ٹراٹ برطانیہ کی کامیاب ترین خاتون اولمپیئین بن گئیں

وقت اشاعت

برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں جاری اولمپکس میں برطانوی سائیکلسٹ لارا ٹراٹ نے نہ صرف اپنے ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کیا ہے بلکہ وہ اولمپکس میں چار طلائی تمغے جیتنے والی پہلی برطانوی خاتون بھی بن گئیں۔

24 سالہ عالمی چیمپیئن اب شارلٹ ڈوژارڈن سے آگے نکل گئي ہیں جنھوں نے گھڑ سواری کے انفرادی ڈریسیج مقابلوں میں تیسرا طلائی تمغہ حاصل کیا تھا۔

لارا ٹراٹ نے سائیکلنگ کے انفرادی اومنیم مقابلے میں 24 پوائنٹس سے کامیابی حاصل کی۔ انھوں نے مجموعی طور پر 230 پوائنٹس حاصل کیے۔

انھوں نے خوشی سے چھلکتے آنسوؤں کے ساتھ کہا: ’مجھے یقین ہی نہیں آ رہا۔ مجھے اس کی بالکل امید نہیں تھی۔‘

اس سے قبل لندن اولمپکس میں انھوں نے ٹیم پرسوٹ اور اومنیم میں طلائی تمغہ حاصل کیا تھا۔

لورا ٹراٹ نے اس سے قبل لندن اولمپکس میں بھی دو طلائی تمغے حاصل کیے تھے
،تصویر کا کیپشنلورا ٹراٹ نے اس سے قبل لندن اولمپکس میں بھی دو طلائی تمغے حاصل کیے تھے

اومنیم میں سائیکلنگ کے مختلف مقابلے ہوتے ہیں اور وہ اپنی پہلی سکریچ ریس میں دوسرے نمبر پر تھیں لیکن انھوں نے انفرادی پرسوٹ اور مقابلے سے خارج ہونے والی ریس میں پیر کو کامیابی حاصل کی۔

انھیں اس ریس میں بلجیئم کی جولی ڈی ہورے پر آٹھ پوائنٹس کی سبقت حاصل تھی جبکہ ہیمر تیسرے نمبر پر تھیں۔

انھوں نے فلائنگ کے دور میں اپنی سبقت دگنی کر لی۔

ٹراٹ نے کہا: ’تمام لوگوں اور بطور خاص ہمارے کوچ پال میننگ کے تعاون کے بغیر یہ نہیں ہو پاتا۔ وہ تقریباً ہر دن میرے ساتھ محنت کرتے ہیں اور میں خود کو چاند پر محسوس کر رہی ہوں۔‘

انھوں نے اپنی جیت کو اپنے منگیتر کی جیت کے ساتھ دوبالا کیا۔ ان کے منگیتر جیسن کینی نے کرس ہولی کے چھ طلائی تمغوں کے ریکارڈ کو برابر کر دیا ہے۔