ناسا کی نایاب تصاویر

وقت اشاعت

خلابازوں کی نایاب تصاویر کا مجموعہ لندن میں نیلام کیا جا رہا ہے

ناسا کے ابتدائی دور کے خلا بازوں کی نایاب تصاویر کا مجموعہ لندن میں نیلام کیا جا رہا ہے۔ ان میں وہ تصاویر بھی شامل ہیں جو اس سے پہلے کبھی شائع نہیں کی گئیں، بعض تصاویر میں خلا نوردی کے ابتدائی دنوں میں چاند کی سطح پر لی گئی تصاویر شامل ہیں۔ خلا باز ویلیئم اینڈرز نے زمین کی تصویر دسمبر 1968 میں ہیلزل بلیڈ کیمرے کا استعمال کرتے ہوئے اپالو 8 کے دوران لی تھی۔ توقع ہے کہ یہ 1000 سے 1500 پاؤنڈ میں نیلام ہو گی۔
،تصویر کا کیپشنناسا کے ابتدائی دور کے خلا بازوں کی نایاب تصاویر کا مجموعہ لندن میں نیلام کیا جا رہا ہے۔ ان میں وہ تصاویر بھی شامل ہیں جو اس سے پہلے کبھی شائع نہیں کی گئیں، بعض تصاویر میں خلا نوردی کے ابتدائی دنوں میں چاند کی سطح پر لی گئی تصاویر شامل ہیں۔ خلا باز ویلیئم اینڈرز نے زمین کی تصویر دسمبر 1968 میں ہیلزل بلیڈ کیمرے کا استعمال کرتے ہوئے اپالو 8 کے دوران لی تھی۔ توقع ہے کہ یہ 1000 سے 1500 پاؤنڈ میں نیلام ہو گی۔
چاند کے لیے اپالو 11 مشن سے بز ایلڈرن کی ایک پوٹریٹ جس میں نیل آم سٹرانگ کھڑے ہیں اور ان کے ہیلمٹ کی سکرین میں چاند گاڑی کا عکس دکھائی دے رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنچاند کے لیے اپالو 11 مشن سے بز ایلڈرن کی ایک پوٹریٹ جس میں نیل آم سٹرانگ کھڑے ہیں اور ان کے ہیلمٹ کی سکرین میں چاند گاڑی کا عکس دکھائی دے رہا ہے۔
یہ خلا سے لی جانے والے پہلی تصویر ہے جسے وی 2 راکٹ پر نصب کیمرہ سے 24 اکتوبر سنہ 1946 میں اتارا گیا۔ اس منصوبے سے وابستہ کلیڈے ہالیڈے نامی ایک انجینیئر نے نیشنل جیو گرافک میں لکھا کہ اس تصویر سے ہمیں پہلی مرتبہ پتا چلا کہ کسی دوسرے سیارے سے آنے والوں کو ہماری زمین کیسی دکھائی دیتی ہوگی۔
،تصویر کا کیپشنیہ خلا سے لی جانے والے پہلی تصویر ہے جسے وی 2 راکٹ پر نصب کیمرہ سے 24 اکتوبر سنہ 1946 میں اتارا گیا۔ اس منصوبے سے وابستہ کلیڈے ہالیڈے نامی ایک انجینیئر نے نیشنل جیو گرافک میں لکھا کہ اس تصویر سے ہمیں پہلی مرتبہ پتا چلا کہ کسی دوسرے سیارے سے آنے والوں کو ہماری زمین کیسی دکھائی دیتی ہوگی۔
اپالو 11 کے تقریبا 20 برس بعد تک نیل آرم سٹرانگ کی جو چند تصویر عام تھیں وہ صرف ٹی وی کیمرہ کی کچھ تصاویر اور 16 ایم ایم کی فلم فوٹیج تھی۔ تاہم اس کے بعد یہ تصویر ہیوسٹن میں ناسا کی آرکائیو سے ملی۔
،تصویر کا کیپشناپالو 11 کے تقریبا 20 برس بعد تک نیل آرم سٹرانگ کی جو چند تصویر عام تھیں وہ صرف ٹی وی کیمرہ کی کچھ تصاویر اور 16 ایم ایم کی فلم فوٹیج تھی۔ تاہم اس کے بعد یہ تصویر ہیوسٹن میں ناسا کی آرکائیو سے ملی۔
یہ تصویر ایڈ وائٹ کی ذاتی البم سے لی گئی ہے جو انھوں نے سنہ 1965 میں انسان کے دوسرے خلائی مشن جیمنائی 4 کے دوران کی گئی چہل قدمی کے وقت بنائی۔
،تصویر کا کیپشنیہ تصویر ایڈ وائٹ کی ذاتی البم سے لی گئی ہے جو انھوں نے سنہ 1965 میں انسان کے دوسرے خلائی مشن جیمنائی 4 کے دوران کی گئی چہل قدمی کے وقت بنائی۔
نومبر سنہ 1966 میں جیمنائی 12 مشن کے دوران خلا باز بز ایلڈرن نے پہلی مرتبہ خلا میں اپنی تصویر اتاری۔
،تصویر کا کیپشننومبر سنہ 1966 میں جیمنائی 12 مشن کے دوران خلا باز بز ایلڈرن نے پہلی مرتبہ خلا میں اپنی تصویر اتاری۔
ایلڈرن نے سنہ 1969 میں اپالو 11 مشن کے دوران چاند کی سطح پر پڑنے والے قدموں کے نشان کی یہ تصویر بھی بنائی۔ نیلامی  میں شامل تمام تصاویر نادر ہیں اور یہ بنائے جانے کے فوری بعد اعلی معیار کے کوڈک کاغذ پر پرنٹ کی گئی تھیں جس کی اندازاً قیمت 300 سے 10000 پاؤنڈ ہے۔ ’زمین سے چاند تک‘ نامی یہ نیلامی لندن کے ڈریویٹس اور بلومزبری آکشنز میں 26 فروری 2015 کو نیلام کی جائیں گی۔ (تصاویر بشکریہ بلومزبری آکشنز)
،تصویر کا کیپشنایلڈرن نے سنہ 1969 میں اپالو 11 مشن کے دوران چاند کی سطح پر پڑنے والے قدموں کے نشان کی یہ تصویر بھی بنائی۔ نیلامی میں شامل تمام تصاویر نادر ہیں اور یہ بنائے جانے کے فوری بعد اعلی معیار کے کوڈک کاغذ پر پرنٹ کی گئی تھیں جس کی اندازاً قیمت 300 سے 10000 پاؤنڈ ہے۔ ’زمین سے چاند تک‘ نامی یہ نیلامی لندن کے ڈریویٹس اور بلومزبری آکشنز میں 26 فروری 2015 کو نیلام کی جائیں گی۔ (تصاویر بشکریہ بلومزبری آکشنز)