کیا قدیم عمارتیں انسان سے زیادہ اہم ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty
یمن میں خوبصورت تاریخی عمارتوں کی تباہی نے انٹرنیٹ پر ایک بحث چھیڑ دی ہے جس میں لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کہیں انسانی جان کے مقابلے میں عمارتوں کا مول تو زیادہ نہیں لگایا جا رہا۔
ایسے میں کہ یمن میں جنگ کا تیسرا مہینہ شروع ہونے کو ہے، جمعہ کے روز یمنی اس خبر کے ساتھ بیدار ہوئے کہ سعودی سرکردگی میں اتحادی طیاروں نے قدیم شہر صنعا میں پانچ مکانوں کو بموں کا نشانہ بنایا ہے (سعودی عرب نے ان الزامات کی تردید کی ہے)۔ یہ شہر یونسکو کی جانب سے عالمی ورثہ قرار دیےگئے مقامات میں شامل ہے۔
ان مکانات کی تاریخی حیثیت کے علاوہ یہاں لوگ بھی رہتے تھے جن میں سے پانچ اس واقعہ میں ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔
ان افراد کے لیے آن لائن پر جتنے رنج و غم کا اظہار کیاگیا تقریباً اتنے ہی صدمہ کا اظہار ان عمارتوں کی تباہی کے لیے بھی ہوا۔ یونیسکو نے اپنے ایک بیان میں کہا: ’اس ورثہ میں یمنی لوگوں کی روح ہے، یہ ہزارہا سالوں پر محیط اس علم کی علامت ہے جو تمام انسانوں کی میراث ہے۔‘
یمنیوں نے بھی اس معاملہ میں اپنے جذبات کا اظہار کھل کر کیا۔ ایک یمنی خاتون نے فیس بک پر لکھا: ’ٹیوٹر پر یہ اور دیگر تصاویر دیکھنے کے بعد میر پاس اپنے احساسات کے اظہار کے لیے الفاظ نہیں ہیں ۔۔۔ قدیم شہر میں اساطیری حیثیت کے حامل حیرت القاسمی اور اس کا باغ ۔۔۔‘

،تصویر کا ذریعہ
جنگ مخالف ایک یمنی سارہ جمال نے فیس بک پر لکھا: ’آج میں اپنی روح اور روئے زمین پر جسے گھر سمجھتی تھی دونوں سے محروم ہوگئی ہوں۔ زندہ رہنے کا ہر جواز گم ہو رہا ہے، اور اتنی تیزی سے کچھ سمجھ میں آ سکے۔‘
یمن انتہائی غریب ملک ہے اور اس کے شہریوں کے لیے ان کا تاریخی اور ثقافتی ورثہ ہی محض وہ چند بیش قیمت اثاثے ہیں جو انہیں احساسِ تفاخر سے سرشار کرتے ہیں۔ ان میں سے صعنا کا قدیم شہر، جو اینٹوں اور گارے سے بنی کئی ایسی کئی منزلہ عمارتوں کے لیے شہرت رکھتا ہے جن میں پچھلے ڈھائی ہزار برس سے لوگ رہتے آ رہے ہیں، تاج یمن میں ایک ہیرے کی طرح جڑا ہوا ہے۔
دوسرے قدیم مقامات، جن میں یمن کے تیسرے شہر تائز کے ایک پہاڑ پر کھڑا صدیوں پرانا القاہرہ قلعہ اور آٹھویں صدی میں تعمیر ہونے والا معارِب بند شامل ہیں، بھی اطلاعات کے مطابق فضائی بمباری کا نشانہ بنے ہیں۔ سعودی سرکردگی میں فوجی مداخلت کے حامی اس نقصان کی ذمہ داری حوثی باغیوں پر عائد کرتے ہیں جو مسلح مقامی دستوں کے ساتھ برسرِ پیکار ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگر تعمیرات کی فکر بعض یمنیوں کے لیے غصہ کا باعث ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق جنگ میں دو ہزار افراد سے زیادہ کی ہلاکت، دس لاکھ کی بے دخلی اور دو کروڑ شہریوں کی بنیادی انسانی ضروریات سے محرومی کے تناظر میں کئی لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ لوگ چند پرانی عمارتوں کے بارے میں اتنے فکرمند کیوں ہیں؟

،تصویر کا ذریعہ
ایک شخص نے ٹیوِٹر پر تبصرہ کیا: ’مجھے حیرت ہے کہ لوگ یمن میں ہونے والے انسانی قتل عام کے مقابلے میں پتھروں کے لیے رور رہے ہیں۔‘
ایک دوسری ٹویٹ میں لکھا ہے: ’وہ لوگ جو صنعا میں پتھروں پر رو رہے ہیں مت بھولیں کہ وہاں تائز اور عدن میں لوگ مارے جا رہے ہیں اور اس پر تم خاموش ہو۔ پتھروں انسانی جانوں سے زیادہ قیمتی نہیں۔‘
جنگ میں تاریخی مقامات کی بقا اور انسانی جانوں کے اتلاف کی بحث اس وقت بھی چِھڑ گئی تھی جب داعش نے شام کے قدیم شہر پالمائرہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ مقام بھی عالمی ورثہ کی حیثیت رکھتا ہے اور خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ کہیں وہ یہاں کی قدیم عمارتوں کو تباہ نہ کر دے۔
’یقیناً یمن میں ہلاک ہونے والے ہزاروں افراد کی جانیں زیادہ قیمتی ہیں،‘ یمنی نژاد برطانوی صحافی ابوبکر الشماہی نے اپنے بلاگ میں لکھا۔ ’مگر مجھ سمیت کئی یمنی گہرے دکھ کہ اس احساس سے نظرانداز نہیں سکتے جو اپنے ورثہ کی تباہی دیکھ کر ہوتا ہے، وہ مقامات جو ہم دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں۔ ریت پر ہمارے شہر بسانے اور پہاڑوں میں ہمارے محل بنانے میں ہمارے اجداد کو ہزاروں نہیں تو سینکڑوں برس ضرور لگے ہیں۔ ان سب کو تباہ کرنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگتا۔‘



















