آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی اور اعتماد بحال کرنے کی خواہش‘: صائم ایوب کو سکواڈ سے ریلیز کر دیا گیا
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تصدیق کی ہے کہ آؤٹ آف فارم اوپننگ بلے باز صائم ایوب کو سہ فریقی سیریز کے بقیہ میچز کے لیے ون سکواڈ سے باہر کر دیا گیا ہے۔
پیر کو پی سی بی کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہیڈ کوچ سے گفتگو کے بعد ’صائم ایوب نے ڈومیسٹک کرکٹ میں واپس جانے کی خواہش ظاہر کی تاکہ وہ اپنی بیٹنگ فارم پر کام کر سکیں اور اپنا اعتماد بحال کر سکیں۔‘
پی سی بی کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صائم کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے اور اپنی موجودہ فارم کے بارے میں ان کے دیانتدارانہ جائزے کو سراہتے ہوئے، ٹیم انتظامیہ اور قومی سلیکشن کمیٹی نے باہمی اتفاق رائے سے اس درخواست کو قبول کر لیا ہے۔
خیال رہے کہ 24 سالہ صائم ایوب پاکستان کی جانب سے 20 ون ڈے میچز میں تین سینچریوں کی مدد سے 772 رنز بنا چکے ہیں، تاہم اُن کی حالیہ فارم پر سوالات اُٹھائے جا رہے تھے۔
صائم ایوب پاکستان میں جاری سہ فریقی سیریز میں بھی کوئی بڑی اننگز نہیں کھیل سکے تھے جبکہ بولنگ میں بھی کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے۔
سری لنکا کے خلاف سیریز کے پہلے میچ میں صائم ایوب نے سات، انگلینڈ کے خلاف راولپنڈی میں کھیلے جانے والے میچ میں آٹھ جبکہ لاہور میں انگلینڈ کے خلاف میچ میں بھی وہ صرف چھ رنز بنا سکے تھے۔
صاحبزادہ فرحان ون ڈے سکواڈ میں شامل
پی سی بی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی سلیکشن کمیٹی نے سہ فریقی سیریز کے بقیہ میچوں کے لیے صائم ایوب کی جگہ صاحبزادہ فرحان کو ٹیم میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مسلسل تین فتوحات کے ساتھ فائنل میں جگہ بنانے والی پاکستانی ٹیم، سہ فریقی سیریز کے پانچویں میچ میں منگل اکتوبر کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں سری لنکا کا سامنا کرے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صاحبزادہ فرحان پاکستان کے ٹی 20 کپتان ہیں اور اُن کی قیادت میں پاکستان نے سری لنکا کو ٹی 20 سیریز میں شکست دی تھی۔
صاحبزادہ فرحان نے پاکستان کی جانب سے صرف چھ ون ڈے میچز کھیلے ہیں اور 17 کی اوسط سے اُنھوں نے 101 رنز بنائے ہیں۔
انگلینڈ کے خلاف میچ میں جلدی آؤٹ ہونے پر صائم ایوب پر تنقید میں اضافہ ہوا تھا۔ بعض صارفین کا کہنا تھا کہ لگتا ہے کہ کرکٹ بورڈ پرفارم نہ کرنے کے باوجود صائم ایوب کو چانس دیتا رہے گا، حالانکہ کئی باصلاحیت نوجوان اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔
صائم ایوب کو ٹیم سے ریلیز کرنے پر سوشل میڈیا پر نومی نامی ایک صارف نے لکھا کہ صائم ایوب اب بھی ان چند بلے بازوں میں سے ایک ہیں، جن میں تینوں فارمیٹس (ٹیسٹ، ون ڈے، ٹی 20) میں کھیلنے کی حقیقی صلاحیت موجود ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’انجری سے پہلے ہم نے مختلف فارمیٹس میں اس کی جھلکیاں دیکھی تھیں۔ انجری کے بعد انھیں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، پھر انھیں مختلف پوزیشنز پر کھلایا گیا جس کی وجہ سے ان کا اعتماد متزلزل ہو گیا۔ وہ اب بھی انتہائی باصلاحیت کھلاڑی ہے، بشرطیکہ وہ ذہنی طور پر مضبوط رہیں۔‘
خیال رہے کہ صائم ایوب گذشتہ برس کے آغاز پر جنوبی افریقہ میں ٹیسٹ میچ کے دوران فیلڈنگ کے دوران زخمی ہو گئے تھے۔
کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں باؤنڈری روکنے کی کوشش کے دوران اُن کا ٹخنہ مڑ گیا تھا جس کے علاج کے لیے وہ برطانیہ بھی گئے تھے۔
اس سے پہلے صائم ایوب نے جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا میں ہونے والی ون ڈے سیریز میں پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
حسن نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ اب بھی میرا ماننا ہے کہ صائم ایوب اور فخر آپ کے بہترین اوپنرز ہیں، خاص طور پر جنوبی افریقہ کی کنڈیشنز میں۔ انھیں مسلسل مواقع دیں، تو ورلڈ کپ سے پہلے وہ دوبارہ اپنی فارم میں واپس آ جائیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ معاذ صداقت بھی اچھا کھلاڑی ہے اور آپ اسے صائم ایوب کے متبادل کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں، لیکن افسوس کے پی سی بی ہمیشہ عجیب فیصلے کرتا ہے۔
اگلا ون ڈے ورلڈ کپ اکتوبر اور نومبر میں جنوبی افریقہ میں کھیلا جا رہا ہے۔ گروپ اے میں شامل پاکستان، انڈیا، آسٹریلیا اور افغانستان کے خلاف پول میچز کھیلے گا۔
احسن ناگی نے لکھا کہ ’پاکستان نے گذشتہ دو دنوں کے دوران سفیان مقیم اور صائم ایوب کو ون ڈے سہ فریقی سیریز کے سکواڈ سے فارغ کر دیا ہے، اور کہا ہے کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں واپس جائیں گے۔ لیکن سیریز کے اختتام تک، ’پریذیڈنٹس ٹرافی‘ کے فائنل کے علاوہ، کوئی ڈومیسٹک کرکٹ شیڈول نہیں ہے۔‘
گوہر نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ صائم ایوب کی بیٹنگ کی ’مشکلات‘ پر کافی بحث ہو رہی ہے۔۔اگر ہم ون ڈے کی بات کر رہے ہیں، تو ہمیں مختلف فارمیٹس کو آپس میں ملانا بند کرنا ہو گا۔ اور اگر ہم جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کے تناظر میں بات کر رہے ہیں، تو ہمیں جذباتی آرا سے گریز کرنا چاہیے۔
خیال رہے کہ دسمبر 2024 میں جنوبی افریقہ میں کھییلی جانے والی تین ایک روزہ میچز کی سیریز میں صائم ایوب نے ایک سینچری اور دو نصف سینچریاں بنا کر پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
لیلی نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’مجھے کسی حد تک صائم کے لیے افسوس ہے، لیکن چوٹ لگنے کے بعد وہ پہلے جیسے نہیں رہے۔ انھیں بہت زیادہ ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ صائم کو چاہیے کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلیں اور پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو کر واپس آئیں۔