’سائبر خطرات سے بچاؤ کی نئی حکمت عملی‘

امریکہ محکمۂ دفاع پینٹاگون امریکی سائبر صلاحتیوں میں اضافے کے حوالے سے ایک حکمت عملی منظر عام پر لایا ہے۔
اس حکمت عملی کا مقصد امریکہ میں سائبر خطرات اور حملوں سے بچنےکے حوالے سے صلاحتیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ڈپٹی سیکرٹری دفاع ویلیم لائن کے مطابق’ اکسیویں صدی میں بائٹس اور بٹس گولیوں اور بموں کی طرح خطرناک ہو سکتے ہیں۔‘
<link type="page"><caption> امریکہ کو ڈیجیٹل فوج کی ضرورت ہے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2009/05/090506_us_digital_force.shtml" platform="highweb"/></link>
اس نئی حکمت عملی کے تحت پینٹاگون سائبر سپیس سے اسی طرح نمٹنے گا جس طرح زمینی، فضائی اور سمندری خطرات سے نمٹا ہے۔
نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے ویلیم لائن نے کہا کہ’مستقبل میں سائبر حملوں کی توجہ صرف معلومات چوری کرنے پر مرکوز نہیں ہو گی بلکہ اس سے امریکی دفاع کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے اور یہاں تک کہ اس کی وجہ سے ہلاکتیں بھی رونما ہو سکتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے سائبر چوروں نے میزائل ٹریکنگ اور جوائنٹ سٹرائک فائٹرز سے متعلق فائلز چوری کرنے کی کوششیں کی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
دریں اثناء پینٹاگون کا کہنا ہے مارچ میں اس پر ایک بڑا سائبر حملہ ہوا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈپٹی سیکرٹری دفاع کے مطابق دفاعی انڈسٹری کے ایک کمپیوٹر سے پینٹاگون کے ڈیٹا کی چوبیس ہزار فائلیں چرائی گئی تھیں۔
اس کو امریکی تاریخ کا سب سے بڑا سائبر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ چوری کی جانے والی عام نوعیت کی تھیں جن میں ٹینکوں کے چھوٹے پرزوں، جہازروں اور آب دوزوں کے چھوٹے آلات کی تفصیلات تھیں۔
انھوں نے اس بارے میں محدود معلومات فراہم کیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کا تعلق غیر ملکی حکومت سے ہے۔
اس سے پہلے الزام لگایا جا رہا تھا کہ اس سائبر حملے میں چین یا روس ملوث ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈپٹی سیکرٹری دفاع نے کہا کہ’ ہمیں اس بارے میں بہت اچھی طرح اندازہ ہے کہ یہ کس نہ کیا۔‘



















