فیس بک پر تیراسی ملین جعلی صارفین

،تصویر کا ذریعہAP
سماجی رابطوں کی مقبول ویب سائٹ فیس بک کے مطابق اس کی ویب سائٹ پر اس وقت آٹھ کروڑ تیس لاکھ سے زائد غیر قانونی اکاؤنٹس یا جعلی صارفین ہیں۔
فیس بک کی جانب سے رواں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت فیس بک کے صارفین کی تعداد پچانوے کروڑ پچاس لاکھ ہے اور ان میں سے آٹھ اعشاریہ سات فیصد نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔
دوہرے اکاؤنٹس یا دوہری شناخت رکھنے والے صارفین کل تعداد کا چار اعشاریہ آٹھ فیصد ہیں۔
<link type="page"><caption> فیس بک: لائیکس اور اشتہارات کی قدر مشکوک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2012/07/120713_facebook_likes_tim.shtml" platform="highweb"/></link>
اس کے علاوہ کاروبار یا پالتو جانوروں کے لیے ذاتی پروفائلز یا معلومات کا غیر درجہ بندی تناسب دو اعشاریہ چار فیصد ہے جبکہ ایک اعشاریہ پانچ فیصد صارفین کوناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔
فیس بک کی جانب سے یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب اس پر دیے جانے والے اشتہارات کے موثر ثابت ہونے کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
فیس بک کے مطابق دوہرے اکاؤنٹس وہ ہیں جس میں صارف اپنے بنیادی اکاؤنٹ کے علاوہ دوسرے اکاؤنٹ کو استعمال کرتا ہے۔
اس کے علاوہ ناپسندیدہ اکاؤنٹس وہ ہیں جس میں صارف جعلی نام استعمال کرتا ہے اور ایسا کرنے کا ارادہ کمپنی کے سپیمنگ جیسے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فیس بک کے کاوباری ماڈل کا انحصار اشتہارات کے ایک مخصوص انداز پر ہے اور اس میں صارفین کی جانب سے مصنوعات یا اشتہارات کو پسند کرنے کے طریقۂ کار کی چھان بین کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔
فیس بک کے مطابق’ آمدنی کا ایک معقول حصہ اشتہارات سے حاصل کیا جاتا ہے اور اشتہارات سے محروم ہونا یا فیس بک پر اشتہار دینے والوں کی تعداد میں کمی سے ہمارے کاوباری پر انتہائی برا اثر پڑ سکتا ہے۔‘
بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق فیس بک پر لائیکس حاصل کرنے کے لیے اشتہارات دینے پر کمپنیاں خطیر رقم ضائع کر رہی ہیں جن کا شاید ان کی مصنوعات سے دور تک کا تعلق نہیں ہے۔
گزشتہ ماہ بی بی سی ٹیکنالوجی کے نامہ نگار روئے سیلن جونز نے فیس بک پر جعلی پسند کے الزامات کا جائزہ لینے کے لیے ورچوئل بیگل کے نام سے ایک جعلی کمپنی بنائی تھی۔
اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ جعلی کمپنی کو پسند کرنے والے صارفین کی ایک بڑی تعداد کا تعلق مشرق وسطیٰ اور ایشیا سے تھا۔
اس میں کئی صارفین نقلی تھے جسیا کہ احمد رونالڈو جو بظاہر مصر میں مقیم تھے اور ایک ہسپانوی فٹبال کلب رئیل میڈرڈ کے ملازم تھے۔
اسی طرح سے گزشتہ ہفتے ایک ڈیجیٹل ڈسٹریبوشن لمیٹڈ پریس نے اپنے طور پر ایک سافٹ وئیر کے ذریعے کی گئی تحقیق میں فیس بک پر الزام لگایا تھا کہ اس کے اشتہارات کو پسند یا کلک کرنے والوں کی اسی فیصد تعداد جعلی تھی۔



















