’جنگجو کشتیوں کے ذریعے پہنچ رہے ہیں‘

انٹرپول نے ایسے افراد کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جو جہاد میں شمولیت کے لیے کروز شپس کے ذریعے سفر کرتے ہیں
،تصویر کا کیپشنانٹرپول نے ایسے افراد کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جو جہاد میں شمولیت کے لیے کروز شپس کے ذریعے سفر کرتے ہیں
وقت اشاعت

انٹرپول کا کہنا ہے کہ جہاد میں حصہ لینے کے خواہش مند مشرق وسطیٰ میں تصادم والے علاقوں میں بحری جہازوں کے ذریعے پہنچتے ہیں۔

عالمی پولیس کی تنظیم انٹرپول کا کہنا ہے کہ کئی افراد عراق اور شام میں شدت پسند گروہوں کے شانہ بشانہ لڑنے کی غرض سے کروز شپس کے ذریعے ترکی پہنچے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے کہ یہ ایک بڑا مسئلہ بن جائے، کروز شپس میں سفر کرنے والوں کی ہوائی جہازوں میں سفر کرنے والوں کی طرح سخت چیکنگ کی جائے۔

تاہم انٹرپول نے ایسے افراد کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جو جہاد میں شمولیت کے لیےکروز شپس کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔

مناکو میں بات کرتے ہوئے انٹرپول کے سربراہ رونلڈ نوبل نے کہا کہ ملکوں کو چاہیے کہ وہ ہوائی سفر کرنے والے تمام مسافروں کے بارے میں معلومات لیں اور اس کے ساتھ بحری جہازوں سے سفر کرنے والوں پر بھی سخت نظر رکھیں۔

ترکی کے حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں سینکڑوں مبینہ غیر ملکی شدت پسندوں کو ہوائی اڈوں اور بس سٹیشنوں سے ملک بدر کیا گیا ہے۔

انٹرپول کے انسداد دہشت گردی کے ڈائریکٹر پیئر شینٹ ہیلیئر نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ شدت پسند اب ہوائی جہازوں کی بجائے دیگر طریقوں سے تصادم والے علاقوں کی جانب سفر کر رہے ہیں۔

’ان کو معلوم ہے کہ ہوائی اڈوں پر نگرانی سخت ہوتی ہے اس لیے وہ کروز شپس میں سفر کرتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’کروز شپس کے مختلف بندر گاہوں پر رکنے کی وجہ سے یہ شدت پسند سکیورٹی ایجنسیوں کی نظر میں آئے بغیر شام اور عراق تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایسے شواہد بھی ہیں کہ جنگجو خاص طور پر یورپ سے آنے والے، جہاد میں حصہ لینے کے لیے ترکی کے ساحلی شہر ازمیت پہنچتے ہیں۔‘

انٹرپول کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کی جانب سے کروز شپس کا استعمال گذشتہ تین ماہ ہی سے دیکھنے میں آیا ہے۔

اقوام متحدہ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق شام اور عراق میں 80 ممالک سے تعلق رکھنے والے 15 ہزار شدت پسند دولت اسلامیہ اور دیگر شدت پسند گروہوں کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔

انٹرپول کا کہنا ہے کہ ان شدت پسندوں کو روکنے کے لیے ممالک میں مزید معلومات کا تبادلہ ہونا اہم ہے۔