بولنگ ایکشن کی درستگی، حفیظ کی وطن واپسی

محمد حفیظ  کو اپنے بولنگ ایکشن کا تجزیہ کرانے کے لیے اکیس روز میں آئی سی سی کی منظور شدہ لیبارٹری سے رجوع کرنا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمحمد حفیظ کو اپنے بولنگ ایکشن کا تجزیہ کرانے کے لیے اکیس روز میں آئی سی سی کی منظور شدہ لیبارٹری سے رجوع کرنا ہے۔
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اْردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

پاکستان کرکٹ بورڈ نے محمد حفیظ کو ان کے بولنگ ایکشن کی درستگی کے لیے وطن واپس بلانے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ کے لیے دستیاب نہیں ہونگے جو چھبیس نومبر سے شارجہ میں کھیلا جائے گا۔

واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف ابوظہبی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ کے امپائرز نے محمد حفیظ کے بولنگ ایکشن کے قواعد وضوابط کے برخلاف ہونے کے بارے میں رپورٹ دی تھی جس کی رو سے انہیں اکیس روز میں اس کی درستگی کے لیے آئی سی سی کی کسی بھی منظور شدہ لیبارٹری سے رجوع کرنا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریارخان نے بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ محمد حفیظ تیسرا ٹیسٹ نہیں کھیل پائیں گے۔ انہیں وطن واپس بلانے کا مقصد یہ ہے کہ ان کے بولنگ ایکشن کا پی سی بی اپنے طور پر جائزہ لے اور پھر اس کی روشنی میں انہیں لفبرا کی لیبارٹری میں ہونے والی ٹیسٹنگ کے لیے بھیجا جائے۔

محمد حفیظ کا معاملہ اتنا سنگین نہیں ہے۔امپائروں نے ان کی صرف چار گیندوں پر اعتراض کیا تھا: شہر یار خان
،تصویر کا کیپشنمحمد حفیظ کا معاملہ اتنا سنگین نہیں ہے۔امپائروں نے ان کی صرف چار گیندوں پر اعتراض کیا تھا: شہر یار خان

شہریارخان کا کہنا ہے کہ محمد حفیظ کا معاملہ اتنا سنگین نہیں ہے کیونکہ امپائرز نے ان کی صرف چار گیندوں پر اعتراض کیا تھا تاہم اگر ضرورت پیش آئی تو پھر محمد حفیظ کے لیے بھی انگلینڈ میں ثقلین مشتاق کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں جو پہلے ہی سعید اجمل کے بولنگ ایکشن پر کام کررہے ہیں۔

شہریارخان نے کہا کہ محمد حفیظ کا بولنگ ایکشن کلیئر ہوگیا تو پھر انہیں ون ڈے سیریز کے لیے دوبارہ متحدہ عرب امارات بھیجا جائے گا۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل چار اور پانچ دسمبر کو کھیلے جائیں گے جس کے بعد پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز آٹھ دسمبر سے شروع ہوگی۔

شہریارخان نے کہا کہ سعید اجمل اپنے بولنگ ایکشن پر بہت محنت کررہے ہیں تاہم وہ چالیس سے کم ہوکر بیس ڈگری تک آگیا ہے لیکن اسے اب بھی پندرہ ڈگری تک لانا ہے جو آئی سی سی نے حد مقرر کررکھی ہے اسی لیے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے کلیئر ہونے کا چانس ففٹی ففٹی ہے۔