مسلمان طلبہ کے قتل پر عالمی غصہ

کیرولائنا میں ایک 46 سالہ شخص کریگ سٹیون ہکس کو اس حوالے سے گرفتار کیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنکیرولائنا میں ایک 46 سالہ شخص کریگ سٹیون ہکس کو اس حوالے سے گرفتار کیا گیا ہے
وقت اشاعت

امریکہ کی شمالی ریاست کیرولائنا کے چیپل ہل کالج کے تین طلبہ کو منگل کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے تینوں طلبہ مسلمان تھے اور وہ کیرولائنا کی قریبی یونیورسٹیوں کے طلبہ تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں 23 سالہ ضیا برکات، ان کی 21 سالہ بیوی یسر محمد ابو صالحہ اور 19 سالہ بہن رزان محمد ابوصالحہ شامل تھیں۔

کیرولائنا میں ایک 46 سالہ شخص کریگ سٹیون ہکس کو اس حوالے سے گرفتار کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کریگ سٹیون ہکس نے اپنے نظریات کو فیس بک پر ظاہر کیا ہے تاہم اس واقعے کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں بتایا گیا کہ اصل میں ہوا کیا تھا۔

آن لائن کارکنوں نے اس واقعے کو مناسب کوریج نہ دینے پر بڑے میڈیا آؤٹ لیٹس پر الزام لگایا ہے۔

چیپل ہل شوٹنگ ہیش ٹیگ کو تین لاکھ سے زائد بار نہ صرف امریکہ، برطانیہ، مصر، سعودی عرب بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک میں ٹرینڈ کیا گیا۔

عربی زبان کے ہیش ٹیگ ’چیپل ہل قتلِ عام‘ کو بھی 13,000 بار ٹویٹ کیا گیا۔

امریکن عرب اینٹی ڈسکریمینیش کمیٹی کے لیگل اور پالیسی ڈائریکٹر عابد ایوب نے اس ہیش ٹیگ کو شروع کیا۔

اپنے ہیش ٹیگ میں عابد ایوب کا کہنا تھا کہ برائے مہربانی چیپل ہل متاثرین کے خاندان کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

’احمقانہ تشدد‘ نامی ہیش ٹیگ کو سب سے پہلے ٹویٹ کیا گیا۔

جیسے ہی یہ ٹویٹ پھیلی عابد ایوب اور دیگر افراد نے کہا کہ چیپل ہل شوٹنگ کو ابھی تک کسی نے ’دہشت گردی کا عمل‘ کیوں قرار نہیں دیا۔

عابد ایوب نے بعد میں ٹویٹ کی کہ کیا ہلاک ہونے والوں کا مذہب غلط تھا؟

دریں اثنا ’مسلمانوں کی زندگیاں اہمیت رکھتی ہیں‘ نامی ہیش ٹیگ کو 20,000 سے زائد بار ٹویٹ کیا گیا۔