شمالی کوریا میں’امریکی طالبعلم کو 15 برس کی سزا‘

اوٹو نے فروری کے آخر میں ایک پریس کانفرنس میں سائن بورڈ کی چوری کو زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا تھا
،تصویر کا کیپشناوٹو نے فروری کے آخر میں ایک پریس کانفرنس میں سائن بورڈ کی چوری کو زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا تھا
وقت اشاعت

اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا میں ایک امریکی طالبعلم کو ریاست کے خلاف جرائم کے الزام کے تحت 15 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی ہے۔

اوٹو وارمبائر نامی اس طالبعلم نے جنوری میں شمالی کوریا کے دورے کے دوران ایک ہوٹل سے پروپیگینڈا کے لیے استعمال ہونے والا سائن بورڈ چوری کرنے کی کوشش کی تھی۔

حراست میں لیے جانے کے بعد انھیں ٹی وی پر پیش کیا گیا تھا جہاں انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ ایک چرچ گروپ نے انھیں دورۂ شمالی کوریا سے کوئی نشانی لانے کے لیے کہا تھا۔

اوٹو نے فروری کے آخر میں ایک پریس کانفرنس میں سائن بورڈ کی چوری کو زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا تھا۔

جنوبی کوریا میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیون ایونز نے کہا ہے کہ شمالی کوریا میں ماضی میں غیر ملکیوں کو دی جانے والی سزاؤں کے تناسب سے اوٹو کی 15 برس کی سزا بہت زیادہ ہے۔

ان کے مطابق یہ سختی امریکہ اور شمالی کوریا کے تعلقات کی موجودہ حالت کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے تاحال اوٹو وارمبائر کی سزا کے بارے میں کچھ نہیں کہا تاہم چین کی خبر رساں ایجنسی شن ہوا کے مطابق یہ سزا شمالی کوریا کی سپریم کورٹ نے سنائی ہے۔

21 سالہ ورامبائر کو رواں برس دو جنوری کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جو وہ شمالی کوریا سے واپس امریکہ جا رہے تھے۔ ان پر ’ملک دشمن اقدامات‘ کا الزام لگایا گیا تھا۔

شمالی کوریا بسا اوقات غیر ملکیوں کو قید کر کے اسے اپنے حریفوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے بھی بطور حربہ استعمال کرتا رہا ہے۔

گذشتہ برس دسمبر میں شمالی کوریا کی اعلیٰ ترین عدالت نے ایککینیڈین پادری کو ’ریاست کے خلاف جرائم‘ کے لیے تاحیات قید بامشقت کی سزا سُنائی تھی۔