’مذاکرات میں ناکامی کی ذمہ دار بشارالاسد کی حکومت ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
فرانس اور برطانیہ شام کے تنازعے پرامن حل کے لیے جنیوا میں ہونے والے امن مذاکرات کی ناکامی کے لیے شامی صدر بشاالاسد کی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ ویلیم ہیگ امن مذاکرات کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ’اس کی مکمل ذمہ داری بشارالاسد کی حکومت پر ہے۔‘
جبکہ فرانس کے وزیرِ خارجہ لورین فابیئس نے شامی کو حکومت پ الزام عائد کرتے ہوئے کہ کہ’حکومت نے مذاکرات میں رکاوٹ ڈالی۔‘
<link type="page"><caption> مذاکرات پھر بےنتیجہ، ابراہیمی کی شامی عوام سے معافی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/02/140215_syria_peace_talks_rk.shtml" platform="highweb"/></link>
شام کے تنازع کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے نمائندۂ خصوصی الاخضر ابراہیمی نے سوئٹزرلینڈ میں منعقد امن مذاکرات کی ناکام پر شامی عوام سے معذرت کی تھی۔
شام کے صدر بشار الاسد اور شامی باغیوں کے نمائندوں کے درمیان جنیوا میں جاری مذاکرات کا دوسرے دور سنیچر کو مکمل ہو گیا اور الاخضر ابراہیمی کی ’ڈیڈ لاک‘ کے خاتمے کے لیے فریقین سے بات چیت کی آخری کوشش بھی ناکام ہو گئی تھی۔
سنیچر کو ہونے والی بات چیت صرف 27 منٹ جاری رہی جس کے بعد الاخضر ابراہیمی نے باہر آ کر کہا تھا کہ وہ شامی عوام سے معذرت خواہ ہیں اور بات چیت نتیجہ خیز نہیں رہی۔
برطانوی سیکریٹری خارجہ ویلیم ہیگ نہ کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ شامی حکومت ملک کے لیے عبوری انتظامیہ کے قیام کی مخالف ہے اور ’یہ مذاکرات میں بنیادی معاملہ ہے اور جو کشیدگی ختم کرنے کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ’ہم پر شام کے عوام کا حق ہے کہ ہم اس تنازعے کے سیاسی حل کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں کر لیں۔اس لیے ہم الاخضر ابراہیمی اور جنیوا میں امن مذاکرات کے عمل کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔‘
فرانس کے وزیرِ خارجہ لورین فابیئس نے کہا کہ شام نے ’عبوری انتظامیہ کے قیام میں رکاوٹ ڈالی اور عام شہریوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ کیا۔‘
روس اور امریکہ کی طرف ان مذاکرات کی ناکامی پر ابھی تک سرکاری طور پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔ دونوں شام کے جنیوا مذاکرات کے مددگار ہیں لیکن دونوں مخالف فریقین کے حمایت کرتے ہیں۔
امریکی صدر براک اوباما نے سنیچر کو صدر بشار الاسد پر مزید دباؤ بڑھانے کے لیے اقدامات پر غور کرنے کی بھی بات کی تھی۔تاہم صدر اوباما نے یہ نہیں واضح نہیں کیا تھا کہ وہ کون سے اقدامات اٹھا سکتے ہیں۔
سنیچر کو مذاکرات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے الاخضر ابراہیمی کا کہنا تھا کہ اس بات چیت کے بےنتیجہ رہنے کی بنیادی وجہ شامی حکومت کا عبوری حکومت کے بارے میں بات کرنے سے انکار تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ فریقین مذاکرات کے اگلے دور کے ایجنڈے پر متفق ہوئے ہیں لیکن شامی حکومت نے ان تجاویز کو مسترد کر دیا ہے کہ تیسرے دور میں مذاکرات کا پہلے دن تشدد اور دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں اور دوسرے دن عبوری حکومت پر بات کی جائے۔
نمائندہ خصوصی نے کہا کہ حکومت کے اس موقف سے ’شامی اپوزیشن کے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ شامی حکومت عبوری حکومت کے موضوع پر بات ہی نہیں کرنا چاہتی۔‘
الاخضر ابراہیمی کا کہنا تھا کہ فریقین کو بات چیت کے لیے دوبارہ اپنے مرکز پر واپس جانا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ وہ اس عمل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں کہ نہیں۔
انھوں نے کہا تھا کہ مذاکرات کے تیسرے دور کے لیے کوئی نظام الاوقات طے نہیں کیا گیا ہے۔
شام میں مارچ 2011 میں حکومت مخالف بغاوت کے آغاز کے بعد سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 95 لاکھ افراد کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔



















