لائیو, حوثیوں کا سعودی عرب پر انڈین شہریوں کو لے جانے والی کشتی کو نشانہ بنانے کا الزام

ریاض میں انڈین سفارتخانے کا ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر کہنا تھا کہ اسے یمن کے ساحل کے قریب ہونے والے واقعے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور وہ اس واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات معلوم کر رہا ہے۔‘ سفارتخانے کا مزید کہنا تھا کہ وہ ’انڈین شہریوں کی سلامتی اور خیریت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کریں گے۔‘

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. حوثیوں کا گذشتہ 48 گھنٹوں میں سعودی عرب پر چار حملے کرنے کا دعویٰ

    Yemen

    حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے گروہ نے گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سعودی عرب کے اندر چار فوجی کارروائیاں کی ہیں، جن میں وزارتِ دفاع کی ریاض میں واقع عمارت، کنگ فہد بین انٹرنیشنل ایئرپورٹ آرامکو کی ینبع میں واقع ایک تنصیب اور ابھا بین انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے شامل ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شائع کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں سریع نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے گئے اور چاروں اہداف کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔

    انھوں نے کہا ’مجرم سعودی دشمن نے اپنی جارحیت اور گذشتہ 100 دنوں کے دوران حالیہ کشیدگی کے مرحلے میں ہمارے عزیز وطن میں شہری اہداف کے خلاف 2,900 سے زیادہ فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں۔‘

    انہوں نے مزید دعویٰ کیا ’ان حملوں کے ذریعے اس نے درجنوں جرائم کا ارتکاب کیا، جن کے نتیجے میں 562 سے زیادہ افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔‘

    بی بی سی ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    سریع نے کہا کہ حوثی ’اپنے ملک اور عوام کے دفاع میں سعودی عرب کے اندر اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔‘

  2. گوادر میں ’تعیمراتی کمپنی کے خالی کیمپ‘ پر حملہ ناکام، تین عسکریت پسند ہلاک: وزیر داخلہ کا دعویٰ, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع گوادر میں ’تعمیراتی کمپنی کے خالی کیمپ‘ پر حملے کو ناکام بناتے ہوئے تین عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

    محسن نقوی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جمعرات کی شام سے ہی ضلع گوادر سے بے امنی کے واقعات کی اطلاعات گردش کر رہی تھیں۔

    تاہم وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں اس حملے میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی کوئی تفصیلات نہیں دیں۔

    دوسری جانب بی بی سی اردو کو تین سینیئر سرکاری حکام نے گوادر میں تین مقامات پر نامعلوم مسلح افراد کے حملوں کی تصدیق کی ہے۔

    سرکاری اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ حملے گوادر شہر کے قریب ایک سرکاری تعمیراتی کمپنی کے کیمپ کے علاوہ سُنٹسر اور ایران کے ساتھ واقع سرحدی علاقے گبد ریمدان 250 بارڈر پر کیے گئے۔

    ان میں سے ایک سینیئر اہلکار نے ان حملوں میں دو افراد کے زخمی ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے، تاہم بی بی سی اردو کسی بھی قسم کے نقصان کی آزادنہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    گوادر سے تعلق رکھنے والے ایک شہری محمد عارف نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انھیں گوادر شہر سے شمال میں اندازاً 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تعمیراتی کمپنی کے کمپاؤنڈ سے ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ اس علاقے سے اچھے خاصے فاصلے پر تھے، لیکن ’دھماکے کی شدت بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے یوں لگا جیسے کہ یہ ان کے بالکل قریب ہوا۔‘

    انھوں نے بتایا کہ شہر میں صورتحال معمول کے مطابق رہی کیونکہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی کی وجہ سے حملہ آور شہر کی جانب نہیں آسکے۔

    ایک اور شہری نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’پہلے ایک زوردار دھماکہ ہوا اور بعد میں چھوٹے دھماکوں کے علاوہ فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں اور فائرنگ کا سلسلہ دیر تک جاری رہا۔‘

    انھوں نے بتایا کہ دھماکے کی شدت کی وجہ سے دور واقع گھروں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔

    خیال رہے 250 بارڈر کے قریب یہ حملہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا جب پاکستانی حکام کی جانب سے سرحدی تجارت پر بعض پابندیوں کی وجہ سے گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد یہاں موجود تھی۔

    مقامی تاجروں کے مطابق پاکستانی حکام نے گذشتہ سنیچر کو ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کے لیے سرحد کو بند کردیا گیا۔ تاہم دو روز بعد سرحد کو ان برآمدات کے لیے کھول دیا گیا جو کہ ترکی اور وسطی ایشائی ریاستوں کے لیے تھیں۔

    تاہم بدھ سے ایران اور پاکستان کے درمیان ان گاڑیوں کو بھی آمدورفت کی اجازت دی گئی، جن میں کھانے پینے کی اشیا موجود تھیں تھیں۔

    درایں اثنا ضلعی انتظامیہ گوادر اور پولیس کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 250 بارڈر اور گرد و نواح میں امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

    بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز اور دیگر متعلقہ اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو مکمل طور پر کنٹرول میں لے لیا۔

    پریس ریلیز میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف پولیس اور متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کردہ مستند معلومات پر اعتماد کریں۔

  3. سعودی عرب نے بحیرۂ احمر میں انڈین شہریوں کو لے جانے والی کشتی کو نشانہ بنایا: حوثیوں کا الزام

    India
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو: یمن کے ساحل کے قریب موجود ایک کشتی کی تصویر

    ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے بحیرۂ احمر میں یمن کے ایک جزیرے کے قریب انڈین شہریوں کو لے جانے والی ایک کشتی کو نشانہ بنایا ہے۔

    حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع کا کہنا ہے کہ اس کشتی میں 14 انڈین شہری سوار تھے اور اسے جزیرہ زقر کے قریب نشانہ بنایا گیا۔ حوثیوں کے زیرِ انتظام خبر رساں ادارے سبا نیوز ایجنسی نے 22 اکتوبر کو یہ رپورٹ شائع کی ہے۔

    دوسری جانب ریاض میں انڈین سفارتخانے کا ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر کہنا تھا کہ اسے یمن کے ساحل کے قریب ہونے والے واقعے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور وہ اس واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات معلوم کر رہا ہے۔‘

    سفارتخانے کا مزید کہنا تھا کہ وہ ’انڈین شہریوں کی سلامتی اور خیریت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کریں گے۔‘

    حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع کہتے ہیں کہ حوثی فورسز کشتی کے مسافروں کو بچانے کی کارروائی میں مصروف ہیں اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

    انھوں نے سعودی عرب کے ’غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل‘ کی مذمت کی اور کہا کہ اس سے بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

    یحییٰ سریع نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاض کے ’عجلت پسند اقدامات‘ کو روکنے کے لیے کردار ادا کرے۔

    رواں برس جولائی سے حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں ان جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے، جنھیں وہ سعودی عرب سے منسلک قرار دیتے ہیں۔

    گروپ کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں صرف سعودی جہازوں پر لاگو ہوتی ہیں اور آبنائے باب المندب، جو بحیرۂ احمر کا جنوبی دروازہ ہے، بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے بدستور کھلی ہوئی ہے۔

  4. عظمیٰ بخاری کی تنقید پر حنا پرویز بٹ کا جواب: ’میری کسی ٹویٹ سے مریم نواز یا پنجاب حکومت کو شرمندگی نہیں ہوئی‘

    عظمیٰ بخاری اور حنا پرویز

    مسلم لیگ (ن) کی رکنِ پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’میری کسی ٹویٹ سے حکومت پنجاب یا وزیر اعلیٰ پنجاب کو کبھی شرمندگی نہیں ہوئی تاہم اگر عظمی بخاری کو اس بیان سے شرمندگی ہوئی تو ہے وہ ان کی اپنی چوائس ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی کسی سوشل میڈیا پوسٹ سے نہ حکومتِ پنجاب اور نہ ہی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کو کبھی شرمندگی ہوئی۔

    حنا پرویز بٹ کا یہ ردِعمل عظمیٰ بخاری کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انھوں نے جیو نیوز کے پروگرام 'آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ' میں حنا پرویز بٹ کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر تبصرہ کیا تھا۔

    یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ملتان میں مبینہ طور پر ایک کم عمر لڑکے، وسیم عباس، کو گاڑی تلے کچلنے کے مقدمے میں نامزد ملزم توقیر نذیر مشکوک حالات میں ہلاک ہو گیا۔

    پولیس کے مطابق ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔

    ملزم کی ہلاکت کے بعد حنا پرویز بٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خبر کا سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا: 'یہ مریم نواز صاحبہ کی حکومت ہے، یہاں فوری انصاف ملتا ہے۔' تاہم بعد میں انھوں نے یہ پوسٹ حذف کر دی تھی۔

    نجی چینل جیو نیوز کے پروگرام میں شاہزیب خانزادہ نے اسی پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے عظمیٰ بخاری سے سوال کیا کہ تنقید کے بعد حنا پرویز بٹ نے اس ٹویٹ کو حذف کر دیا، ’یا تو وہ اپنی پوسٹ پر قائم رہتیں یا پھر پوسٹ نہ کرتیں، کیونکہ سوال یہ اٹھ رہا تھا اور تنقید ہو رہی تھی کہ اگر آپ ایک مبینہ مقابلے (انکاؤنٹر) پر کہہ رہی ہیں کہ مریم نواز نے انصاف کروایا ہے، تو یہ تو مریم نواز کے خلاف آپ ہی کی طرف سے ایک ایف آئی آر بن جاتی ہے۔‘

    اس کے جواب میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ’حنا پرویز بٹ پہلے بھی اس نوعیت کے بیانات دیتی رہی ہیں اور بعض اوقات نا سمجھی میں ایسی باتیں کر جاتی ہیں جو بعد میں ان کے لیے اور حکومت کے لیے باعثِ شرمندگی بنتی ہیں۔‘

    یاد رہے جمعرات کو جاری کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں حنا پرویز بٹ نے کہا ہے کہ ان کا سوشل میڈیا پیغام ان کی ذاتی رائے تھا اور اس پر ’پروپیگنڈا‘ کرنا مناسب نہیں تھا۔

    انھوں نے کہا: ’میں نے اپنے بیان میں نہ حکومت کے خلاف کوئی چارج شیٹ پیش کی اور نہ کسی ادارے پر تنقید کی، اس لیے عظمیٰ بخاری کی جانب سے مجھ پر تنقید اور اسے حکومت کی شرمندگی سے جوڑنا غیر ضروری ہے۔‘

    حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ وہ اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتیں کہ ان کی کسی بات سے حکومتِ پنجاب یا وزیرِ اعلیٰ کو شرمندگی ہوئی ہے۔

    حنا پرویز بٹ نے مزید کہا کہ ’عظمیٰ بخاری حکومت کی سرکاری ترجمان ہیں اور انھوں نے حکومت کا مؤقف بیان کیا، تاہم ان کی مجھ پر تنقید کرنا بے جا ہے۔‘

    ان کے بقول: ’میں نے وہی کہا جو عوام کی آواز ہے۔‘

  5. متحدہ عرب امارات کی کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کی مذمت

    King Fahd International Airport in Dammam
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو: کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، دمام

    متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے سعودی عرب کی خودمختاری اور خطے کے امن و استحکام کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔

    اماراتی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امارات سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ملک کے امن و استحکام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔‘

    یاد رہے کہ سعودی عرب کے شہر دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بدھ کی شام حملہ کیا گیا تھا۔ حملے میں ہلاک ہونے والے دو افراد میں سے ایک سعودی شہری اور ایک انڈین شہری شامل ہیں۔

    یو اے ای کی وزارتِ خارجہ نے حملے میں ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

  6. وفاقی حکومت عسکری قیادت کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا کے مسائل حل کرے گی: وزیر اعظم شہباز شریف

    shabaz shareef
    ،تصویر کا کیپشنایپکس کمیٹی کے اجلاس میں شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت، عسکری قیادت کے ساتھ ملکر خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل حل کرے گی

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت عسکری قیادت کے ساتھ ملکر خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل حل کرے گی، خیبر پختونخوا میں جو قدم اٹھایا گیا ،قانون و آئین اِس فیصلے کا اختیار دیتا ہے۔

    فیڈرل ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت، عسکری قیادت کے ساتھ ملکر خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل حل کرے گی۔

    خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق جمعرات کو گورنر ہاؤس پشاور میں نیشنل ایکشن پلان کی فیڈرل ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شہباز شریف کو 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’خیبر یختونخوا دہشتگردی ، بنیادی عوامی سہولیات کی عدم دستیابی سے بہت متاثر ہے، مجبوری میں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔

    وزیراعظم نے صوبہ کی صورتحال کا ذکر کہا کہ ’چند برسوں میں جو حالات پیدا کر دئیے گئے اس کی وجہ سے یہ صوبہ بہت متاثر ہے۔ چھ برسوں میں جو حالات پید ا کئے گئے اُس کے بعد امن و امان کو بہت نقصان پہنچا۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پی ٹی آئی دور میں خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت ، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کیے گئے، اس سے بڑی مجرمانہ غفلت اور بے حسی کی مثال اور نہیں ہو سکتی۔ اسی وجہ سے حالیہ چند برسوں میں دہشت گردی میں پھر اضافہ ہوا۔‘

    وزیراعظم نے کہا کہ ’وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے وزرا کو یقین دلایا تھا کہ انسداد دہشت کے لیے آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، گذشتہ ڈھائی سال میں ملکی معیشت کو بحال کرنے کے لیے دن رات محنت کی گئی، سیاسی اور عسکری قیادت کی دن رات کوششوں سے ملکی معیشت مستحکم ہو چکی ہے۔‘

    وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جو قدم اٹھایا گیا ،قانون و آئین اِس فیصلے کا اختیار دیتا ہے۔

    ’صوبے میں امن و امان کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے‘

    اس سے قبل گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے اور خیبر پختونخوا کے عوام امن چاہتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام ادارے اگر ایک صفحے پر ہوں تو امن و ترقی کا عمل نہیں روکا جا سکتا، صوبے سے دہشت گردوں، ان کےسہولت کاروں اور مالی معاونت کاروں کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے۔

    نیشنل ایکشن پلان کی فیڈرل ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزرا، عسکری قیادت اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

  7. ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں چار ڈرون مار گرائے گئے: سعودی فوجی اتحاد

    Drone attacks
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے ریاض اور مدینہ کے مختلف علاقوں میں چار ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے۔

    سعودی فوجی اتحاد کے مختصر بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ ڈرونز کس نے بھیجے تھے یا ان کا ہدف کیا تھا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل 21 اکتوبر کو سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع ایک ہوائی اڈے اور ایک تیل کی تنصیب پر الگ الگ حملوں میں چار افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوئے تھے۔

    سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بدھ کی شب ہونے والے حملے کے حوالے سے تازہ بیان جاری کرتے ہوئے واقعے میں دو ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔

    اتھارٹی کے مطابق ایک مزید ہلاکت کی تصدیق کے بعد ہلاک ہونے والے افراد میں ایک سعودی شہری اور ایک انڈین شہری شامل ہیں۔

    ایک اور علیحدہ حملے میں آرامکو تیل تنصیب پر ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو افراد ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی جبکہ اس حملے میں پاکستان شہری سمیت دو افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

  8. ٹرمپ نے ایران پر حملے کے منصوبے سے نہیں روکا، اسرائیل اپنے فیصلے خود کرتا ہے: نیتن یاہو

    Naitanyahoo
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ ایران پر ممکنہ اسرائیلی حملے کے منصوبے کو روک دیا تھا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی چینل سیون سے گفتگو میں برطانوی اخبار فائنانشل ٹائمز کی اس رپورٹ کو غلط قرار دیا اور کہا کہ وہ ایران کے بارے میں امریکی صدر کے ساتھ اپنی حالیہ بات چیت کی تفصیلات پر تبصرہ نہیں کریں گے۔

    یاد رہے کہ فنانشل ٹائمز کا حوالہ دیتے ہوئے ایسی خبریں زیر گردش تھیں کہ اسرائیلی فوج 10 اور 11 اکتوبر کو ایران پر حملے کے لیے تیار تھی، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کریں گے، جن میں اب دو ہفتے سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے۔

    دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیانات میں یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ مذاکرات کے خواہاں نہیں اور ایران کے حوالے سے جلد پیش رفت متوقع ہے۔

  9. ایرانی فوج غیر روایتی جنگ کے لیے تیار ہے: جنرل امیر حاتمی کا دعویٰ

    Iranian Army Chief Commander Major General Amir Hatami
    ،تصویر کا کیپشنایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی

    ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ ایرانی فوج نے اپنی ڈرون صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا ہے اور وہ غیر روایتی جنگ کے لیے تیار ہے۔

    تہران میں فوجی ڈرونز بنانے والے ایک مرکز کے دورے کے دوران انھوں نے کہا کہ ’ایرانی مسلح افواج، خاص طور پر فوج، کو ملک کی سلامتی یقینی بنانے اور ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، اس لیے ہر طرح کے حالات کے لیے تیاری ضروری ہے۔‘

    ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا نے جنرل امیر حاتمی کا حوالے دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ’فوج نے غیر متناسب جنگ کے لیے ضروری ساز و سامان اور افرادی قوت تیار کر رکھی ہے اور اس کی صلاحیت پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔‘

    بیان کے مطابق ایرانی فوج ڈرونز کی تیاری، تقسیم اور دیکھ بھال میں مصروف ہے جبکہ اہلکاروں کو ان کے استعمال کی تربیت بھی دی جا چکی ہے۔

    جنرل امیر حاتمی کے مطابق ’ڈرونز، بغیر عملے کے بحری جہازوں اور مائیکرو ڈرونز سمیت بغیر پائلٹ ہتھیار جدید جنگ میں زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’فوج کا ڈرون پروگرام وزارتِ دفاع کے تعاون سے شروع ہوا تھا اور اب اس میں جامعات، ماہرین اور علم پر مبنی کمپنیوں کی شمولیت بھی ہے۔‘

    جنرل امیر حاتمی کے مطابق ایرانی بحریہ سمندر میں اور آبنائے ہرمز کے مشرقی ساحلی علاقوں میں فعال موجودگی رکھتی ہے۔ ان کے بقول، اس علاقے میں داخل ہونے والے کسی بھی دشمن جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں آمدورفت کے حوالے سے اپنے ضوابط پر عمل درآمد کے لیے بحری بارودی سرنگوں اور خودکار کنٹرول نظاموں کا استعمال کرتا ہے۔

  10. ایران کے معاملے پر جلد کچھ ہونے والا ہے: صدر ٹرمپ کا عندیہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ’ایران کے معاملے پر جلد کچھ ہونے والا ہے۔‘

    جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایران کے ساتھ رابطوں اور ممکنہ پیش رفت سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ’ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ انتخابات کے بعد ہوگا، لیکن ہمیں دیکھنا ہوگا۔‘

    ان کا اشارہ امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کی جانب تھا۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے مذاکرات کا راستہ چھوڑ دیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ ہم مذاکرات نہیں کریں گے، لیکن جلد ہی کچھ ہو جائے گا۔‘

    ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک ٹائمز نے نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے انتخابات کے بعد ایران پر حملے کے منصوبے تیار کیے ہیں۔

  11. اب تک کی خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کی کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے قبل آپ کےلیے صبح سے اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    • سعودی عرب پر بدھ کی رات مزید حملوں اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں امریکہ کی جانب سے اپنے سفارتکاروں اور اُن کے اہلِخانہ کے انخلا کے فیصلے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
    • سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بدھ کی شب ہونے والے حملے کے حوالے سے تازہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر دو ہو گئی ہے۔
    • یوکرین کے دارالحکومت کیئو پر ایک نئے میزائل حملے میں کم از کم چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ کیئو کے میئر ویتالی کلچکو کے مطابق بدھ کی شب ہونے والے حملے میں کئی رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا گیا۔
    • پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی تین بہنوں کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے ہوم سیکرٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے جواب سمیت پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
    • ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے جمعرات کو دعویٰ کیا ہے کہ چار جہاز شمالی خلیج فارس کے وسطی علاقے میں تیل کی منتقلی کے دوران نشانہ بنائے گئے اور ان میں آگ لگ گئی۔
    • دنیا بھر کی تنظیمیں ایک سنگین سائبر سکیورٹی خامی کو دور کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہیں، جو ممکنہ طور پر لاکھوں ویب سائٹس کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس خامی کی نشاندہی کرنے والے محقق کا کہنا ہے کہ یہ ان کے کیریئر میں سامنے آنے والا ’سب سے سنگین‘ سکیورٹی مسئلہ ہے۔
    • سعودی عرب کے جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے کہا ہے کہ مشرقی شہر دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بدھ کی شام حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک غیر ملکی شہری ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔
    • امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس، جو امریکہ میں بی بی سی کا شراکت دار ادارہ ہے، نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک امریکی عہدیدار اور ایک سینیئر فوجی اہلکار نے بدھ کے روز بتایا کہ حوثیوں کی جانب سے جاری علاقائی خطرات اور ایران کی براہِ راست دھمکیوں کے پیشِ نظر امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں اپنے بعض اڈوں پر فوجیوں کی موجودگی خاموشی سے کم کر رہی ہے۔
  12. دمام ایئرپورٹ حملہ: ہلاکتوں کی تعداد دو ہو گئی، آٹھ افراد زخمی

    سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بدھ کی شب ہونے والے حملے کے حوالے سے تازہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر دو ہو گئی ہے۔

    اتھارٹی کے مطابق ایک مزید ہلاکت کی تصدیق کے بعد ہلاک ہونے والے افراد میں ایک سعودی شہری اور ایک انڈین شہری شامل ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ زخمیوں کی تعداد بدستور آٹھ ہے۔ زخمیوں میں ایک سعودی شہری، دو انڈین، دو یمنی، دو بنگلہ دیشی اور ایک نیپالی شہری شامل ہے جو مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

    سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ متعلقہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر حملے سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور مسافروں، عملے اور سول ایوی ایشن کے نظام کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    بیان کے مطابق کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آپریشنل سرگرمیاں دوبارہ بحال کر دی گئی ہیں اور فضائی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔

  13. اہم سائبر سکیورٹی خامیوں کے انکشاف کے بعد دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس بند، ہنگامی اقدامات جاری

    ہم اب تک کیا جانتے ہیں:

    • دنیا بھر کی تنظیمیں ایک سنگین سائبر سکیورٹی خامی کو دور کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہیں، جو ممکنہ طور پر لاکھوں ویب سائٹس کو متاثر کر سکتی ہے۔
    • اس خامی کی نشاندہی کرنے والے محقق کا کہنا ہے کہ یہ ان کے کیریئر میں سامنے آنے والا ’سب سے سنگین‘ سکیورٹی مسئلہ ہے۔
    • یہ خامی پی ایچ پی پروگرامنگ زبان میں پائی گئی ہے، جو ویب سائٹس کے لیے معلومات کو جمع اور صارفین کے سامنے قابلِ مطالعہ شکل میں پیش کرنے کا کام کرتی ہے۔
    • ایک ماہر کے مطابق اس مسئلے سے تقریباً 3 کروڑ ویب سائٹس متاثر ہو سکتی ہیں اور اس کے ذریعے حملہ آور ذاتی معلومات چوری کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔
    • یہ مسئلہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے دریافت کیا گیا، جس کے بعد مختلف حکومتوں اور سائبر سکیورٹی اداروں نے ضرورت پڑنے پر ویب سائٹس عارضی طور پر بند کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
    • برطانیہ کے آفس فار بجٹ رسپانسبلٹی اور این ایچ ایس سکاٹ لینڈ نے اپنی ویب سائٹس عارضی طور پر بند کر دی تھیں۔ ویکیپیڈیا کے بعض حصے بھی کچھ وقت کے لیے دستیاب نہیں رہے، جبکہ ایمیزون نے کہا ہے کہ اس نے اس خامی سے فائدہ اٹھانے کی ایک ہیکنگ کوشش کا پتہ لگایا ہے۔
    • ماہرین کے مطابق تاحال اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ ان خامیوں کا بڑے پیمانے پر ناجائز فائدہ اٹھایا گیا ہو، تاہم اداروں کو فوری حفاظتی اپ ڈیٹس نصب کرنے کی ہدایت دی جا رہی ہے۔
  14. متاثر ہونے والوں میں ایمازون، ویکیپیڈیا اور سرکاری ویب سائٹس شامل

    سائبر سکیورٹی

    سائبر سکیورٹی کمپنی وِز (Wiz) کا اندازہ ہے کہ پی ایچ پی کی ان خامیوں سے انٹرنیٹ کا تقریباً 70 فیصد حصہ متاثر ہو سکتا ہے، اگرچہ اس اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

    دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس اور آن لائن سروسز نے ان خامیوں کے بعد مسائل یا احتیاطی بندش کی اطلاع دی ہے:

    • ایمازون کا کہنا ہے کہ اس نے ہیکرز کی جانب سے ان خامیوں سے فائدہ اٹھانے کی ایک کوشش کا پتہ لگایا ہے، تاہم اس کی ویب سائٹس معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔
    • نیدرلینڈز کی سرکاری ایجنسی نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار پبلک ہیلتھ اینڈ دی انوائرمنٹ کی ویب سائٹ فی الحال بند ہے۔
    • نیدرلینڈز کی ایک اور سائبر سکیورٹی ایجنسی نے احتیاطی اقدام کے طور پر اپنی ویب سائٹ عارضی طور پر بند کی تھی، تاہم اب اسے دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔
    • ڈنمارک کی آئی ٹی کمپنی کومبٹ (Kombit) نے متعدد خدمات بند کر دی ہیں، جن میں قومی سکول مواصلاتی پلیٹ فارم بھی شامل ہے۔
    • فن لینڈ کی حکومت نے اپنی عوامی ویب سروسز عارضی طور پر بند کی تھیں، لیکن وہ دوبارہ آن لائن ہو چکی ہیں۔
    • ویکیپیڈیا نے بھی احتیاطی تدبیر کے تحت اپنی ویب سائٹ کے بعض حصے عارضی طور پر بند کر دیے تھے۔
  15. ’سائبر سکیورٹی کی خامی کا فی الحال ہیکرز نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا‘

    سائبر سکیورٹی

    سائبر سکیورٹی خامی کا انکشاف کرنے والے محقق کا کہنا ہے کہ فی الحال اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ ہیکرز نے اس خامی کا بڑے پیمانے پر فائدہ اٹھایا ہو۔

    اس خامی کی نشاندہی کرنے میں شامل محقق رائن آسٹن نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ’ٹوڈے‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مسائل سے صحیح طریقے سے نمٹنے کے لیے ’مربوط اور ذمہ دارانہ انکشاف‘ ضروری ہوتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ان کی ٹیم نے پی ایچ پی فاؤنڈیشن اور ورڈپریس سمیت پی ایچ پی استعمال کرنے والی بڑی کمپنیوں اور پلیٹ فارمز کے ساتھ مل کر کام کیا اور حفاظتی پیچ تیار ہونے کے بعد انھیں پیشگی آگاہ کیا گیا۔

    آسٹن کے مطابق جیسے ہی کسی خامی کا اعلان کیا جاتا ہے، متعلقہ سافٹ ویئر یا نظام ایک نئے خطرے سے دوچار ہو جاتا ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت کی بدولت اب ’بہت سے نقصان دہ عناصر‘ بھی ایسی خامیوں کو تلاش کرنے اور ان کا فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ہیکرز پہلے ہی اس خامی سے فائدہ اٹھا چکے ہیں، تو انھوں نے جواب دیا ’فی الحال ایسا نظر نہیں آتا۔ ابھی تک یہ شواہد نہیں ملے کہ اس خامی کا استحصال وسیع پیمانے پر شروع ہو گیا ہے یا بڑے پیمانے پر کیا گیا ہے۔‘

  16. ’دی ٹریٹرز‘ کی ویب سائٹ سمیت بی بی سی کے متعدد ویب صفحات، تکنیکی مسائل کا شکار

    دنیا بھر کی متعدد متاثرہ ویب سائٹس کی طرح بی بی سی کی کئی ویب سائٹس بھی آج صبح عارضی طور پر دستیاب نہیں رہیں۔

    متاثرہ صفحات میں بی بی سی ون کے کئی پروگراموں کی ویب سائٹس شامل ہیں، جن میں دی ٹریٹرز اور ایسٹ اینڈرز کی سرکاری ویب سائٹس بھی شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ بی بی سی 2 اور بی بی سی تھری کے متعدد پروگراموں کی ویب سائٹس بھی متاثر ہوئی ہیں۔

    ان ویب سائٹس تک رسائی کی کوشش کرنے پر صارفین کو سکرین پر پیغام نظر آ رہا ہے کہ: ’یہ سروس عارضی طور پر دستیاب نہیں ہے۔‘

    بی بی سی نے اپنے پریس آفس سے یہ پوچھا ہے کہ آیا حال ہی میں سامنے آنے والی پی ایچ پی پروگرامنگ زبان کی سنگین سکیورٹی خامیاں ان ویب صفحات کی بندش کی وجہ ہیں یا نہیں، تاہم تاحال اس بارے میں کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

  17. ’دمام کے ہوائی اڈے پر حملے میں انڈین شہری ہلاک اور زخمی ہوئے‘

    سعودی عرب میں قائم میں انڈیا کے سفارتخانے کا کہنا ہے کہ گدشتہ شام دمام کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں انڈین شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

    سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں سفارتخانے نے لکھا کہ ’سعودی حکام نے اطلاع دی ہے کہ گذشتہ رات دمام ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والے دو افراد میں ایک انڈین شہری بھی شامل تھے، جبکہ دو انڈین شہری زخمی ہوئے ہیں۔‘

    انڈین حکام نے کہا ہے کہ وہ مزید تفصیلات حاصل کر رہے ہیں اور متاثرہ خاندانوں سے رابطے میں ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہماری ہمدردیاں اور دعائیں مرنے والے شخص کے اہلِ خانہ اور عزیزوں کے ساتھ ہیں، اور ہم زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔‘

  18. خلیج فارس میں چار جہازوں کو نشانہ بنایا، تین دیگر بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے: پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

    خلیج فارس

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے جمعرات کو دعویٰ کیا ہے کہ چار جہاز شمالی خلیج فارس کے وسطی علاقے میں تیل کی منتقلی کے دوران نشانہ بنائے گئے اور ان میں آگ لگ گئی۔

    فورسز کی بحریہ نے ایک بیان میں ان چاروں جہازوں کو ’خلاف ورزی کرنے والے‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ’غیر قانونی راستوں‘ سے گزر رہے تھے۔

    ایران اُس بحری راستے کو غیر قانونی قرار دیتا ہے جو عمان نے آبنائے ہرمز کے جنوب میں جہازوں کی آمدورفت کے لیے مقرر کیا ہے اور جس کے بارے میں امریکا کا کہنا ہے کہ وہ اس کی سلامتی یقینی بناتا ہے۔

    سپاہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ گذشتہ رات تین دیگر ’خلاف ورزی کرنے والے‘ جہاز مغربی آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں انھیں حادثہ پیش آیا اور ان میں آگ لگ گئی۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی فوج کی جانب سے جہازوں کو ’بارودی سرنگوں سے آلودہ غیر قانونی راستوں‘ سے گزرنے پر اصرار سمندری حادثات میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

    ایرانی بحریہ نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ’اشتعال انگیز اقدامات‘ جاری رہے تو خطے میں امریکی اڈوں کے خلاف زیادہ وسیع ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔

    ادھر آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں جہازوں اور تیل بردار بحری جہازوں پر حملوں کی بڑھتی ہوئی اطلاعات کے باوجود تجارتی انٹیلی جنس کمپنی کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ گئی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق شپنگ کمپنیاں آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں سے گریز کرتے ہوئے متبادل راستے استعمال کر رہی ہیں، کیونکہ جنگ کے دوران ان علاقوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    کیپلر کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق 18 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں خلیج فارس کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی یومیہ اوسط برآمدات 2 کروڑ 46 لاکھ بیرل تک پہنچ گئیں، جو جنگ سے قبل یومیہ 2 کروڑ 33 لاکھ بیرل کی اوسط سے زیادہ ہیں۔ اس شمار میں ایران شامل نہیں ہے۔

  19. سکیورٹی خامیوں کے انکشاف کے بعد حکومتیں اور کمپنیاں ویب سائٹس کے تحفظ کے لیے متحرک

    سائبر سکیورٹی خامیوں

    دنیا کی مختلف حکومتیں اور ایمیزون سمیت بعض بڑی عالمی کمپنیاں اہم سائبر سکیورٹی خامیوں کے انکشاف کے بعد اپنے سسٹمز کے تحفظ کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہی ہیں۔

    یہ خامیاں پی ایچ پی پروگرامنگ زبان میں پائی گئی ہیں، جو دنیا بھر میں بڑی تعداد میں ویب سائٹس کو چلانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ سائبر سکیورٹی کمپنی وِز کا اندازہ ہے کہ انٹرنیٹ کا تقریباً 70 فیصد حصہ اس سے متاثر ہو سکتا ہے، اگرچہ بی بی سی اس اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    احتیاطی اقدام کے طور پر کئی یورپی ممالک نے اپنی بعض سرکاری آن لائن سروسز عارضی طور پر بند کر دی ہیں، جبکہ ویکیپیڈیا نے بھی اپنی ویب سائٹ کے کچھ حصے آف لائن کر دیے ہیں۔

    یہ اقدامات امریکہ سمیت مختلف حکومتوں کی ان ہدایات کے مطابق کیے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اگر ان خامیوں کو فوری طور پر دور نہ کیا جا سکے تو ویب سائٹس عارضی طور پر بند کر دی جائیں۔

    سائبر سکیورٹی کمپنی وِز، جس کے محققین نے ان خامیوں کی نشاندہی کی، کا کہنا ہے کہ یہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے دریافت کی جانے والی اب تک کی "انتہائی سنگین" خامیاں ہیں۔

    اوپن اے آئی، جس کی ٹیکنالوجی ان خامیوں کی دریافت میں استعمال ہوئی، نے اس انکشاف کو ’حالیہ برسوں کے سب سے اہم سکیورٹی مسائل میں سے ایک‘ قرار دیا ہے۔

    برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ یہ جانچ رہی ہے کہ آیا اس مسئلے سے اس کے نظام کسی حد تک متاثر ہوئے ہیں یا نہیں۔

    اس معاملے سے متعلق مزید پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔

    پی ایچ پی کیا ہے اور یہ اتنا اہم کیوں ہے؟

    ممکن ہے آپ نے پی ایچ پی: ہائپر ٹیکسٹ پری پروسیسر کا نام نہ سنا ہو، لیکن آپ روزانہ اس سے بنی ہوئی ویب سائٹس استعمال کرتے ہیں۔

    پی ایچ پی ایک پروگرامنگ زبان ہے جو بڑی تعداد میں ویب پلیٹ فارمز کو چلاتی ہے، جن میں آن لائن شاپنگ ویب سائٹس، ویکیپیڈیا اور ورڈپریس شامل ہیں۔ ورڈپریس وہ مواد کے انتظام کا نظام (CMS) ہے جس پر بے شمار ویب سائٹس اور بلاگز چلتے ہیں۔

    سائبر سکیورٹی کمپنی گوریلا سائبر سکیورٹی کے چیف ایگزیکٹو پال سپین کے مطابق، جب آپ ویکیپیڈیا جیسی کسی ویب سائٹ پر جاتے ہیں تو پی ایچ پی پس منظر میں کام کرتے ہوئے مطلوبہ معلومات اکٹھی کرتی ہے اور اسے ایسے انداز میں پیش کرتی ہے جسے آپ ویب پر آسانی سے پڑھ سکیں۔

    تاہم ایک ایسی سکیورٹی خامی دریافت ہوئی ہے جو حملہ آوروں کو بغیر کسی تصدیق کے متاثرہ ویب سرورز کا کنٹرول حاصل کرنے اور حساس معلومات چوری کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ اس خامی کے باعث پی ایچ پی پر بننے والی تمام ویب سروسز ممکنہ خطرے سے دوچار ہو گئی ہیں۔

    پال سپین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) ایسے سائبر حملوں کو زیادہ آسان اور تیز بنا سکتی ہے۔ ان کے اندازے کے مطابق اس خامی سے ’لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں ویب سائٹس‘ متاثر ہو سکتی ہیں۔

  20. عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، برینٹ کروڈ 110.11 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا

    سعودی عرب پر بدھ کی رات مزید حملوں اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں امریکہ کی جانب سے اپنے سفارتکاروں اور اُن کے اہلِخانہ کے انخلا کے فیصلے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 1.29 ڈالر، یعنی 1.2 فیصد اضافے، کے بعد 110.11 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 97 سینٹ، یعنی ایک فیصد اضافے کے ساتھ 98.12 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

    اس سے ایک روز قبل، یعنی بدھ کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً مستحکم رہی تھی۔

    امریکی حکام نے روئٹرز کو بتایا کہ امریکی محکمہ خارجہ خطے میں واقع متعدد امریکی سفارتی مشنز سے بھی اہلِخانہ کے ارکان کو واپس بلانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔