’شہریت پر تنازع، 30 افراد نہ یونان کے نہ پاکستان کے‘

 ایف آئی اے کے حکام کے مطابق وزارت داخلہ کی طرف سے اُنھیں طیارے کو واپس بھیجنے سے متعلق ہدایات نہیں ملیں
،تصویر کا کیپشن ایف آئی اے کے حکام کے مطابق وزارت داخلہ کی طرف سے اُنھیں طیارے کو واپس بھیجنے سے متعلق ہدایات نہیں ملیں
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

یونان سے ڈی پورٹ ہو کر جمعرات کو خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد پہنچنے والے 30 افراد کو ان کی قومیت کی شناخت نہ ہونے پر پاکستانی حکام نے واپس یونان بھیج دیا ہے۔

یونان سے ایک چارٹرڈ طیارہ 49 افراد کو لے اسلام آباد کے بے نظیر انٹرنیشل ایئرپورٹ پر اترا تھا۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ طیارے میں سوار19 افراد کی شناخت پاکستانی ہونے کے بعد انھیں جہاز سے اترنے کی اجازت دی گئی جبکہ باقی کو واپس یونان بھجوا دیا گیا ہے۔

جن افراد کی شہریت کی تصدیق کر لی گئی انہیں گرفتار کرکے پاسپورٹ سیل کے حوالے کردیا گیا۔

بےنظیر بھٹو انٹرنیشل ایئر پورٹ پر تعینات ایف آئی اے کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ پاسپورٹ سیل کے حوالے کیے جانے والے19 افراد کے نام اس فہرست میں شامل تھے جو چند روز پہلے وزارت داخلہ کی طرف سے اُنھیں موصول ہوئی تھی جس میں 38 افراد کے نام ہیں۔

حکام کے مطابق مذکورہ افراد کی شہریت کے بارے میں یونان کی حکومت نے پاکستانی حکومت کو ایک مراسلے میں لکھا تھا۔ بعدازاں پاکستانی حکام نے ان افراد کی شہریت کی تصدیق کی تھی۔

پاکستانی حکام نے اسلام آباد کے بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر یونان سے آنے والے 30 پاکستانیوں کو طیارے سے اترنے کی اجازت نہیں دی ہے۔

ان افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اُنھیں یونان سے غیر قانونی دستاویزات رکھنے پر ملک بدر کیا گیا تھا۔

<link type="page"><caption> ’یورپ جانے والے تارکین وطن کی واپسی پر مذاکرات کامیاب‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/11/151123_illegal_pakistani_migrant_europe_tk.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ناروے سے غیر قانونی پاکستانی تارکینِ وطن کی واپسی میں تیزی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/11/151127_pakistani_deported_fz.shtml" platform="highweb"/></link>

ہوائی ڈے پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے طیارے کو حصار میں بھی لے لیا تھا۔

ایئرپورٹ پر موجود وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے حکام کے مطابق یونان سے آنے والے چارٹرڈ طیارے پر 49 پاکستانی سوار تھے جن میں سے صرف 19 ایسے تھے جن کے نام یونانی حکام کی جانب سے فراہم کردہ فہرست میں شامل تھے اور ان کے پاکستانی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

ایف آئی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ اُنھیں وزارت داخلہ کی طرف سے خصوصی ہدایات دی گئی ہیں جب تک دیگر ملکوں اور بالخصوص یورپ سے ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانیوں کے بارے میں ناقابل تردید شواہد پیش نہیں کیے جاتے اس وقت تک اُنھیں پاکستانی سرزمین پر لینڈ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

حال ہی میں یورپ جانے کے خواہشمند کچھ پاکستانیوں کی لاشیں واپس آئی تھیں
،تصویر کا کیپشنحال ہی میں یورپ جانے کے خواہشمند کچھ پاکستانیوں کی لاشیں واپس آئی تھیں

وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق تارکین وطن کے امور کے بارے میں یورپی یونین کے حکام سے حالیہ ملاقات میں یہ طے کیا گیا تھا کہ یورپی یونین اور پاکستانی حکومت کے درمیان سنہ 2009 میں ہونے والے معاہدے کے سقم دور کیے جائیں گے۔

وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق ابھی یہ معاملہ حل نہیں ہوا اور اس سے پہلے ہی یورپی یونین کے رکن ملک کی طرف سے اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جن پاکستانیوں کو یونان سے ڈی پورٹ کیا گیا ہے ان کے بارے میں پاکستانی حکام کو پہلے سے نہ تو کوئی معلومات دی گئیں اور نہ ہی ان افراد کی شہریت کے بارے میں پاکستانی حکام نے کوئی تصدیق کی ہے۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق اس سے پہلے بھی یونان سے کچھ پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا تھا تاہم اُنھیں جہاز سے اترنے کی اجازت دی گئی تھی۔

اہلکار کے مطابق یونان میں سینکڑوں پاکستانی جعلی دستاویزات کے الزام میں پکڑے گئے ہیں جنھیں واپس بھجوانے کے لیے یونان کی حکومت نے تمام تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بدھ کو پاکستان میں کینیڈین ہائی کمشنر کو بھی ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کینیڈا کی سفری دستاویزات پر سفر کرنے والے کسی بھی ڈی پورٹ ہونے والے شخص کو قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اُن کے ساتھ آنے والے سرکاری حکام کو امیگریشن کی اجازت دی جائے گی۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ کسی پاکستانی شہری کو حکومت پاکستان کے علاوہ کسی دوسرے ملک کی طرف سے جاری کردہ سفری دستاویزات پر ڈی پورٹ کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔