سندھ طاس معاہدہ اب بھی نافذ العمل ہے، انڈیا ڈیم کی تعمیر سمیت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے: ثالثی عدالت

جموں کے علاقے چندرکوٹ میں دریائے چناب پر واقع بگلیہار ڈیم

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجموں کے علاقے چندرکوٹ میں دریائے چناب پر واقع بگلیہار ڈیم
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 10 منٹ

دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت نے انڈیا کو پاکستان کے ساتھ پانی کی تقسیم کے سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد کی ہدایت دی ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ انڈیا اپنے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے میں پن بجلی گھر پر تعمیرات محدود کرے۔

اپریل 2025 کے دوران انڈیا نے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا یہ معاہدہ پاکستان کے 80 فیصد زرعی شعبے کو پانی کی فراہمی یقینی بناتا ہے۔ اسی ماہ انڈیا نے پہلگام میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا جس کی اسلام آباد نے تردید کی تھی۔

پیر کے روز جہاں انڈیا نے ثالثی عدالت کے اس ایوارڈ کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا ہے تو وہیں پاکستان نے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔

گذشتہ سال اسلام آباد نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں دو پن بجلی منصوبوں پر اعتراض کیا تھا اور اس حوالے سے ثالثی عدالت سے رجوع کیا تھا۔ انڈیا کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں کا مقصد آبی ذخائر کی گنجائش بڑھانا ہے۔

1960 سے دونوں ممالک سندھ طاس معاہدے کو تسلیم کرتے آئے ہیں مگر پاکستان کا الزام ہے کہ یہ دو منصوبے اس معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔ اس کا موقف ہے کہ انڈیا یکطرفہ طور پر معاہدہ معطل نہیں کر سکتا۔

ثالثی عدالت کا فیصلہ اور انڈیا کا ردعمل

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کے روز مستقل عدالتِ ثالثی نے اپنے ایوارڈ میں کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے کیونکہ انڈیا کے پاس اس معاہدے کو ختم کرنے یا معطل کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

بین الحکومتی عدالت نے کہا کہ ’انڈیا کو معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرنا چاہیے، جن میں مغربی دریاؤں پر اس کے پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔‘

عدالت نے کہا کہ عالمی بینک کی جانب سے مقرر کردہ ایک غیر جانبدار ماہر جولائی 2027 تک یہ فیصلہ کرے گا کہ ہمالیائی خطے میں پن بجلی گھروں کی تعمیر معاہدے کے مطابق ہے یا نہیں۔

پاکستان کے مطالبے سے اتفاق کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ انڈیا کو رتلے پن بجلی منصوبے میں ڈیم کی دیوار اور بجلی کے حصول کے ڈھانچے کو مخصوص سطحوں سے اوپر تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہے، جب تک کہ غیر جانبدار ماہر کے فیصلے کے 90 دن مکمل نہ ہو جائیں۔

انڈیا باضابطہ طور پر اس عدالت کا رکن ہے مگر اس کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا اور فیصلے کو ’دوٹوک‘ طور پر مسترد کرتا ہے۔

انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ نام نہاد ثالثی عدالت انڈیا کے خودمختار فیصلوں پر رائے دینے کا کسی بھی طرح اختیار نہیں رکھتی۔‘

’اس کے بیانات، خواہ اب ہوں یا مستقبل میں، ان منصوبوں کے حوالے سے انڈیا کے اقدامات پر کوئی اثر نہیں ڈالیں گے جن پر انڈیا کام کر رہا ہے۔‘

Indus Water Treaty

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کا ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستانی حکومت نے پیر کے روز ثالثی عدالت کے احکامات کا خیر مقدم کیا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ ایوارڈ اور فیصلہ خود ابھی تک عدالت کی جانب سے شائع نہیں کیے گئے، تاہم توقع ہے کہ یہ آئندہ ایک ہفتے کے اندر شائع کر دیے جائیں گے۔‘

پاکستان نے کہا کہ ثالثی عدالت کی ’پریس ریلیز سے واضح ہے۔ عدالت نے متفقہ طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ معاہدے کو ’معطل‘ کرنے سے متعلق انڈیا کا فیصلہ معاہدے یا بین الاقوامی قانون کے دیگر قابلِ اطلاق قواعد کے تحت جائز نہیں۔ اور اسی بنا پر ’معاہدہ نہ تو ختم کیا گیا ہے اور نہ ہی اس پر عملدرآمد معطل ہوا ہے۔ بلکہ یہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔

'انڈیا معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے اور اسے ان پر عمل کرنا چاہیے، جن میں مغربی دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن اور ان سے متعلق تنازعات کے تصفیے کی ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔‘

پاکستان نے کہا کہ ’عدالت کی پریس ریلیز سے یہ بھی واضح ہے کہ عدالت نے متفقہ طور پر ایسے اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کے تحت انڈیا کو رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ کے ڈیم کی دیوار اور بجلی کے حصول کے ڈھانچے کو مخصوص سطحوں سے اوپر کنکریٹ کرنے سے روکا گیا ہے اور یہ پابندی غیر جانبدار ماہر کے حتمی فیصلے کے 90 دن بعد تک برقرار رہے گی، جس کی توقع جولائی 2027 میں کی جا رہی ہے۔

’عدالت نے تعمیراتی شیڈول سے متعلق ایک رپورٹنگ اقدام بھی نافذ کیا ہے جو غیر جانبدار ماہر کے حتمی فیصلے کے کچھ عرصے بعد تک برقرار رہے گا۔‘

پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے ایوارڈ اور فیصلے کی تفصیلات پر غور کیا جائے گا۔ ’یہ بھی دیکھے گی کہ یہ دونوں دستاویزات معاہدے کے تحت فریقین کے درمیان دوبارہ بامعنی رابطے کی راہ ہموار کرنے میں کس طرح معاون ثابت ہو سکتی ہیں، ایسے انداز میں جو معاہدے کے تحت دونوں فریقوں کی قانونی طور پر لازم ذمہ داریوں کی عکاسی کرتا ہو۔‘

انڈیا کے ساتھ ’تصادم‘ نہیں چاہتے لیکن پانی روکنا ’جنگی اقدام‘ تصور کیا جائے گا: پاکستان

جون 2026 کے دوران پاکستان نے خبردار کیا تھا کہ وہ انڈیا کے ساتھ کوئی ’تصادم‘ یا ’تنازع‘ نہیں چاہتا لیکن سندھ طاس معاہدے کے تحت ملک کے آبی وسائل کو روکنے کی کوشش کو ایک ’جنگی اقدام‘ تصور کیا جائے گا۔

سندھ طاس معاہدے پر اسلام آباد میں منعقد ایک بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو ’یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا کوئی جواز نہیں اور نہ ہی بین الاقوامی قانون میں اس کی کوئی گنجائش ہے۔‘

پاکستان نے انڈیا کے اس اقدام کو مسترد کر دیا تھا اور عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا تھا۔ نیدر لینڈز کے شہر ہیگ میں قائم کورٹ آف آربٹریشن یعنی ثالثی عدالت نے واضح کیا تھا کہ انڈیا اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔

تاہم انڈیا نے اس فیصلے کو مسترد کر دیا تھا اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

پہلگام حملے اور انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد گذشتہ برس اپریل میں پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے کہا تھا کہ انڈیا کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنے یا اس کا رُخ موڑنے کی کوشش کو 'جنگی اقدام' تصور کیا جائے گا۔

5 جون کو انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک پاکستان ’سرحد پار دہشت گردی کو مکمل طور پر بند نہیں کر دیتا۔‘

Ishaq Dar

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے قومی سلامتی کمیٹی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب بھی اس پر قائم ہے اور وہ ’یقینی بنائے گا کہ اس کے حقوق سلب نہ ہوں۔‘

’پاکستان نے ہمیشہ اختلافات کے حل کے لیے بات چیت، سفارت کاری اور دونوں فریقوں کے متفقہ طریقۂ کار کا راستہ اختیار کرنے کی بات کی ہے۔ تاہم اس حوالے سے کسی قسم کی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو حاصل آبی حقوق سے محروم کرنے کی کوئی بھی کوشش کی علاقائی امن و سلامتی کے لیے گہرے اور دور رس نتائج ہوں گے۔‘

اس سیمینار میں پاکستانی حکومتی شخصیات کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور ماہرین نے بھی شرکت کی تھی۔

اس موقع پر پاکستان میں انڈس واٹر کے کمشنر سید محمد مہر علی شاہ نے کہا کہ گذشتہ برس اپریل کے بعد سے وہ دریائے چناب کے بہاؤ میں تبدیلی کے حوالے سے اپنے انڈین ہم منصب کو چار خطوط لکھ چکے ہیں لیکن ان کی جانب سے تاحال کوئی جواب نہیں آیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں اتار چڑھاؤ کوئی ’فنی پریشانی‘ نہیں بلکہ ’ایک تزویراتی خطرہ‘ ہے۔

سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے پاکستان کو درپیش خطرات

اپنی تقریر میں پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’اپریل 2025 سے پاکستان نے ایسے اقدامات کا ایک سلسلہ دیکھا ہے جس نے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے، جن میں دریائے چناب اور جہلم میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اور غیر معمولی اتار چڑھاؤ اور سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے لیے مختص پانی کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت رکھنے والے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کی مسلسل کوششیں شامل ہیں۔‘

’ہمیں اس قیمت سے آگاہ رہنا چاہیے جو بین الاقوامی سرحدوں سے گزرنے والے دریاؤں سے متعلق ایک بین الاقوامی معاہدے کو نقصان پہنچانے، مشترکہ آبی وسائل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے، تصادم کا راستہ اختیار کرنے اور بین الاقوامی قانون معاہدوں کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔‘

’پاکستان کے لیے یہ محض ایک قانونی بحث نہیں ہے۔ پانی 25 کروڑ سے زائد لوگوں کی زندگی کی بنیاد ہے۔ ہماری زراعت، ہماری سلامتی، توانائی کی پیداوار اور معاشی ترقی کا انحصار دریاؤں کے پانی کے بلا تعطل بہاؤ پر ہے۔‘

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ دریاؤں کا تحفظ ’ہماری قومی سلامتی کے لیے اہم ہے۔‘

Indus Water

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’ہم خلوصِ نیت سے انڈیا کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ جنگ کے بیج بونے، مشترکہ آبی وسائل کو تنازع کا ذریعہ بنانے اور ہمارے خطے کے امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کرے۔‘

دریاؤں پر انڈیا کے منصوبے اور حکومتی مؤقف

انڈیا نے حال ہی میں چناب۔بیاس لنک ٹنل پراجیکٹ کا اعلان کیا تھا، جس کے نتیجے میں دریائے چناب سے تقریباً 19 لاکھ ایکڑ فُٹ پانی کا رُخ انڈیا کے بیاس نہری نظام موڑا جا سکتا ہے۔

انڈیا نے اس منصوبے کے لیے کمپنیوں سے بولیاں بھی مانگی ہیں۔

انڈیا کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اس منصوبے کی تشہیر کرتی ہوئی نظر آتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ’انڈیا اب پرانے اصولوں کے تحت نہیں کھیلے گا۔‘

22 مئی کو اپنے فیس بُک اکاؤنٹ پر بی جے پی نے لکھا کہ ’سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بعد اب بالآخر انڈیا اب اپنے مغربی دریاؤں کی صلاحیتوں کا ہائیڈرو پاور، واٹر سکیورٹی اور سٹریٹجک استعمال کرنے جا رہا ہے۔‘

بی جے پی کی اس پوسٹ کے مطابق یہ ٹنل آٹھ اعشاریہ سات کلومیٹر پر محیط ہو گا، جو دریائے چندرا سے اضافی پانی بیاس کی طرف موڑ دے گا۔

انڈیا کے سرکاری ادارے نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن نے ہماچل پردیش ٹنل بنانے کے لیے گذشتہ مہینے ٹینڈر جاری کیا ہے۔

یہ ٹنل دراصل انڈین ریاست ہماچل پردیش کے ضلع کوکسار میں بنے گا۔

انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق چناب۔بیاس لنک منصوبہ 2620 کروڑ روپے کی لاگت سے بنے گا۔

کچھ دن قبل انڈین ریاست ہماچل پردیش کے گورنر کویندر گپتا نے بھی اس منصوبے کے حوالے سے بات کی تھی اور کہا تھا کہ یہ پراجیکٹ انڈیا کے قومی مفاد میں ہے اور اس کے ذریعے ملک کو اس کے آبی وسائل پوری طرح سے استعمال کرنے کا موقع ملے گا۔

اے این آئی کے مطابق شملہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے گورنر گپتا کا کہنا تھا کہ ’چناب۔بیاس لنک ٹنل منصوبہ قومی مفاد کے لیے اہم قدم ہے۔ انڈیا کے پانی کو پہلے اس کے لوگوں اور ریاستوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔‘

پاکستان ان منصوبوں کو سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس معاملے کو متعلقہ ٹریبیونل میں لے گیا ہے۔

دوسری جانب انڈیا اپنے مؤقف پر قائم نظر آتا ہے۔ انڈیا کے وزیرِ برائے آبی وسائل سی آر پاٹل نے چند ہفتوں قبل کہا تھا کہ ’یہ معاہدہ معطل ہے اور جب سے وزیرِ اعظم مودی نے یہ فیصلہ لیا ہے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ پانی کا ایک قطرہ بھی وہاں (پاکستان) نہ جائے۔‘

’وزیرِ اعظم کی ہدایات کی روشنی میں وزیرِ داخلہ امیت شاہ خود اس معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے متحرک ہیں۔‘