شمالی کوریا نے بان کی مون کا دورہ اچانک منسوخ کر دیا

،تصویر کا ذریعہAP
شمالی کوریا نے اچانک ہی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے دورے کو ان کی آمد سے ایک دن قبل منسوخ کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ بان کی مون کائےسونگ اکانومک زون میں شمالی اور جنوبی کوریا کے ایک مشترکہ صنعتی کمپلکس کا دورہ کرنے والے تھے۔
سیول میں ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے اس قدم کو ’انتہائی افسوسناک‘ قرار دیا اور کہا کہ اس دورے کو منسوخ کیے جانے کا کوئی جواز بھی نہیں دیا گیا۔
اگر بان کی مون یہ دورہ کرتے تو شمالی کوریا میں گذشتہ 20 برسوں میں یہ اقوام متحدہ کے کسی سیکریٹری جنرل کا پہلا دورہ ہوتا۔
بان کی مون نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کو فروغ دینا چاہتے تھے۔
خبر رساں ادارے یونہپ کے مطابق جب سیکریٹری جنرل نے منگل کو اس ملاقات کے بارے میں بتایا تھا تو انھوں نےکہا تھا کہ وہ ’شمالی کوریا پر زور دیں گے کہ وہ کوریائی خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون کریں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
بان کی مون جو پہلے جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ تھے وہ کیسونگ کے اپنے دورے پر جنوبی کوریا کے تاجروں اور شمالی کوریا کے ورکروں کے ساتھ ملاقات کرنے والے تھے۔
خیال رہے کہ شمالی اور جنوبی کوریا تکنیکی طور پر سنہ 1950 کی دہائی سے حالت جنگ میں ہیں جس میں عارضی جنگ بندی تو ہے لیکن باقاعدہ امن معاہدہ نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جوہری اسلحے کو چھوٹے پیمانے پر بنانے کی سمت میں آگے بڑھا ہے۔
یہ بات ایک تصویر کے سامنے آنے کے بعد آئی ہے جس میں ایک آبدوز سے بظاہر ایک میزائل کو داغتے دکھایا گیا ہے۔
بہر حال آزاد ماہرین نے اس کے اصلی ہونے پر شک و شبہے کا اظہار کیا ہے۔
نمائندوں کا کہنا ہے کہ پیونگ یانگ کے جارحانہ انداز کی یہ تازہ مثال ہے۔



















