پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع گوادر میں ’تعمیراتی کمپنی کے خالی کیمپ‘ پر حملے کو ناکام بناتے ہوئے تین عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔
محسن نقوی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جمعرات کی شام سے ہی ضلع گوادر سے بے امنی کے واقعات کی اطلاعات گردش کر رہی تھیں۔
تاہم وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں اس حملے میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی کوئی تفصیلات نہیں دیں۔
دوسری جانب بی بی سی اردو کو تین سینیئر سرکاری حکام نے گوادر میں تین مقامات پر نامعلوم مسلح افراد کے حملوں کی تصدیق کی ہے۔
سرکاری اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ حملے گوادر شہر کے قریب ایک سرکاری تعمیراتی کمپنی کے کیمپ کے علاوہ سُنٹسر اور ایران کے ساتھ واقع سرحدی علاقے گبد ریمدان 250 بارڈر پر کیے گئے۔
ان میں سے ایک سینیئر اہلکار نے ان حملوں میں دو افراد کے زخمی ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے، تاہم بی بی سی اردو کسی بھی قسم کے نقصان کی آزادنہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
گوادر سے تعلق رکھنے والے ایک شہری محمد عارف نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انھیں گوادر شہر سے شمال میں اندازاً 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تعمیراتی کمپنی کے کمپاؤنڈ سے ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اس علاقے سے اچھے خاصے فاصلے پر تھے، لیکن ’دھماکے کی شدت بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے یوں لگا جیسے کہ یہ ان کے بالکل قریب ہوا۔‘
انھوں نے بتایا کہ شہر میں صورتحال معمول کے مطابق رہی کیونکہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی کی وجہ سے حملہ آور شہر کی جانب نہیں آسکے۔
ایک اور شہری نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’پہلے ایک زوردار دھماکہ ہوا اور بعد میں چھوٹے دھماکوں کے علاوہ فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں اور فائرنگ کا سلسلہ دیر تک جاری رہا۔‘
انھوں نے بتایا کہ دھماکے کی شدت کی وجہ سے دور واقع گھروں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔
خیال رہے 250 بارڈر کے قریب یہ حملہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا جب پاکستانی حکام کی جانب سے سرحدی تجارت پر بعض پابندیوں کی وجہ سے گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد یہاں موجود تھی۔
مقامی تاجروں کے مطابق پاکستانی حکام نے گذشتہ سنیچر کو ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کے لیے سرحد کو بند کردیا گیا۔ تاہم دو روز بعد سرحد کو ان برآمدات کے لیے کھول دیا گیا جو کہ ترکی اور وسطی ایشائی ریاستوں کے لیے تھیں۔
تاہم بدھ سے ایران اور پاکستان کے درمیان ان گاڑیوں کو بھی آمدورفت کی اجازت دی گئی، جن میں کھانے پینے کی اشیا موجود تھیں تھیں۔
درایں اثنا ضلعی انتظامیہ گوادر اور پولیس کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 250 بارڈر اور گرد و نواح میں امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز اور دیگر متعلقہ اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو مکمل طور پر کنٹرول میں لے لیا۔
پریس ریلیز میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف پولیس اور متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کردہ مستند معلومات پر اعتماد کریں۔