’برطانیہ کو صدام حسین سے فوری خطرہ نہیں تھا‘

سات برسوں میں مکمل ہونےوالی عراق انکوائری رپورٹ بارہ جلدوں پر مشتمل ہے
،تصویر کا کیپشنسات برسوں میں مکمل ہونےوالی عراق انکوائری رپورٹ بارہ جلدوں پر مشتمل ہے
وقت اشاعت

عراق کی جنگ کے متعلق سرکاری انکوائری کے چیئرمین سر جان چلکوٹ نے کہا ہے کہ اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے صدام حسین کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور حملے میں شامل ہونے سے پہلے تمام پرامن طریقوں کو استعمال نہیں کیا۔

سر جان چلکوٹ نے مزید کہا کہ عراقی رہنما صدام سے برطانیہ کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں تھا۔

سات برسوں میں مکمل ہونے والی چھبیس لاکھ الفاظ پر مشتمل رپورٹ میں چیئرمین جان چلکوٹ نے کہا عراق میں فوجی کارروائی سے پہلے عراق میں قیادت کی تبدیلی سےپیدا ہونےوالی صورتحال سے نمٹنے کی منصوبہ بندی مکمل طور پر ناقص تھی۔

سر جان چلکوٹ نے مزید کہا کہ ’عراق کے وسیع پیمانے پر تباہی والے ہتھیاروں سے درپیش خطرات کی سنجیدگی کے بارے میں رائے کو جس یقین کے ساتھ پیش کیا گیا تھا اس سے اسے ثابت نہیں کیا گیا۔‘

’اس وقت فوجی آپریشن آخری حل نہیں تھا‘
،تصویر کا کیپشن’اس وقت فوجی آپریشن آخری حل نہیں تھا‘

’واضح خطرات کے باوجود حملے کے نتائج کو نظر انداز کیا گیا۔ صدام حسین کے بعد عراق کے بارے میں کی جانے والی منصوبہ بندی اور تیاریاں انتہائی ناموزوں تھیں۔حکومت اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔‘

عراق کی جنگ کے متعلق سرکاری تحقیقات کا آغاز تقریباً سات برس قبل ہوا تھا۔

سر جان چلکوٹ کا کہنا ہے کہ اس انکوائری میں یہ دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کیا عراق پر حملہ کرنا ’صحیح اور ضروری تھا اور کیا برطانیہ اس کے بعد کے وقعات کے لیے تیار تھا یا اسے ہونا چاہیے تھا۔‘

’ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ برطانیہ کو عراق پر حملے سے پہلے ہتھیاروں کو ترک کرنے کے پر امن طریقوں کا دیکھنا چاہیے تھا۔ اس وقت فوجی کارروائی آخری حل نہیں تھا۔‘

سر جان چلکوٹ نے واضح کیا کہ برطانیہ کو اس وقت عراق سے فوری کوئی خطرہ نہیں تھا۔

سرچلکوٹ نے کہا کہ شاید عراق میں فوجی کارروائی ضروری ہوتی لیکن مارچ 2003 میں برطانیہ کو صدام حسین سے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا۔ انھوں نے کہا انھیں (صدام حسین) کو روکنے کی پالیسی اپنا کر اسے کچھ عرصے تک اسے جاری رکھا جا سکتا تھا۔

’تاہم ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جن حالات کی بنا پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ برطانوی فوجی کارروائی کے لیے قانونی جواز موجود ہے وہ کہیں سے اطمینان بخش نہیں تھے۔‘

سر جان چلکوٹ نے اس انکوائری کے حوالے سے بتایا کہ’جوائنٹ انٹیلیجنس کمیٹی کو ٹونی بلیئر پر یہ واضح کرنا چاہیے تھا کہ جمع کی گئی خفیہ معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عراق کیمیائی اور بائیولوجیکل ہتیھار بنانے یا جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

عراق کی جنگ کے متعلق سرکاری انکوائری کے چیئرمین سر جان چلکوٹ نے رپورٹ کے منظر عام سے قبل کہا تھا کہ ان کو امید ہے کہ ان کی رپورٹ سے مستقبل میں اتنے بڑے پیمانے پر فوجی مداخلت محتاط تجزیے اور سیاسی دانشمندی سے کی جائے گی۔

سر جان چلکوٹ نے کہا ’اہم توقع یہ ہے کہ مستقبل میں اتنے بڑے پیمانے پر فوجی مداخلت یا سفارتی کوشش جو اتنی اہم ہو محتاط تجزیے اور مشترکہ سیاسی دانشمندی سے کی جائے گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’اس رپورٹ سے بہت سبق سیکھے جا سکتے ہیں لیکن سب سے اہم بات مستقبل کے حوالے سے ہے۔‘