بھارت: انتخابات مکمل، ابتدائی جائزوں میں بی جے پی آگے

،تصویر کا ذریعہAP
بھارت میں تقریباً چھ ہفتوں سے جاری پارلیمانی انتخابات میں آخری مرحلے کی پولنگ مکمل ہونے کے بعد مقامی ذرائع ابلاغ کے ایگزیٹ پول یا ابتدائی جائزوں کےمطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کو برتری حاصل ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی انتحابی مہم میں زیادہ سرگرم تھی تاہم ماہرین کے مطابق ماضی میں مقامی ذرائع ابلاغ کی پیشنگوئیاں اور ایگزٹ پولز کے نتائج کئی بار غلط ثابت ہوئے ہیں۔
پارلیمانی انتخابات کے دوران نو مرحلوں میں کل 543 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔
الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کیے گئے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ان انتخابات میں 66.38 فیصد ووٹروں نے حقِ رائے دہی استعمال کیا جو بھارتی انتخابات کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ اس سے پہلے 1984 کے انتخابات میں ریکارڈ ووٹنگ ہوئی تھی۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں ووٹ کے حتمی اعداد و شمار منگل کو جاری کیے جائیں گے۔
پیر کی شام کو مقامی میڈیا کے ایگزٹ پول میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سربراہی میں قائم اتحاد ’این ڈی اے‘ یعنی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کو برتری حاصل ہے اور حکمران جماعت کانگرس پیچھے ہے۔
بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق ’این ڈی اے‘ 261 سے 283 نشستیں حاصل کر سکتی ہے۔ ٹائمز ناؤ کے مطابق حزب مخالف کے اتحاد کو 249 نشستیں مل سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ آئی بی این نیوز نیٹ ورک کے مطابق ’این ڈے اے‘ اتحاد کو 270 سے 282 جبکہ اس میں سے بے جے پی 230 سے 242 سیٹیں جیت سکتی ہے۔ اس نیوز نیٹ ورک کے مطابق کانگریس کی سربراہی میں قائم اتحاد ’یو پی اے ‘کو 92 سے 102 نشستیں مل سکتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی طرح سے اے بی پی نیوز نیٹ ورک نے بی جے پت اتحاد کو 281 جبکہ کانگریس کے اتحاد یو پی اے کو 97 نشستیں دی ہیں۔
بھارت میں کسی جماعت یا اتحاد کو حکومت سازی کے لیے 272 سیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
پیر کو نویں اور آخری مرحلے میں تین ریاستوں کی 41 نشستوں کے لیے پولنگ ہوئی جن میں اتر پردیش کی 18، مغربی بنگال کی 17 اور بہار کی چھ نشستیں شامل تھیں۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق مغربی بنگال میں پولنگ کی شرح اناسی اعشاریہ تین فیصد پولنگ ہوئی وہیں بہار میں 58 اور اترپردیش میں 55 فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
نویں مرحلے میں سب نظریں اترپردیش میں وارانسی یعنی بنارس کی اہم نشست پر مرکوز رہیں، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیرِاعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی کا مقابلہ کانگریس کے امیدوار اجے رائے اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال سے تھا۔
واضح رہے کہ کیجریوال نے گذشتہ سال دہلی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اس وقت کی وزیراعلیٰ شیلا دیکشت کے خلاف انتخابات لڑتے ہوئے انھیں واضح فرق سے شکست دی تھی اور جب پارلیمانی انتخابات کا اعلان ہوا تو انھوں نے کہا تھا کہ وہ نریندر مودی کے خلاف انتخابی میدان میں اتریں گے خواہ وہ کہیں سے امیدوار ہوں۔
بنارس میں کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ اس قدر سیاسی گہماگہمی دیکھی گئی اور نریندر مودی کو چیلنج کرنے والے اروند کیجریوال کے سینکڑوں رضاکار گھر گھر جا کر مہم چلاتے رہے۔
نامہ نگاروں کے مطابق اس نشست کا نتیجہ ملک کا سیاسی مستقبل بدل سکتا ہے۔ اگر بی جے پی پارلیمان میں اکثریت حاصل کر بھی لے لیکن مودی بنارس سے ہار جائیں تو ان کے لیے وزیراعظم بننا تقریباً ناممکن ہوجائے گا، حالانکہ وہ گجرات میں وڈودرا سے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
اس کے علاوہ اترپردیش میں برسراقتدار جماعت سماج وادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو اعظم گڑھ کی نشست سے قسمت آزمائی کی۔
سات اپریل سے شروع ہونے والے ان انتخابات میں 81 کروڑ سے زیادہ لوگوں کے نام انتخابی فہرستوں میں درج تھے اور اندازہ ہے کہ ان میں سے 55 کروڑ سے زیادہ افراد نے ووٹ ڈالے ہیں۔
ووٹوں کی گنتی 16 مئی کی صبح شروع ہوگی اور امکان ہے کہ دوپہر تک صورتحال واضح ہو جائے گی کہ کون سی پارٹی یا اتحاد حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے.
بھارت کی لوک سبھا کے علاوہ چار ریاستوں، اڑیسہ، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور سکم کی ریاستی اسمبلیوں کے لیے بھی انتخابات ہوئے ہیں اور ان کے نتائج کا اعلان بھی 16 مئی کو ہی ہوگا۔



















