دولتِ اسلامیہ کے ساتھ ’ہمدردی‘ کی خبر پر مسلمانوں کا رد عمل

اخبار دا سن کی خبر
،تصویر کا کیپشناخبار دا سن کی خبر
وقت اشاعت

ایک برطانوی اخبار کے اس دعوے کے بعد کہ ملک کے ہر پانچ مسلمانوں میں سے ایک کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے ہمدردی ہے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لوگوں نے طنز آمیز رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ لوگوں نے ٹوئٹر پر ایک مزاحیہ ہیش ٹیگ 1in5Muslims# بھی چلایا ہے۔

پیر کو اخبار ’دا سن‘ نے اپنے پہلے صفحے پر یہ سرخی لگائی تھی: ’ہر پانچ مسلمانوں میں سے ایک کو جہادیوں سے ہمدردی ہے۔‘

تحقیقی ایجنسی ’سرویشن‘ کے ایک ٹیلی فون سروے کے مطابق سوالات کے جواب دینے والوں میں سے تقریباً 20 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ انھیں اُن مسلمانوں سے ’کچھ‘ یا ’بہت زیادہ‘ ہمدردی تھی جو برطانیہ چھوڑ کر شام میں موجود شدت پسندوں کے ساتھ لڑنے گئے ہیں۔

دائیں بازو کے اخبار دا سن کی خبر کے مطابق سروے کا جواب دینے والے لوگ ’ان لوگوں کے ساتھ ہمدردی ظاہر کر رہے تھے جو برطانیہ سے نکل کر نام نہاد تنظیم دولت اسلامیہ کے ہمراہ لڑنے گئے ہیں۔‘

اخبار نے برطانیہ میں مقیم ممتاز مسلمانوں سے بات چیت کی جنھوں نے کہا کہ یہ سروے ’آنکھیں کھول دینے والا‘ ہے۔

دا سن نے برطانیہ کے سب سے ممتاز مسلمان سیاست دانوں میں سے ایک صادق خان کا حوالہ بھی دیا جو پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔

دا سن کے مطابق صادق خان نے کہا: ’یہ بات ظاہر ہو چکی ہے کہ برطانیہ کو اپنا سر ریت سے باہر نکالنا پڑے گا۔‘

اس خبر کے بعد برطانیہ کے دیگر میڈیا کے اداروں نے بھی اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔

کئی بائیں بازو کے اخباروں نے دا سن کے سروے کے طریقۂ کار اور اس کی تشریح پر تنقید کی ہے۔

دا سن کی شہ سرخی کے بعد ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ 1in5Muslims# پوری دنیا میں پھیلنے شروع ہو گیا ہے
،تصویر کا کیپشندا سن کی شہ سرخی کے بعد ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ 1in5Muslims# پوری دنیا میں پھیلنے شروع ہو گیا ہے

اخبار ’دا انڈپینڈینٹ‘ نے کہا کہ سروے کے سوالات مبہم طریقوں سے پوچھے گئے تھے اور یہ کہ اس کے نتائج ایک دوسرے سروے کے نتائج سے نہیں ملتے جو بھی متعلقہ کمپنی کی جانب سے ہی کیا گیا تھا۔

سرویشن کا پہلا سروے مارچ میں کیا گیا تھا اور غیر مسلمانوں پر مبنی تھا جس کے مطابق جواب دینے والے لوگوں میں سے تقریباً 14 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ انھیں ان نوجوان مسلمانوں سے ’کچھ‘ یا ’بہت زیادہ‘ ہمدردی تھی جو شام میں لڑنے گئے ہیں۔

اخبار ’دا مِرر‘ کا کہنا ہے کہ نئے سروے کے سوال میں ’جہادی‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا اور اس کی جگہ ’شام میں لڑنے والے‘ کہا گیا ہے۔ اور نہ ہی اس میں دولت اسلامیہ کا کہیں ذکر کیا گیا ہے۔

ٹوئٹر پر لوگوں نے 1in5Muslims# کے ہیش ٹیگ کا استعمال 74 ہزار سے زائد مرتبہ کیا ہے
،تصویر کا کیپشنٹوئٹر پر لوگوں نے 1in5Muslims# کے ہیش ٹیگ کا استعمال 74 ہزار سے زائد مرتبہ کیا ہے

دا سن نے اپنی رپورٹ کے دفاع میں کہا ہے کہ جن لوگوں سے سوالات کیے گئے تھے انھیں معلوم تھا کہ ’شدت پسندوں‘کا لفظ خاص طور پر دولت اسلامیہ کے حوالے سے پوچھا جا رہا تھا۔

لیکن دا سن کی شہ سرخی کے بعد ٹوئٹر پر ایک ہیش ٹیگ 1in5Muslims# پوری دنیا میں پھیلنا شروع ہو گیا ہے جس میں برطانوی مسلمان سمیت کئی لوگوں نے اس سروے کا مذاق اڑایا اور ایک دوسرے کے ساتھ جھوٹے حقائق شیئر کیے ہیں۔

ایک صارف نے مذاق میں کہا: ’ 1in5Muslims# کا ہمیشہ ایک ایسا رشتہ دار ضرور ہوتا ہے جو انھیں سستی چیزیں دلواتا ہے۔‘

ایک اور صارف نے ٹویٹ کیا کہ: ’1in5Muslims# سے ہر ہفتے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے ملک واپس لوٹیں جس کا نام ’اسلام‘ ہے۔‘

اس ہیش ٹیگ کو 74 ہزار سے زائد مرتبہ استعمال کیا گیا ہے اور یہ محض برطانیہ ہی میں نہیں بلکہ پاکستان، ملائیشیا، آسٹریلیا، کینیڈا، بھارت، قطر، جنوبی افریقہ، متحدہ عرب امارات اور امریکہ میں ٹرینڈ کر رہا ہے۔

پیر تک ملنے والی اطلاعات کے مطابق دا سن کے خلاف 450 شکایات دائر کی گئی تھیں۔