،تصویر کا کیپشناردا غار روس کے علاقے پرم میں دریائے کنگر پر واقع ہے۔ یہ کیلشیم سلفیٹ کرسٹل کی دنیا کا طویل ترین غار ہے اور اس میں کئی ندیاں موجود ہیں۔
،تصویر کا کیپشناردا غار کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے کے لیے پچھلے چھ ماہ میں روسی فوٹوگرافرز نے اس کی دلکش تصاویر کھینچی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنان دلکش تصاویر کی مہم کی سربراہی فوٹوگرافر اور صحافی وکٹر نے کی۔
،تصویر کا کیپشناس غار کا کچھ حصہ پانی کے اوپر ہے لیکن زیادہ حصہ زیر آب ہے۔
،تصویر کا کیپشن اس غار میں زیر آب سب سے زیادہ بڑی مصنوعی گھاٹی کی لمبائی اسّی میٹر اور چوڑائی چالیس میٹر ہے اور گہرائی پندرہ میٹر ہے۔
،تصویر کا کیپشناردا غار پہلی بار 1969 میں دریافت کیا گیا تھا لیکن اس کے بارے میں مزید معلوات حاصل کرنے کی سنجیدہ کوششیں سنہ نوے کی دہائی کے اوائل میں شروع کی گئی۔
،تصویر کا کیپشنوکٹر کی اس کتاب کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں تک اس غار کی خوبصورتی پہنچائی جا سکے جو روس آ کر اس کی خوبصورتی نہیں دیکھ سکتے۔
،تصویر کا کیپشنوکٹر کا کہنا ہے کہ اس دنیا میں صرف ایک ہزار افراد ایسے ہیں جن کے پاس ماہرانہ صلاحتوں کے ساتھ ساتھ اتنی رقم ہے کہ اس غار کے سفر کے لیے نہایت مہنگا سامان خرید سکے۔
،تصویر کا کیپشناس غار کی سرنگیں پانی سی بھری ہوئی ہیں جس کی وجہ سے پانی کا درجہ حرارت نقطۃ انجماد سے کچھ ہی زیادہ ہے۔
،تصویر کا کیپشناس غار کا جو حصہ پانی سے اوپر ہے اس کو دیکھنے کے لیے لوگ روس اور بیرون ملک سے آتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشن وکٹر کا کہنا ہے کہ سیاحوں کی بڑی تعداد کے باعث خدشہ ہے کہ غار کا داخلی حصہ بیٹھ جائے۔