فیس بک کے حصص کی فروخت کا معتدل آغاز

امریکی شہر نیویارک کے بازارِ حصص میں سماجی روابط کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک کے حصص کی خرید و فروخت کا پہلا دن معتدل رہا اور اس کے حصص اندازے سے معمولی زیادہ اڑتیس اعشاریہ دو تین ڈالر فی شیئر پر فروخت ہوئے۔
جمعہ کو کاروبار کے آغاز کے ساتھ ہی فیس بک کے جس شیئر کی ابتدائی قیمت اڑتیس ڈالر رکھی گئی وہ قیمت تینتالیس ڈالر تک پہنچ گئی۔
تاہم بعد میں حصص کی قیمت چالیس ڈالر اور پھر ٹریڈنگ کے اختتام پر اڑتیس اعشاریہ دو تین ڈالر فی شیئر پر بند ہوئی۔
فیس بک کے حصص کی خرید و فروخت میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے تقریباً تیس منٹ کی تاخیر ہوئی، ماہرین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیئرز کی کتنی طلب ہے۔
اس سے قبل فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے نیسڈیک میں جمعہ کے دن کا کاروبار شروع ہونے کا باقاعدہ اعلان کیا۔
کیلیفورنیا میں فیس بک کے ہیڈکوارٹر میں موجود زکربرگ نے ویڈیو لنک کے ذریعے نیویارک سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز کی روایتی تقریب میں شرکت کی۔
نیویارک کے بازارِ حصص میں فروخت کے لیے پیش کیے جانے والے فیس بک کے ہر شیئر کی قیمت اڑتیس ڈالر طے کی گئی ہے اور اس لحاظ سے اس آٹھ سال پرانی کمپنی کی قدر ایک سو چار ارب ڈالر ہوگی۔
ابتدائی طور پر فیس بک کے چار سو اکیس ملین حصص کا تقریباً پانچواں حصہ فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے اور اس فروخت سے کمپنی کو سولہ ارب ڈالر حاصل ہوں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فیس بک کہہ چکی ہے کہ بازار میں موجود طلب کو دیکھتے ہوئے وہ پہلے سے طے شدہ حصص سے پچیس فیصد سے زیادہ حصص فروخت کرے گی۔

تاہم یہ حصص حاصل کرنے والے افراد کمپنی کے چلانے میں زیادہ کردار ادا نہیں کر سکیں گے۔ اس کی وجہ فیس بک کی جانب سے فروخت کے لیے پیش کیے جانے والے حصص کو دو اقسام میں بانٹنا ہے۔
ایک قسم کے حصص کو ’اے شیئر‘ کا نام دیا گیا ہے جس کا ایک ووٹ ہو گا جبکہ کمپنی کے موجود مالک کے حصص کو ’بی شئیر‘ کا نام دیا گیا ہے جس کے مطابق ہر شیئر کے دس ووٹ ہوں گے۔
پبلک لسٹنگ کے بعد بی شیئرز کمپنی کے چھیانوے فیصد سے زائد حصے پر کنٹرول حاصل کر لیں گے جس میں فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کا حصہ چھپن فیصد کے قریب ہوگا۔
کمپنی کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کمپنی کے پچیس فیصد حصے کے مالک ہیں۔
آٹھ سال پہلے شروع ہونے والی ویب سائٹ فیس بک کے اس وقت نوے کروڑ صارف ہیں اور گزشتہ سال اس کا منافع ایک ارب ڈالر تھا۔



















