’پاکستانی برادری کی دل آزاری پر معافی مانگتا ہوں‘

برطانیہ کے اٹارنی جنرل ڈومینیک گریو نے کہا ہے کہ سیاستدانوں کو ملک کی اقلیتی برادریوں میں بدعنوانی کے مسائل کا ادراک کرنے ضرورت ہے۔
برطانوی اخبار دا ڈیلی<link type="page"><caption> ٹیلی گراف سے بات کرتے ہوئے</caption><url href="http://www.telegraph.co.uk/news/politics/10469448/Corruption-rife-in-the-Pakistani-community-says-minister.html" platform="highweb"/></link> انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ان کا اشارہ خصوصاً ’پاکستانی برادری‘ کی جانب ہے۔
تاہم اٹارنی جنرل نے بعد میں اپنے بیان پر معافی مانگی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اشارہ کرنا کہ پاکستانی برادری میں بدعنوانی کے مسائل ہیں غلط تھا۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ’پاکستانی برادری کی دل آماری کرنے پر معافی مانگتا ہوں۔‘
اس سے قبل انہوں نے ٹیلیگراف اخبار کو انٹرویو می کہا تھا کہ بعض لوگ ’اقربا پروری اور نوازشات والے سماج‘ سے برطانیہ آتے ہیں لیکن انہیں یہ باور کرایا جانا چاہیے کہ ’برطانیہ میں یہ طرزِ عمل قابل قبول نہیں ہے۔‘
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ برطانیہ آنے والے بہت سے مہاجرین ایسے ممالک سے آتے ہیں جہاں بدعنوانی نے ’وبائی شکل‘ اختیار کر رکھی ہے۔
انھوں نے کہا کہ بدعنوانی کا مسئلہ ’سفید فام اینگلو سیکسن برادری میں بھی پایا جاتا ہے‘ لیکن اس میں اضافے کی وجہ ’اس ملک میں رہنے والی وہ اقلیتی برادریاں ہیں جن کا ماضی ان ممالک سے جڑا ہے جہاں کرپشن کی بیماری عام ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں سیاستدانوں کو خوابِ غفلت سے بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سوال پر کہ کیا ان کا اشارہ پاکستانیوں کی جانب سے ڈومینیک گریو نے کہا کہ ’ہاں یہ بھارتی نہیں بلکہ زیادہ تر پاکستانی برادری ہی ہے۔ تاہم میں کسی ایک کا نام نہیں لوں گا اور یہ کہنے سے اجتناب کروں گا کہ یہ صرف پاکستانیوں کا مسئلہ ہے۔‘
ڈومینیک گریو نے کہا کہ ’ان معاشروں میں آپ کو پرورش کے دوران یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ آپ کچھ چیزیں نوازشات و عنایات کی ثقافت کے تحت حاصل کر سکتے ہیں لیکن یہاں انہیں یہ بات واضح طور پر سمجھا دینی چاہیے کہ نہ صرف یہاں ایسا نہیں ہوتا بلکہ یہ یہاں قابلِ قبول بھی نہیں۔‘
کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمان نے بعدازاں بی بی سی کو جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ ’برطانیہ میں دوسری اقلیتی برادریوں کے ساتھ اختلاط کے عمل نے سب کو فوائد پہنچائے ہیں۔‘

بدعنوانی کے معاملے پر انھوں نے کہا: ’میرا اس بارے میں واضح موقف ہے کہ یہ مسئلہ کسی خاص برادری سے مخصوص نہیں اور یہ بات میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کیونکہ میں نے کئی سال مختلف برادریوں کو ساتھ مل کر رہنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔‘
واضح رہے کہ ڈومینیک گریو کے خدشات میں سنہ 2010 میں کنزرویٹو پارٹی کی بیرونس سعیدہ وارثی کے بیان کی گونج سنائی دیتی ہے۔
بیرونس وارثی نے ’نیو سٹیٹس مین‘ ميگزین سے بات چیت کے دوران کہا تھا کہ کم از کم تین سیٹیں ایسی ہیں جہاں ہمیں شکست ہوئي ہے کیونکہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور انھوں نے کہا ’اس کی وجہ بطور خاص ایشیائی برادریوں کے اندرونی مسائل ہیں۔‘



















