نائیجیریا: مائدیگوری میں دھماکوں سے 50 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہGetty
نائیجیریا کے شمال مشرقی شہر مائدیگوری میں تین مختلف دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور 56 زخمی ہو گئے ہیں۔
دو دھماکے ایک بازار میں ہوئے جبکہ ایک اور ایک مصروف بس کے اڈے پر ہوا۔
عینی شاہدین کہا کہنا ہے کہ دھماکوں میں خودکش بمبار ملوث تھے۔
ایک سکیورٹی اہلکار نے بی بی سی کو سکیورٹی اہلکار ایک نوجوان کو روکنے ہی والے تھے کہ اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔
انھوں نے بتایا کہ دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور 56 زخمی ہوئے ہیں۔
ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔
مائیدیگوری شہر ایک زمانے میں بوکوحرام تنظیم کا مرکز رہ چکا ہے جو کہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہے۔
اس شہر سے بوکو حرام کو سرکاری افواج نے گذشتہ سال باہر دھکیل دیا تھا جو قریبی شہر سمبیسا میں پسپا ہو کر سرگرم ہوئی جہاں سے انہوں نے شمال مشرقی قصبوں میں بڑے پیمانے پر حملے اور کارروائیاں کیں اور بڑے علاقوں پر قبضہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بوکوحرام نے ابھی تک ان دھماکوں کے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے مگر اس سے قبل تنظیم خودکش دھماکوں میں ملوث رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
پہلا حملہ شہر باگا کی مچھلی منڈی میں ہوا جس میں ایک خاتون خودکش حملہ آور جو رکشے میں سوار تھیں اور انہوں نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک ہو گئے۔
اس کے بعد شہر میں لگنے والا پیر بازار حملے کی زد میں آیا جہاں سے ایک تاجر نے بی بی سی کو بتایا کہ دو خواتین خودکش حملہ آوروں نے ایک مارکیٹ میں حملہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ’ایک نے اپنے جسم سے بم باندھا ہوا تھا جو اس وقت پھٹا جب ایک دروازے پر اُن کی تلاشی لی جا رہی تھی۔‘
’اس کے چند ہی قدم کے فاصلے پر موجود ایک اور خاتون نے اپنے تھیلے میں چھپائے ہوئے بم کو دھماکے سے اڑا لیا۔‘
ایک تیسرا دھماکہ ایک مصروف بس کے اڈے پر ہوا جہاں عینی شاہدنے بی بی سی کو بتایا کہ 12 افراد زمین پر گرے پڑے تھے مگر یہ بت واضح نہیں ہے کہ وہ سب ہلاک ہو چکے ہیں یا زخمی ہیں۔ اور اس بات کا بھی نہیں پتا کہ یہ خودکش دھماکہ تھا یا بم کسی گاڑی میں رکھا گیا تھا۔
گذشتہ ہفتے نائجیریا کے صدر گُڈلک جوناتھن نے کہا تھا کہ شدت پسندوں کے خلاف جنگ کا پاسنہ پلٹ چکا ہے جب نائیجرین فوجی بڑے علاقے شدت پسندوں سے آزاد کروا رہی ہے۔
نائیجیریا میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات چھ مہینے کے لیے ملتوی کیے گئے ہیں تاکہ فوج کو بوکو حرام کو شکست دینے کے لیے مزید وقت مل سکے۔



















