انڈین فوج کی افسر کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف بیان کا تنازع: کیا بی جے پی وزیر وجے شاہ مشکل میں پڑ سکتے ہیں؟

    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

’آپریشن سندور‘ کے تحت ہونے والی فوجی کارروائی کو ایک سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن انڈین فوج کی افسر کرنل صوفیہ قریشی جو اُس وقت میڈیا کے سامنے انڈیا کا سرکاری موقف پیش کر رہی تھیں وہ اب تک خبروں میں ہیں۔

یہ معاملہ کرنل صوفیہ قریشی کے بارے میں وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے وزیر کابینہ کنور وجے شاہ کے متنازع بیان سے شروع ہوا، جس کے بعد عدالتی کارروائی، ایف آئی آر، سپریم کورٹ کی مداخلت اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی جانچ کا سلسلہ شروع ہوا۔

یاد رہے کہ کرنل صوفیہ قریشی انڈین فوج کی سینیئر افسر ہیں۔ وہ مئی 2025 میں ’آپریشن سندور‘ سے متعلق فوجی بریفنگز میں نمایاں چہرے کے طور پر ابھریں اور میڈیا کو آپریشن کی معلومات فراہم کرتی رہیں۔

سپریم کورٹ نے جنوری میں مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت کو دو ہفتوں کی مہلت دی تھی کہ اسمبلی وجے شاہ کے خلاف مقدمہ چلانے پر اپنا موقف پیش کرے لیکن ریاستی حکومت نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا۔

پھر سپریم کورٹ کی جانب سے سرزنش کی گئی اور حکومت کو جواب دینے کے لیے چار ہفتوں کی مہلت دی گئی۔

سپریم کورٹ میں اس کیس کی اگلی اہم سماعت 31 اگست 2026 (آج) کے لیے مقرر کی گئی جہاں عدالت ممکنہ طور پر مدھیہ پردیش حکومت سے یہ پوچھا جائے گا کہ اس نے استغاثے کی منظوری کے بارے میں کیا فیصلہ کیا اور ایس آئی ٹی کی سفارشات پر کیا پیش رفت ہوئی۔

اس کے علاوہ یہ بھی طے کیا جائے گا کہ آیا وزیر کے خلاف باقاعدہ فوجداری کارروائی آگے بڑھے گی یا نہیں!

دوسری جانب منگل کے روز حکومت نے اپنے وزیر کا دفاع کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ نہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد حکومت کی تنقید کی جا رہی ہے۔

مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے خبررساں ادارے اے این آئی سے کہا کہ ’وجے شاہ کی جانب سے فوج کی توہین کی پورے ملک نے مذمت کی۔ سپریم کورٹ نے بھی بار بار حکومت کو ہدایت دی کہ اس معاملے میں کارروائی کی جائے۔ وزیرِ اعظم مودی کو انھیں کابینہ سے برطرف کر دینا چاہیے تھا۔‘

’جس طرح انھوں نے پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کے دوران فوج اور ایک خاتون فوجی افسر کی توہین کی، وہ بالکل ناقابلِ برداشت ہے۔‘

'پوری کابینہ ان کے دفاع کے لیے متحد ہو کر کھڑی رہی، یہاں تک کہ ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ ان کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔¬

کانگریس نے اس معاملے پر صدر جمہوریہ کو خط لکھا ہے۔ جیتو پٹواری نے کہا: 'میں نے صدرِ جمہوریہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اس بات کا نوٹس لیں کہ پوری کابینہ اس معاملے میں شریکِ جرم ہے، اور اس سلسلے میں مناسب آئینی کارروائی کی جانی چاہیے۔'

سوشل میڈیا پر اس بات پر بھی تنقید کی جا رہی ہے کہ جس میٹنگ میں مقدمہ نہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا اس میں وجے شاہ بھی موجود تھے۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ شیئر کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ نگار سوشانت سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’سپریم کورٹ کی ہدایات پر قائم کی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے بی جے پی وزیر کو ایک سینیئر خاتون فوجی افسر کے خلاف کیے گئے ریمارکس کے معاملے میں قصوروار قرار دیا۔‘

’بی جے پی کی ریاستی حکومت کی کابینہ نے اس معاملے پر رازداری میں غور و خوض کیا، افسران کو اجلاس سے باہر جانے کے لیے کہا، اور بعد ازاں وزیر کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری دینے سے انکار کر دیا۔‘

’دہشت گردوں کی بہن‘

گذشتہ سال 11 مئی سنہ 2025 کے قریب ایک عوامی تقریب میں مدھیہ پردیش کے وزیر وجے شاہ نے ایک تقریر کے دوران کرنل صوفیہ قریشی کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کیے جنھیں بڑے پیمانے پر توہین آمیز اور فرقہ وارانہ سمجھا گیا۔

کرنل صوفیہ قریشی کے متعلق ’دہشت گردوں کی بہن‘ والے بیان کو مذہبی شناخت سے جوڑا گیا، جس پر شدید عوامی اور سیاسی ردعمل سامنے آیا۔

یہاں تک کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا۔ عدالت نے وجے شاہ کے ریمارکس کو نہایت سنگین قرار دیتے ہوئے پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا۔ ہائی کورٹ نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ فوج ملک کے سب سے قابلِ احترام اداروں میں سے ہے اور ایسے بیانات ناقابلِ قبول ہیں۔

ہائی کورٹ کے حکم کے بعد وجے شاہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ ایف آئی آر میں تعزیرات ہند کی مختلف دفعات شامل کی گئیں، جن میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر کرنے اور اشتعال انگیز بیانات سے متعلق دفعات شامل تھیں۔

تنازع بڑھنے کے بعد وجے شاہ نے ویڈیو پیغام جاری کرکے معافی مانگی۔ انھوں نے کہا کہ اگر ان کے بیان سے کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو وہ افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور کرنل صوفیہ قریشی اور انڈین فوج کا احترام کرتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ آئندہ اس قسم کے بیانات سے پرہیز کریں گے۔

سپریم کورٹ کی مداخلت

وجے شاہ نے ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ان کے بیان پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایک آئینی عہدے پر فائز شخص سے ایسی زبان کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے ان کی ابتدائی معافی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ یہ حقیقی ندامت ہے یا صرف قانونی نتائج سے بچنے کی کوشش؟

19 مئی سنہ 2025 کو سپریم کورٹ نے اس معاملے کی جانچ کے لیے تین سینیئر آئی پی ایس افسران پر مشتمل خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دینے کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ ٹیم میں ایسے افسران ہوں جو مدھیہ پردیش سے باہر کے ہوں تاکہ جانچ غیر جانبدار رہے۔

اسی دوران عدالت نے وجے شاہ کی گرفتاری روک دی، بشرطیکہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کریں۔

ایس آئی ٹی نے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے، ویڈیوز اور دیگر شواہد جمع کیے اور متعدد رپورٹس سپریم کورٹ میں پیش کیں۔ جولائی 2025 میں سپریم کورٹ نے ایک بار پھر وجے شاہ کی جانب سے صرف آن لائن معافی پر ناراضی ظاہر کی اور مزید مؤثر عوامی معافی کا سوال اٹھایا۔

پھر 8 مئی سنہ 2026 کو مدھیہ پردیش حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ’کنور وجے شاہ در اصل کرنل صوفیہ کی ’تعریف‘ کرنا چاہتے تھے لیکن وہ ٹھیک طرح سے اپنی بات کرنے میں ناکام رہے۔‘

بہرحال اگست سنہ 2026 تک بھی معاملہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ایس آئی ٹی کی جانب سے قانونی کارروائی کے لیے سفارشات سامنے آ چکی ہیں، جبکہ مدھیہ پردیش حکومت کے سامنے یہ سوال زیرِ غور ہے کہ آیا وجے شاہ کے خلاف باضابطہ مقدمہ چلانے کی منظوری دی جائے یا نہیں۔

سپریم کورٹ اس معاملے کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے اور حکومت سے کارروائی کی پیش رفت طلب کرتی رہی ہے۔

سپریم کورٹ میں اس کیس کی اگلی اہم سماعت 31 اگست 2026 (آج) کے لیے مقرر کی گئی ہے۔

کرنل صوفیہ قریشی کون ہیں؟

انڈین ریاست گجرات سے تعلق رکھنے والی کرنل صوفیہ قریشی انڈین بری فوج کی افسر ہیں اور وہ پہلی مرتبہ خبروں میں سنہ 2016 میں اس وقت آئی تھیں جب انڈیا کے شہر پونے میں کثیر القومی فیلڈ ٹریننگ مشقوں کا انعقاد کیا گیا تھا۔

’فورس 18‘ کے نام سے ہوئی ان مشقوں میں آسیان پلس ممالک شامل تھے اور انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ انڈیا میں اب تک کی سب سے بڑی زمینی افواج کی مشقیں تھیں۔

ان مشقوں میں شامل 40 فوجیوں پر مشتمل انڈین فوجی دستے کی قیادت سگنل کور کی خاتون افسر لیفٹیننٹ کرنل صوفیہ قریشی نے کی تھی۔ اُس وقت انھیں کثیر الاقوامی مشقوں میں انڈین فوج کی تربیتی ٹیم کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون افسر بننے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔

اُس وقت انڈیا کی وزارت دفاع نے اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اُن کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی تصاویر بھی شیئر کی تھیں۔

صوفیہ قریشی کا تعلق ریاست گجرات کی ایک فوجی فیملی سے ہے اور اُن کے دادا بھی انڈین فوج میں افسر تھے۔ انھوں نے بائیو کیمسٹری میں پوسٹ گریجویشن کر رکھی ہے۔

وہ چھ سال تک اقوام متحدہ کی امن فوج میں بھی کام کر چکی ہیں اور اسی ذمہ داری کے تحت انھوں نے سنہ 2006 میں کانگو میں بھی وقت گزارا تھا۔ اُس وقت ان کا بنیادی کردار امن آپریشنز میں تربیت سے متعلق تعاون فراہم کرنا تھا۔