس زمین کی 99 سالہ تجدید کی، تاہم اس کے لیے ضروری صوبائی کابینہ کی منظوری، عوامی نیلامی اور زمین کے حق ملکیت سے متعلق قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ دکانیں بھی منظور شدہ تعداد سے زیادہ تھیں۔ منظور شدہ اور بعد میں ریگولرائز کیے گئے منصوبے میں ایک ہزار 102 دکانیں تھیں، لیکن عملی طور پر فعال دکانوں کی تعداد 1153 تک پہنچ چکی تھی۔
اس کے علاوہ بیسمنٹ میں پارکنگ کے لیے مختص جگہوں کو مبینہ طور پر کمرشل گوداموں اور دکانوں میں تبدیل کردیا گیا تھا۔
نیپال میں فوجی اڈے پر پریشان حال خاندانوں اور امدادی حکام کی بڑی تعداد جمع
نیپال کے ضلع نوواکوٹ میں موجود بی بی سی کے صحافیوں نے بتایا ہے کہ اپنے لاپتا عزیزوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ ایک فوجی اڈے پر جمع ہیں۔
بی بی سی نیپالی کے ساتھیوں نے موقع کی تصاویر بھی شیئر کی ہیں۔
ان تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ اپنے پیاروں کی تلاش میں رشتہ دار بے چینی کے عالم میں جمع ہیں، جبکہ ہیلی کاپٹر زمین پر موجود ہیں اور بعض اوپر پرواز بھی کر رہے ہیں۔
تصاویر میں یونیفارم میں ملبوس پولیس اہلکاروں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے، جو اس وسیع امدادی اور تلاش کی کارروائی کو منظم کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشننیپال کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ شدید متاثرہ بعض علاقوں تک پہنچنے کا واحد ذریعہ ہیلی کاپٹر ہیں، کیونکہ وہاں کا زمینی علاقہ دلدلی شکل اختیار کر چکا ہے