جب یمن سے بہتر صومالیہ میں رہنا ہو

،تصویر کا ذریعہWFP
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی رپورٹ ’مہاجرین اور تارکینِ وطن‘ کے مطابق ’کئی تارکینِ وطن گھنٹوں سمندر میں سفر طے کرنے کے بعد تھکے ہوئے اور خوف زدہ ہیں۔ اُن کے پاس کوئی مال و اسباب نہیں ہے۔ انھیں فوری طور پر خوراک، پانی اور طبی امداد کی ضرورت ہے۔‘
یہ رپورٹ بحیرۂ روم کے ساحل کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ ان ہزاروں افراد کے بارے میں ہے جو دوسری جانب جنگ زدہ علاقے یمن سے قرنِ افریقہ کا رخ کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر کا اندازہ ہے کہ مارچ سے یمن میں لڑائی شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 70 ہزار افراد نے صومالیہ، سوڈان، جبوتی اور ایتھیوپیا کا رخ کیا ہے۔
ان افراد کی اکثریت نے بحیرۂ احمر یا خلیج عدن کے کٹھن سفر کو کشتی کے ذریعے عبور کیا ہے۔
یہاں سب سے کم آبی سفر یمن اور جبوتی کے درمیان آبنائے عبور کرنا ہے، جیسے عام طور پر باب الحزن (دکھوں کا دروازہ) کہا جاتا ہے کہ کیونکہ اس سفر کے دوران پانی بہت تیز ہے اور سمندر میں مدوجزر بہت زیادہ ہے۔
پھر کچھ اور مسائل بھی ہیں، مثلاً قرنِ افریقہ کے ممالک اس قابل نہیں ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کو اپنے ملک میں سمو سکیں۔
تارکینِ وطن کے بحران میں سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر افراد جو یمن چھوڑ کر آ رہے ہیں، وہ اپنے ملک میں مسائل سے تنگ آ کر دوسرے ملکوں کا رخ کر رہے ہیں۔
یمن میں خانہ جنگی شروع ہونے سے قبل یمن میں تقریباً ڈھائی لاکھ صومالی باشندوں نے پناہ لی تھی۔ یہ وہ افراد ہیں جو صومالیہ میں 1990 کی دہائی میں سرد جنگ سے تنگ آ کر سمندر عبور کر کے محفوظ مقام کی تلاش میں آئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن اب یہ افراد صومالیہ واپس جا رہے ہیں کیونکہ اب یمن میں رہنے کے بجائے صومالیہ اُن کے لیے زیادہ بہتر ہے۔
یمن کے دارالحکومت صنعا میں آئی او ایم کے سربراہ نے کہا کہ ستم ظریفی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور صورت حال کی سنگینی اندازے سے باہر ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ وہ تارکینِ وطن ہیں جو یمن میں سمگل ہو کر آئے لیکن اب 26 ہزار صومالی افراد اپنے ملک واپس جا رہے ہیں۔ اس سے صومالی حکومت کے لیے کئی بڑے مسائل پیدا ہوں گے اور وہ تارکینِ وطن کے بحران سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سب سے اہم مسئلہ ان افراد کا صومالیہ میں دوبارہ ضم ہونا ہے۔
رپورٹ کے متن کے مطابق: ’صومالیہ میں بحران جاری ہے اور سیاسی عدم استحکام سے ملک کا بنیادی ڈھانچہ مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، ملک کی تین چوتھائی آبادی بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہے اور اُن کے پاس نکاسیِ آب کا نظام نہیں ہے اور نہ ہی پینے کا صاف پانی میسر ہے۔‘
صومالی حکام کا ایک وفد جلد یمن جائے گا تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ کیا آئندہ کچھ ماہ کے دوران مزید افراد واپس صومالیہ جائیں گے یا نہیں۔
جبوتی شاید صومالیہ سے زیادہ محفوظ ہے لیکن پھر بھی تارکینِ وطن کے بحران سے نمبرد آزما ہونے کے لیے اُسے بھی بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ آنے والے مہینوں میں مزید 24 ہزار افراد صومالیہ آئیں گے، جن میں نصف یمنی بھی ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق اگر یمن میں صورتحال خراب رہتی ہے تو سنہ 2016 کے اختتام تک 36 ہزار افراد کا جبوتی آنے کا امکان ہے۔
جبوتی جیسے چھوٹے سے ملک پر ان افراد کی آمد کے اثرات کافی واضح ہوں گے۔
صنعا میں آئی او ایم کی سربراہ کہتی ہیں: ’جبوتی نے تارکین وطن کو مناسب پناہ دینے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ مہاجرین کا کیمپ اوبوک میں بنایا گیا ہے لیکن یہ ایک خطرناک علاقہ ہے۔ موسم سخت اور صحرائی صورت حال ہے۔‘
اوبک میں ریت کے طوفان آتے ہیں اور درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ اوبوک کے رہائشیوں کے پاس بجلی نہیں ہے اور پانی کی بھی قلت ہے۔
وہاں کوئی ڈاکٹر نہیں ہے حال ہی میں ایک دائی کو رکھا گیا ہے۔ درحقیقت اوبوک میں زندگی کٹھن ہے اور کئی یمنی افراد ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ وہ اوبوک نہ جائیں۔
امدادی ایجنسیوں کو خدشہ ہے کہ کئی مہاجرین اپنا اندراج نہیں کرواتے اور اپنے آپ اور خاندان کو مزید خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔
گذشتہ سات ماہ سے یمن میں لڑائی جاری ہے اور عام افراد کی ہلاکت کے علاوہ ملک میں اقتصادی مواقع کم ہو رہے ہیں، اسی وجہ سے لوگ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
سرد موسم اور یمن کی بندرگاہ کے بند ہونے کے باعث خلیج عدن کو عبور کرنا عارضی طور پر کسی خودکشی کم نہیں ہے لیکن اقوام متحدہ کی پش گوئی کے مطابق ایک سال میں تقریباً دو لاکھ تارکینِ وطن قرنِ افریقہ کا رخ کریں گے اور عمومی طور پر یہ خطہ تارکینِ وطن کا بار اُٹھانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔



















