عالمی پیمانے پر شراب کی پیداوار میں کمی

ایک رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ دنیا کو شراب کی قلت کا سامنا ہے اور فراہمی کے مقابلے عالمی پیمانے پر اس کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ کی مورگن سٹینلي فائنینشل سروسز کمپنی نے اس بابت تحقیق کی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق سنہ 2012 میں شراب کی مانگ اس کی فراہمی کے مقابلے 30 کروڑ ڈرم (تقریباً 225 لیٹر) زیادہ تھی۔
اسے گذشتہ 40 برسوں میں شراب کی مانگ اور فراہمی کے درمیان سب سے بڑے عدم توازن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
گذشتہ چار دہائیوں میں شراب کی پیداوار گذشتہ سال سب سے کم سطح پر تھی۔
شراب کی عالمی پیداوار سنہ 2004 میں سب سے زیادہ سطح پر پہنچنے کے بعد سے مسلسل کمی کا شکار ہے۔
مورگن سٹینلي کے تجزیہ نگار ٹام كرتھ اور کرسٹل وینگ کی رپورٹ کے مطابق سنہ 1996 کے بعد سے شراب کی عالمی کھپت 2008 اور 2009 کو چھوڑ کر اس وقت تین ارب ڈرم سالانہ ہے۔
فی الوقت پوری دنیا میں شراب کے دس لاکھ سے زیادہ کارخانے ہیں جو سالانہ 8.2 ارب ڈرم شراب تیار کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مصنفین کا خیال ہے کہ آنے والے زمانے میں شراب کا ذخیرہ ہے وہ کم ہو سکتا ہے کیونکہ موجودہ کھپت کا زیادہ تر حصہ شراب کے پرانے یونٹس سے پورا کیا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ استعمال کی موجودہ سطح کو دیکھتے ہوئے جب شراب کی فراہمی 2012 کی اکائیوں سے کی جائے گی تو مانگ اور فراہمی کے عدم توازن کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ شراب کی مانگ بڑھے گی اور اس کا براہِ راست اثر اس کی قیمت پر پڑے گا۔
شراب کی قلت کو ویٹی کلچر یعنی شراب کی کاشت اور کشید میں کمی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے اور پیداوار کی گرتی صورت حال کے لیے خراب موسم کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔
شراب کی مجموعی عالمی پیداوار میں گذشتہ سال دس فیصد کی کمی درج کی گئی جب کہ پیداوار کی سب سے زیادہ سطح والے سال یعنی سنہ 2004 کے مقابلے اب تک اس میں 25 فیصد کی کمی واقع ہو چکی ہے۔
تاہم امریکہ، آسٹریلیا، ارجنٹائن، چِلی، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ جیسے ممالک میں شراب کی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے۔



















