پناہ گزینوں کی یادگار تصاویر

وقت اشاعت

بی بی سی کے نامہ نگار اور کیمرہ پرسن یورپ میں بڑے پیمانے پر پناہ گزینوں کی آمد کے معاملے کی کوریج کر رہے ہیں اور کچھ جب وہاں جاتے ہیں تو تصاویر بناتے ہیں۔ ہم نے اُن سے کہا کہ ہمیں چند یادگار تصاویر مختصر حوالے یا کہانی کے ساتھ بھیجیں جو انھوں نے بنائی ہوں۔

لز ڈیوسیٹ

ہم تین نوجوان شام کے شہر حلب سے سفر کر کے یہاں پہنچے اور شمالی یونان کے اس پل پر کسی کا انتظار کر رہے ہیں۔اِن لوگوں کو امید ہے کہ اِن کے خاندان کا چوتھا فرد 23 سالہ ولید اب بھی زندہ ہے۔

اُن کے بھائی احمد جو اپنا سر پکڑے بیٹھے تھے انھوں نے بعد میں مجھ سے اپنی تصویر لینے کی گزارش اِس امید کے ساتھ کی کہ شاید ولید اُس تصویر کو دیکھ سکے۔

پانچ روز بعد ولید کی لاش دریا کے کنارے درخت کے پاس سے مل گئی۔

ولید نے تیر کر دریا پار کرنے کی کوشش کی لیکن وہ یہ بات نہیں جانتا تھا کہ دریا کو پار کرنے کے لیے پل موجود ہے۔

یورپ کے اس سفر کی انھیں خوفناک قیمت ادا کرنا پڑی لیکن اُن کا کہنا ہے کہ یہ خدا کی جانب سے لکھی گئی قسمت کا حصہ تھا۔

بیتھنی بیل

میں نے ہنگری کی سرحد کے ساتھ آسٹریا میں نیکِلس ڈورف کے لوری پارک میں ایک مصنوعی پیر دیکھا جو کونے میں رکھا ہوا تھا۔ یہ جگہ آسٹریا میں داخل ہونے کے بعد مہاجرین کا پہلا پڑاؤ ہے۔

بیشتر افراد جو اپنے پیروں پر سرحد پار کرکے یہاں پہنچتے ہیں، آسٹریا کے حکام اور ریڈکراس کے ذمہ داران ان کا استقبال کرتے ہیں اُنھیں غذا، دوائیاں اور صاف کپڑے فراہم کیے جاتے ہیں۔

بہت سارے اپنے پرانے جوتوں کو جو انتہائی خستہ حالت میں ہوتے ہیں اُنھیں آسٹریا کے خیراتی اداروں کی جانب سے ملنے والے نئے جوتوں سے تبدیل کرلیتے ہیں۔

لوگوں کی بڑی تعداد میں آمد کے بعد ضائع جوتوں اور گندے کپڑوں کا ڈھیرسا لگ گیا ہے لیکن مصنوعی ٹانگ ایک بالکل الگ معاملہ ہے۔

یہ کس کی تھی؟ اس کی ضرورت کیوں تھی؟ کیا حکام کی جانب سے اُس شخص کو نئی ٹانگ دی گئی تھی اور اب وہ کہاں ہے؟

بین براؤن

تھکن سے چور اور حاملہ ہونے کے ساتھ وہ کروشیا اور ہنگری کی سرحد پار کر کے بس بریمنڈ کے مقام پر پہنچی تھیں۔ وہ اب مزید چلنے کے قابل نہیں تھیں۔ حکام اس خاتون کے لیے سٹریچر لے کر آئے اور اُنھیں اس سرحدی علاقے سے لے جایا گیا۔

میں اُن کی مدد نہیں کر سکتا تھا اور حیران کہ آیا ان کا بچہ ہنگری میں پیدا ہوگا، یورپ میں آنکھ کھولنے والا ایک نیا بچہ۔ اس کا مستقبل کیا ہوگا؟

کیا ایک روز وہ 2015 میں پناہ گزینوں کے عظیم الشان سفر کی کہانی سنے گا جو اپنے اور اپنے بچوں کے لیے ایک نئے زندگی کے لیے کیا گیا۔

گائے ڈی لوؤنی

یہ لوگ سربیا سے کروشیا کی جانب سِڈ کے قریب سرحد پار کر کے آئے ہیں۔ یہ اُن پہلے پناہ گزینوں میں شامل تھے جنھوں نے گزشتہ روز سربیا سے متصل ہنگری کی سرحد کا راستہ بند ہونے کے باعث اس راستے کو اختیار کیا۔

ایک ٹیکسی ڈرائیور نے اُنھیں کھیتوں کے کونے پر چھوڑ کر صحیح سمت کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا یہاں تک کہ اس مقام سے سرحد صرف چند سو گز کے فاصلے پر تھی۔

اس چھوٹے سے گروپ میں شامل افراد کی کیفیت کافی پرجوش تھی اور وہ چلا کر کہہ رہے تھے کہ ’آپ کا شکریہ سربیا!‘۔

میں دیکھ سکتا تھا کہ نوجوان سیلفی بنا رہے تھے۔ دیگر لوگ گھر پر موجود اپنے اہلخانہ کو حالات سے باخبر رکھنے کے لیے ویڈیوز بنارہے تھے۔ میں عربی نہیں بول سکتا لیکن یہ بالکل واضح تھا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ ’ہم یہاں سربیا میں ہیں اور کروشیا میں داخل ہونے والے ہیں۔‘

ان کے سکون کو محسوس کیا جا سکتا تھا۔

اینا ہولیگن

میں نے یہ تصویر سورج نکلنے کے چند لمحوں بعد آسٹریا کی سرحد پر واقع نیکِلس ڈورف میں لی تھی۔ ہم ساری رات لوگوں سے بات کرتے رہے جو وہاں پہنچے تھے۔

محمد گفتگو کے دوران ٹوٹ سے گئے تھے جب اُنھوں نے وہ سب یاد کیا کہ کس طرح اُن کی کشتی ڈوبنے لگی اور اُن کے بچے پانی پر تیرنے لگے ۔ اُن کے بچے کمبل میں بیٹھے تھے اور ڈبل روٹی کو توڑ رہے تھے، اُن کے سوپ کے پیالوں میں سے بھانپ اڑ رہی تھی۔ بچے اِس بات سے بالکل انجان تھے کہ وہ چند روز قبل موت کے منہ سے بچ کر نکلے ہیں۔

حلب سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ وہ شام چھوڑنے پر مجبور کیوں ہوئے۔ اُن کا کہنا ہے اُنھیں حالات میں بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی تھی۔

’خانہ جنگی کے تقریباً پانچ برسوں بعد اب بہت سارے لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں کیونکہ وہ ناامید ہو چکے ہیں۔‘

ہم سب تھکے ہوئے اور کانپ رہے تھے اور جب کیمپ کے افق سے سورج نمودار ہوا تو خیموں کے اندر سے اور کمبل اوڑھے ہزاروں کی تعداد میں لوگ نکل آئے اور بسوں کی جانب چلنا شروع کر دیا۔

میرے لیے یہ تصویر اُس منظر کو بیان کر رہی ہے کہ کس طرح پناہ گزین اور تارکین وطن یورپ کے بارے میں سوچتے ہیں کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں انھیں اپنے بہتر مستقبل کی روشنی نظر آتی ہے۔

وِل ورنن

یہ تصویر ایک نوجوان پناہ گزین خاتون کی ہے جو شاید شامی ہے۔ میں نے یہ اس وقت بنائی جب وہ باہر کھڑی تھی اور اس کی ٹی شرٹ نامناسب حد تک موزوں تھی۔

جب میں اس کے پاس پہنچی تو وہ ابتدائی طور پر تھوڑی سی ڈری ہوئی لگ رہی تھی۔ جب میرے کیمرہ مین بھاسکر سولنکی نے اس کی تصویر بنائی۔

وہ یونان کے جزیرہ لیس بوس کی بندرگاہ میتھلینی میں کئی گھنٹوں سے لائن میں کھڑی تھی اور آخر کار وہ ہزاروں پناہ گزینوں کی لائن میں سب سے آگے پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔

یہ ترکی سے یورپ میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں کے لیے مرکزی داخلی راستہ ہے۔

وہ خوف میں تھی کہ میں کوئی افسر ہوں جو اُس کو لائن میں بیچھے کی جانب بھیج سکتا ہے۔

میں نے ایک شامی شخص کی مدد سے جو انگریزی بول سکتا تھا کوشش کی اُس کو سمجھا سکوں کہ اس کی ٹی شرٹ کس حد تک مفید ہے۔

ہمیں زبان کی مشکلات سے گزرنا پڑا تو آخر کار میں نے اُن کے شوہر سے سکارف ہٹانے کو کہا تاکہ میں تصویر لے سکوں۔

مجھے اس تصویر میں اُن خاتون کا چہرہ بہت پیارا دکھائی دے رہا تھا۔

جیمز رینلڈز

سربیا اور مقدونیہ کی سرحد پر واقع ایک پہاڑی میں اپنے ساتھیوں ٹونی براؤن اور ٹم فیسی کے ساتھ کھڑا تھا جنھوں نے تصویر بنائی تھی۔

ہم نے سامنے نظر آنے والی ایک وادی کی جانب نظر دوڑائی اور دیکھا کہ سینکڑوں کی تعداد میں پناہ گزین اور تارکین وطن ایک طویل راستے پرگامزن تھے۔

قطار بالکل سانپ کی مانند لگ رہی تھی۔ نوجوان اور مضبوط لوگ آگے تھے اور ان کے اہلخانہ اور بچے ان کے پیچھے پیچھے تھے۔

بعد میں وہ لکیر مزید پتلی ہوتی گئی۔ پیچھے کی جانب سست بیمار اور کمزور افراد تھے۔ ہماری ملاقات اُن کے ہمراہ ایک توانا شخص آزات سے ہوئی۔ وہ اپنی پشت پر بوڑھی والدہ کو اٹھائے بغیر رکے چل رہے تھے۔

میں نے اِس خبر کی کوریج کے دوران کئی اہم مناظر دیکھے لیکن میں اس شخص کو نہیں بھول سکتا جو اپنی والدہ کو پیچھے چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھا۔

برینو بول پیپ

میں نے کشتی کی ایک تصویر لی جو خصوصی طور پر 1700 پناہ گزینوں کو یونان کے جزیرے لیسبوس سے ایتھنز لے کر پہنچی۔

بورڈنگ کے دوران جیسے جیسے شام گزری کھڑکیاں آہستہ آہستہ مرد، خواتین اور بچوں سے بھر گئیں۔

جزیرے تک پہنچنے والے تمام افراد ترکی سے ربر کی کشتیوں میں پہنچے تھے۔ تمام لوگ مغربی یورپ جانے کی خواہشمند تھے اور زیادہ تر جرمنی جانے کے۔

جہاز کے تلے کئی ٹینٹ لگے تھے جو اس بندرگاہ میں دوسری کشتیوں کے انتظار میں موجود افراد استعمال کررہے تھے۔

جب یہ تصویر میں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تو اس پر تصویر پر کافی ردعمل آیا جو دماغ میں محفوظ رہ گیا۔

’غلط ہجے‘ ایک شخص نے جہاز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اِس کا نام ’دہشت گرد ہونا چاہیے تھا۔‘۔ ایک اور نے لکھا کہ یہ نام ’ مسافروں میں سے کچھ کا ایجنڈا ہو سکتا ہے۔‘۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا ۔ میں جہاز کے کونے میں لکھے الفاظ پر غور نہیں کیا تھا۔

رون براؤن

23 ستمبر کو کروئیشیا میں اوپاٹوویک کے ایک کیمپ میں ایک ماں اپنے ننھے بچے کو لے کر پہنچی۔

اگرچہ اُس وقت سینکڑوں کی تعداد میں پناہ گزین بسوں کے زریعے سے آرہے تھے جن میں زیادہ تر خاندان اور کم عمر بچوں کے ساتھ آئے تھے، تمام کے تمام خاموش تھے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ اب تک کے اس سفر سے تھک چکے تھے۔

عبدالجلیل عبدالرسولو

ایک ویڈیو جرنلسٹ کی حیثیت سے میں نے بہت پریشان کن مناظر کو کیمرے کی آنکھ میں قید کیا ہے۔ جب پناہ گزین اور تارکین وطن سرحدوں پر پھنس گئے اور ریل میں سوار ہونے کے لیے سب کو جلدی تھی اور وہ اپنے روتے ہوئے بچوں کو دھکیل رہے تھے۔

ہر جگہ میں نے لوگوں کو اپنے ماضی سے خوف زدہ اور غیر یقینی مستقبل کے بارے میں فکر مند محسوس کیا ہے۔

لیکن جب میں نے ویانا میں ایک کیمپ میں پہنچا، جہاں اُنھیں عارضی طور پر رکھا جاتا تھا۔ میں نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے بیٹے کو کھانا کھلا رہا تھا۔

دونوں نے انتہائی خوشی سے تصویر کھنچوائی اور اس کے بعد بچے کے والد نے کہا کہ ’میرا بچہ اب محفوظ ہے۔‘

نِک تھورپ

جون کے آغاز میں مشرقی بلغاریہ کے پناہ گزین کے کیمپ میں نے مراد (لاس ویگاس کی ٹی شرٹ میں دائیں جانب)، ان کے بھائی، اُن کے بہنوئی اور ایک یزیدی دوست سے ملاقات کی۔

وہ ترکی کے شہر ایڈرین کے پہاڑوں پر 13 اور 14 گھنٹوں کے سفر کے بعد یہاں پہنچے۔

وہ یہاں ایک مہینے سے مقیم ہیں انھوں نے کئی بار سرحد پار کرنے کی کوششیں کی اور ساتویں کوشش میں ترکی اور بلغاریہ کی سرحد پار کی۔

یہ شام سے تعلق رکھنے والے کرد ہیں جو اپنے خاندانوں کے ہمراہ سفر کررہے ہیں جس میں تین بچے بھی شامل ہیں۔

اس گروپ میں انجینئیرنگ کے طالبعلم، دندان ساز، انگریزی کے استاد بھی موجود ہیں۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہتے ہیں کسی بھی ملک میں جو اُنھیں قبول کرلے۔