مصر میں جمہوریت بحال ہو پائے گی؟

،تصویر کا ذریعہ.
مصر کی عوام ایک نئی پارلیمان کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں جو آئینی طور پر پہلے سے زیادہ با اختیار ہے۔
لیکن الیکشن میں حصہ لینے والی جماعتیں اور امیدوار ملک کے صدر السیسی کی حامی ہیں، ایسے میں مصر کی ایوانِ نمائندگان کیا صدر السیسی کے لیے ربڑ سٹیمپ ہو گی؟
مصر کی عوام کس چیز کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں؟
مصر کی ایوان نمائیندگان میں کل نشستوں کی تعداد 596 ہے جس میں سے 448 اراکین آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہوں گے جبکہ سیاسی جماعتوں کی 120 نشستیں ہیں جن میں 28 انتخاب صدر کرتے ہیں۔
مصر میں سنہ 2012 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سے پارلیمان غیر فعال ہے۔
ملک میں نئی پارلیمان کے منتخب ہونے تک قوانین بنانے کا اختیار ملک کے صدر عبدالفتح السیسی کے پاس ہے۔
انتخابات میں کتنا ٹرن آوٹ ہو گا؟
الیکشن میں ٹرن آؤٹ کم رہنے کا امکان ہے کیونکہ سنہ 2011 کے انقلاب کے بعد سے کئی بار الیکشن ہوئے ہیں اور عوام الیکشن سے تند آ گئے ہیں۔

اخوان المسلمین پر پابندی اور اُس کے رہنماؤں کو جیل میں بند کرنے سے لوگوں کا جمہوریت پر سے اعتبار اُٹھ گیا ہے۔ نوجوان بے چین ہیں اور حکمران جماعت اور پالیسیوں کے بارے میں اُن میں غم و غصہ ہے۔
ایک ایسے وقت پر جب انقلاب کے دوران سرگرم کئی اہم شخصیت اب جیل میں ہیں تو اُن کے خیال میں انتخابات میں حصہ لینا بے سود ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
الیکشن کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟
مصر میں انتخابات میں امکان ہے کہ صدر کے حامی امیدوار جیتیں گے جبکہ کئی امیدوار آزاد الیکشن لڑ رہے ہیں، توقع ہے کہ آزاد امیدوار کسی ایسی جماعت کی حمایت کریں گے جو زیادہ نشستیں جیت کر پارلیمنٹ میں برتری حاصل کرے۔
صدر کے حامی دائیں بازوں کی سیاسی جماعت ’مصر سے محبت‘ کے انتخابات میں برتری حاصل کرنے کا امکان ہے جبکہ ایک اور سیاسی جماعت جیسے صدر کی حمایت حاصل ہے ’مصر فرنٹ‘ بھی کئی نشستوں پر کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔ سابق صدر حسنی مبارک بھی مصر فرنٹ کی قیادت کر چکے ہیں۔
اخوان المسلمین پر پابندی ہے۔ صلفی رجہان رکھنے والی واحد جماعت آلنور بھی میدان میں ہے اور چند بائیں بازوں کے سوشلسٹ امیدواروں کے بھی کامیاب ہونے کا امکانات ہیں۔
نئی پارلیمنٹ کتنی با اختیار ہو گی؟
پہلی مرتبہ قانون ساز اسمبلی کا ریاستی پالیسیوں اور بجٹ پر زیادہ اثرو رسوخ ہو گا۔ پارلیمنٹ کے پاس یہ اختیار بھی ہے کہ وہ صدر کے منتخب کردہ وزیراعظم کو ویٹو کے ذریعے مسترد کر دے۔ پارلیمنٹ صدر السیسی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو بھی دو تہائی اکثریت سے منظور کر سکتی ہے۔
لیکن حقیقت میں ملک میں موثر حزبِ اختلاف نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ صدر کو اراکین اسمبلی سے کوئی خطرہ نہیں اور قانون ساز اسمبلی ربڑ سٹیمپ ہوگی۔
کیا مصر میں جمہوریت بحال ہو جائے گی؟

،تصویر کا ذریعہAFP
ملک میں انتخابات ایسے وقت پر ہو رہے ہیں، جب ملک کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ سینائی کے علاقے میں اسلامی رجہان رکھنے والے علیحدگی پسندوں کی کارروائیاں جاری ہیں۔
ملک میں آزادیِ اظہار رائے پر پابندی اور دستور ساز اسمبلی کے حقوق پر تحفظات پائے جاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف میں صدر کے خلاف برداشت بہت کم ہے۔
یہ چھ ہفتے جاری رہنے والے انتخابات کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ’سکھائی ہوئی پارلیمان‘ بنے کی جس میں صدر السیسی کے حامیوں، آزاد امیدواروں، مختلف سیاسی جماعتوں کے چیدہ چیدہ لوگ ہوں گے اور حقیقت میں اُن کا کوئی اثر روسوخ نہیں ہو گا۔



















