جاپان میں شدید زلزلہ، ٹوکیو لرز اٹھا

ٹوکیو میں کچھ ٹرینوں کو حفاظتی جانچ پڑتال کے لیے بھی روکا گیا تھا جس کی وجہ سے شہر کے مصروف اسٹیشنوں پر مسافروں کا رش دیکھنے میں آیا
،تصویر کا کیپشنٹوکیو میں کچھ ٹرینوں کو حفاظتی جانچ پڑتال کے لیے بھی روکا گیا تھا جس کی وجہ سے شہر کے مصروف اسٹیشنوں پر مسافروں کا رش دیکھنے میں آیا
وقت اشاعت

جاپان میں سات اعشاریہ آٹھ کی شدت کا شدید زلزلہ آیا ہے جس نے دارالحکومت ٹوکیو میں عمارتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تاہم فی الحال کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

امریکی جيالوجیكل سروے کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 7.8 تھی اور اس کا مرکز دارالحکومت ٹوکیو سے 874 کلومیٹر دور تھا۔

فرانسسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دارالحکومت ٹوکیو میں زلزلے کے باعث تقریباً ایک منٹ تک عمارتیں لرزتی رہیں۔

تاہم ایک مقامی نشریاتی ادارے کے مطابق ٹوکیو میں فائر بریگیڈ کے عملے کو لوگوں کے معمولی زحمی ہونے کے بارے میں ٹیلی فون کالز موصول ہوئی ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق زلزلے کی وجہ سے ٹوکیو اور اوساکا کے درمیان چلنے والی ٹرین سروس تھوڑی دیر کے لیے متاثر ہوئی تھی اور ٹوکیو میں کچھ ٹرینوں کو حفاظتی جانچ پڑتال کے لیے بھی روکا گیا تھا جس کی وجہ سے شہر کے مصروف سٹیشنوں پر مسافروں کا رش دیکھنے میں آیا۔

ہاجیما جزیرے کے ایک رہائشی مچیکو اوریٹا نے مقامی نشریاتی ادرے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’زلزلہ بہت شدید تھا میں نے آج تک اتنا شدید زلزلہ نہیں دیکھا، یہ بہت خوفناک تھا۔‘

ٹوکیو یورنیورسٹی کے زلزلہ ریسرچ سینٹر سے وابستہ ناؤکی ہیراتا کا کہنا ہے کہ ’ یہ ایک بہت بڑا زلزلہ تھا، اس کے جھٹکے ایک وسیع علاقے پر محسوس کیے گئے ہیں، خوش قسمتی سے اس کا مرکز بہت گہرائی میں تھا اس لیے سونامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘

واضع رہے کہ جاپان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں سب سے زیادہ زلزلے آتے ہیں اور سنہ 2011 میں آنے والے 9.0 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ایک سونامی سے بیس ہزار اموات کے علاوہ ملک کے جوہر بجلی گھروں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔