’ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی کم عمر ترین ٹیموں میں سے ایک‘: سری لنکا سیریز کے لیے سکواڈ میں شامل نئے چہرے کون ہیں؟

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کے لیے پاکستان کے 14 رُکنی سکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان اور اوپنر امام الحق سمیت انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلنے والے متعدد کھلاڑیوں کو ڈراپ کر دیا گیا ہے۔

جن کھلاڑیوں کو ڈراپ کیا گیا ہے کہ ان میں سابق کپتان شان مسعود، محمد رضوان، امام الحق، صائم ایوب، عبداللہ شفیق، اویس ظفر، محمد عمران رندھاوا، خرم شہزاد، محمد عمران جونیئر، ساجد خان اور عامر جمال شامل ہیں۔

ٹیسٹ سکواڈ میں سمیر منہاس، محمد سلیمان اور محمد طحہ جیسے نئے چہروں کو شامل کیا گیا ہے۔

سنیچر کو پی سی بی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کپتان بابر اعظم ہی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کریں گے۔

سکواڈ میں اوپنرعبداللہ فضل، اذان اویس، سلمان علی آغا، محمد سلیمان، محمد طحہ، سعد بیگ، غازی غوری، رضا اللہ، عرفات منہاس، سمیر منہاس، سعود شکیل، علی عثمان اور محمد عباس شامل ہیں۔

پی سی بی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تین روزہ وارم اپ میچ کے بعد سکواڈ میں دو فاسٹ بولرز شامل کیے جائیں گے۔

پاکستان اور سری لنکا کی ٹیموں کے درمیان دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا میچ نو نومبر سے راولپنڈی میں شروع ہو رہا ہے۔

دوسرا ٹیسٹ میچ 17 سے 21 نومبر کے درمیان لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں شیڈول ہے۔

سکواڈ میں کون سے نئے کھلاڑی شامل کیے گئے ہیں؟

پی سی بی کے مطابق سمیر منہاس، محمد سلیمان اور محمد طحہ پہلی مرتبہ پاکستان کے ٹیسٹ سکواڈ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

پاکستان کے شہر کراچی سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ محمد طحہ بائیں ہاتھ سے بلے بازی کرتے ہیں۔

سپورٹس جرنلسٹ اور تجزیہ کار شاہد ہاشمی کے مطابق محمد طحہ کراچی اور سندھ سے کھیل چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سال طلحہ نے پریزیڈنٹ ٹرافی میں 700 رنز بنائے ہیں جس میں ایک ڈبل سنچری بھی شامل ہے۔

’لگ رہا ہے کہ اس کا ڈیبیو کروا دیں گے کیونکہ شان مسعود دستیاب نہیں۔‘

ان کے مطابق شان اور طحہ دونوں ہی بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے ٹاپ آرڈر کے بلے باز ہیں۔

اس کے علاوہ حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے محمد سلیمان بھی پاکستان کے ٹیسٹ سکواڈ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

’کرک انفو‘ کے مطابق حیدر آباد ریجن سے کھیلتے ہوئے 27 سالہ مڈل آرڈر بلے باز محمد سلیمان نے 35 فرسٹ کلاس میچز میں آٹھ سینچریوں اور سات نصف سینچریوں کی بدولت 2227 رنز بنائے ہیں۔

شاہد ہاشمی کا کہنا ہے کہ سلیمان نے پریزیڈنٹ ٹرافی کے رواں سیزن میں بہ اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔

سمیر منہاس دو دسمبر سنہ 2006 کو ملتان میں پیدا ہوئے۔ دائیں ہاتھ کے اوپننگ بلے باز کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس میں پہلے ہی سے ایک اور انٹرنیشنل کرکٹر موجود ہے۔

وہ پاکستان کی جانب سے ون ڈے اور ٹی 20 میچز میں نمائندگی کرنے والے عرفات منہاس کے بھائی ہیں، جو خود بھی پہلی مرتبہ پاکستان کے ٹیسٹ سکواڈ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

عرفات منہاس نے چند روز قبل راولپنڈی میں انگلینڈ کے خلاف شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھ وکٹیں حاصل کی تھیں اور نصف سینچری بھی بنائی تھی۔

سمیر منہاس ان نوجوان کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاتھ وے سسٹم سے سامنے آئے ہیں۔ پاکستان انڈر 19 کی نمائندگی کرنے سے پہلے وہ ملتان ریجن انڈر 13، سدرن پنجاب انڈر 16، ملتان انڈر 19 اور ملتان ریجن انڈر 19 کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

سمیر منہاس نے گذشتہ برس انڈیا کے خلاف انڈر 19 ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان کی جانب سے صرف 113 گیندوں پر 172 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی۔ پاکستان نے اس میچ میں کامیابی حاصل کی تھی۔

سمیر منہس کے سلیکشن کے حوالے سے شاہد ہاشمی رائے ہے کہ انھیں تھوڑا جلدی سلیکٹ کر لیا گیا ہے۔ 'ابھی وہ محض 20-19 سال کے ہیں جبکہ عارف طیب اور محمد فاروق جیسے کھلاڑی بھی تھے جنھیں نہیں لیا گیا۔'

'ظاہر سی بات ہے کھیلے گا نہیں۔'

’ساجد خان کو ہوم گراؤنڈ میں ڈراپ کرنا یہ ناانصافی‘

تاہم شاہد ہاشمی کے خیال میں پی سی بی نے بہت سے کھلاڑیوں بشمول ساجد خان کے ساتھ زیادتی کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ساجد خان نے ویسٹ انڈیز میں اپنے آخری ٹیسٹ میں آٹھ وکٹیں لی تھیں اور تیس رنز بنائے تھے۔

’ویسٹ انڈیز میں کھیلے گئے دو ٹیسٹ اور انگلینڈ میں کھیلے گئے تین ٹیسٹ میں سے انھیں صرف ایک میچ میں کھلایا گیا جس میں انھوں 8 وکٹیں حاصل کی تھیں۔‘

’اس کو ڈراپ کرنا، وہ بھی ہوم گراؤنڈ میں، یہ ناانصافی ہے۔‘

سوشل میڈیا پر ردِعمل

پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ سکواڈ کے اعلان پر سوشل میڈیا پر بھی بات ہو رہی ہے۔

شیری نامی صارف نے سلمان علی آغا کی ٹیم میں شمولیت پر ایکس پر لکھا کہ ’انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں کپتان، دوسرے ٹیسٹ سے ڈراپ کر دیے گئے۔ تیسرے ٹیسٹ سے قبل وطن واپس بھیج دیے گئے۔ اب سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان کے سکواڈ میں واپسی۔ سلمان علی آغا کے لیے ایک حیران کن سفر!‘

خیال رہے کہ پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان سلمان علی آغا اُن سات کھلاڑیوں میں شامل تھے، جنھیں اگست میں لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان واپس بھجوا دیا گیا تھا۔

سلمان علی آغا نے انگلینڈ کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں کپتانی کی تھی، دوسرے سے اُنھیں ڈراپ کر دیا گیا تھا جبکہ تیسرے ٹیسٹ میچ سے قبل اُنھیں واپس بھجوا دیا گیا تھا۔ لہذا سری لنکا کے خلاف میچ اس متنازع واقعے کے بعد اُن کا پہلا میچ تھا۔

اعداد و شمار کے ماہر مظہر ارشد نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں عبداللہ شفیق کو ڈراپ کرنے پر حیرت کا اظہار کیا۔

حسان نامی صارف نے لکھا کہ ’ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی کم عمر ترین ٹیموں میں سے ایک۔ سری لنکا کے خلاف اگلی سیریز میں کئی نئے چہرے نظر آئیں گے۔‘

صحافی ارفع فیروز زکی نے ایکس پر لکھا کہ عرفات منہاس اور سمیر منہاس ’دی منہاس برادران‘ پاکستان کے ٹیسٹ سکواڈ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔