امریکہ میں زیکا وائرس کے پہلے ’ممکنہ کیسز‘

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر فلوریڈا میں سامنے آنے والے زیکا وائرس کے چار متاثرین کے کیسز ملک کے اندر موجود اس وائرس کے پہلے کیسز ہیں اور شاید یہ مقامی مچھروں سے منقتل ہوئے ہیں۔
اب تک لاطینی امریکہ اور غرب الہند سے باہر جہاں جہاں یہ وائرس موجود ہے ، یا تو سفر کے باعث یا پھر جنسی عمل کے ذریعے امریکہ میں منتقل ہوا۔
زیکا سے متاثر لوگ تھوڑے سے بیمار دکھائی دیتے ہیں تاہم یہ نومولود بچوں کے دماغ کو بہت بری طرح متاثر کرتا ہے۔
فلوریڈا کے محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ’غالب امکان ہے کہ یہ چار کیسز مقامی طور پر اس وائرس کی منتقلی کا نتجہ ہیں جو میامی کے شمال میں ایک چھوٹا سا علاقہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ میں اب تک اس وائرس کے 1650 کیسز سامنے آچکے ہیں تاہم فلوریڈا کے یہ چار کیسز وہ پہلے کیسز ہیں جو جنسی عمل یا بیرون ملک سے امریکہ میں منتقل نہیں ہوئے۔
گورنر رک سکوٹ نے کہا کہ یہ صرف فلوریڈا کا نہیں یہ ہمارا قومی مسئلہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیماریوں کی روک تھام کے لیے کام کرنے والے ادارے سی ڈی سی نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں اس وائرس کے شکار مزید افراد سامنے آئیں گے۔
ادارے کے چیف ٹام فرائڈین کا کہنا ہے کہ ’کئی ہفتے قبل‘ یہ انفیکشن نمودار ہوا تھا اور فلوریڈا کے سفر پر پابندی کا بھی کوئی منصوبہ نہیں تھا۔
ادھر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے زیکا وائرس سے نمٹنے کے لیے فلوریڈا کی مدد کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کی جانب سے جمعے کو سامنے آنے والے بیان میں زیکا کے تدارک کے لیے امدادی فنڈ ریلیز نہ کرنے پر کانگرس پر تنقید کی گئی ہے۔
متاثرہ کاؤنٹیز میں خون کے عطیات لینے کاسلسلہ بند کر دیا گیا ہے اور پہلے سے موجود خون کے عطیات کے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔
وائرس سے متاثر ہونے والے تین افراد کا تعلق میامی ڈیڈ کاؤنٹی سے ہے جبکہ چوتھے مریض کا تعلق اسی سے متصل برورڈ کاؤنٹی سے ہے۔ یہ دونوں علاقے فلوریڈا کے گنجان آباد علاقوں میں شامل ہوتے ہیں۔
متاثرین میں تین مرد اور ایک خاتون شامل ہیں تاہم ان میں سے کوئی بھی ہسپتال میں زیر علاج نہیں ہے۔
اس کی تصدیق کے لیے کہ آیا یہ وائرس مچھروں سے پھیل رہا ہے یا نہیں ماہرین متاثرہ کاؤنٹیز کے 150 گز کے علاقے میں گھروں اور آبادی کا سروے کر رہے ہیں۔
رواں ہفتے کے آغاز میں ہی ایک ہسپانوی خاتون کے ہاں زیکا سے متاثرہ بچے کی ولادت ہوئی اور خیال کیا جا رہا ہے کہ یورپ میں یہ اس قسم کا پہلا کیس ہے۔
نومولود بچوں میں اس مرض کی منتقلی کے خدشے کے پیشِ نظر عالمی ادارہ صحت نے رواں برس فروری میں زیکا وائرس کو عالمی سطح پر ایمرجنسی نافذ کی تھی۔



















