پاکستان-ایران سرحد کی بندش کے بعد جزوی بحالی اور خدشات: ایران سے سامانِ تجارت محدود انداز میں کیوں آ رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محمد کاظم، علی رمضانیان
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
جنگ اور بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کے روایتی تجارتی راستے متاثر ہونے کے بعد، پاکستان کی سرحدی گزرگاہیں ایران سے سامان درآمد اور برآمد کرنے کے اہم ترین راستوں میں سے ایک بن گئی تھی۔
تاہم دونوں ممالک کے درمیان دس روز قبل تجارتی آمد و رفت عارضی طور پر معطل ہوئی، جس کے باعث سرحد کے دونوں جانب ہزاروں مال بردار گاڑیاں پھنس کر رہ گئیں۔
اگرچہ سرحد کو 25 اکتوبر سے جزوی طور پر کھولا گیا ہے، مگر تاجروں کے مطابق تجارت تاحال محدود ہے کیونکہ کئی تجارتی پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔
اسلام آباد اور تہران کے حکام نے 17 اکتوبر کو گبد۔ریمدان اور تفتان۔میرجاوہ سرحدی گزرگاہوں کی بندش کی تصدیق کی تھی تاہم بظاہر اچانک کیے گئے اس فیصلے کی وجوہات کے حوالے سے دونوں جانب سے مختلف مؤقف پیش کیا گیا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ دونوں ممالک نے اِس بات پر زور دیا تھا کہ یہ معطلی ’عارضی‘ نوعیت کی ہے۔
17 اکتوبر کو حکومتِ بلوچستان کے ترجمان اور وزیرِ اعلیٰ کے مشیر شاہد رند نے کہا تھا کہ سرحدی گزرگاہوں کی بندش کا مقصد ’سکیورٹی خدشات کا ازالہ، سمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی نظام کو مزید مؤثر بنانا‘ ہے جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تجارت کی معطلی کو بعض غیر واضح 'تکنیکی مسائل' کا نتیجہ قرار دیا تھا، جن کے باعث 'فوری احتیاطی اقدامات' کرنا ضروری تھے۔
ایرانی اور پاکستانی ذرائع ابلاغ نے 25 اکتوبر کو رپورٹ کیا کہ دو مرکزی گزرگاہیں تفتان اور گبد۔ریمدان دوبارہ کھول دی گئی ہیں اور مائع گیس اور خوراک سمیت دیگر سامان لے جانے والے ٹرکوں کی آمد و رفت بحال ہو گئی ہے۔
تاہم متعلقہ پاکستانی حکام، تاجروں اور مقامی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں کے مطابق اِس وقت صرف اُس مال کو ایران سے پاکستان آنے کی جانے کی اجازت دی جا رہی ہے کہ جس کی بکنگ 16 اکتوبر سے پہلے ہوئی تھی اور یہ کہ محدود تجارت کی اجازت ملنے کے باعث صورتحال تاحال غیر یقینی کا شکار ہے۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحد کھلی ہوئی ہے، تاہم جب اُن سے پوچھا گیا کہ تجارتی سرگرمیوں کی صرف جزوی بحالی کی اطلاعات ہیں، تو اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ صوبائی معاملہ نہیں۔ یہ معاملات وفاق دیکھتا ہے۔ وہ ہمیں کہتے ہیں کہ کچھ مسائل ہیں، سرحد بند کر دو، ہم بند کر دیتے ہیں اور جب کھولنے کے احکامات آتے ہیں تو سرحد کھول دی جاتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گزر گاہوں کی اس جزوی بندش نے نہ صرف دونوں ممالک کی تجارت کو متاثر کیا بلکہ ایران کے لیے زمینی راستوں سے سامان کی فراہمی کے مستقبل کے بارے میں بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگرچہ ایرانی اور پاکستانی حکام اس اقدام کی وجوہات تکنیکی، انتظامی اور سکیورٹی امور کو قرار دیتے ہیں، تاہم بعض ایرانی مبصرین اسے ایران کی معیشت پر وسیع تر عالمی دباؤ کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
ایران اور پاکستان میں سرحدی تجارت کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پاکستانی تاجروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد کو دوبارہ تجارت کے لیے کھول دیا گیا ہے لیکن یہ تجارت محدود ہے۔
تاجروں کے مطابق پاکستانی حکام کی جانب سے پابندی کے باعث سرحد کی جانب اب بھی سینکڑوں کی تعداد میں گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔
کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر فدا حسین دشتی نے بتایا کہ سرحدی تجارت کی محدود اجازت کے باعث دونوں جانب بڑی تعداد میں گاڑیاں تاحال پھنسی ہوئی ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس وقت ایران صرف اس مال کو جانے کی اجازت دے رہا ہے جس کی بکنگ 16 اکتوبر سے پہلے ہوئی تھی، اسی بات کی تصدیق گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میر نوید کلمتی نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کی۔
تفتان میں ایک متعلقہ سینیئر افسر نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ ایران کے ساتھ پاکستان کی برآمدات مکمل بحال ہیں، تاہم تاحال سرحدی گزرگاہوں پر صرف اُن درآمدات کو پراسیس کیا جا رہا جو 16 اکتوبر 2026 تک یا اس سے پہلے کے آڈرز سے متعلق ہیں۔
جب اُن سے سوال کیا گیا کہ 16 اکتوبر کے بعد کے آڈرز کو کیوں پراسیس نہیں کیا جا رہا تو انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ پاکستانی وزارت تجارت کی جانب سے ایران سے درآمدات کے لیے الیکٹرانک امپورٹ فارم (ای آئی ایف) سے استثنی کی منسوخی ہے۔
یاد رہے کہ ایران اور پاکستان میں سرحدوں کی عارضی بندش سے ایک روز قبل، یعنی 16 اکتوبر کو، پاکستان کی وزارتِ تجارت نے وہ حکمنامہ منسوخ کر دیا تھا جس کے تحت ایران سے درآمدات کے لیے الیکٹرانک امپورٹ فارم (ای آئی ایف) سے استثنیٰ میں توسیع دی گئی تھی۔ یہ حکمنامہ پاکستانی وزارت کامرس کی جانب سے اپنی منسوخی سے محض 13 دن قبل یعنی تین اکتوبر کو جاری کیا گیا تھا۔
سینیئر افسر کے مطابق جب تک ای آئی ایف سے استثنی کے حکمنامے کو بحال نہیں کیا جاتا، تب تک ایران سے 16 اکتوبر کے بعد بُک ہونے والا سامان سرحد عبور نہیں کر پائے گا۔
ایران میں اقتصادی شعبے سے وابستہ افراد نے بھی اس نوعیت کی رکاوٹوں کا ذکر کیا ہے۔ تہران چیمبر آف کامرس سے وابستہ پیمان سنندجی کے مطابق پاکستانی درآمد کنندگان کو ایران سے سامان منگوانے کے لیے اپنے بینکاری نظام کے ذریعے متعلقہ الیکٹرانک فارم جمع کرانا ہوتا ہے، مگر ایران پر عائد مالی پابندیوں کی وجہ سے یہ عمل مشکلات کا شکار ہے۔
کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر فدا حسین دشتی کے مطابق آج کل ایران سے آنے والی 60 سے 70 مال بردار گاڑیوں کو چھوڑا جا رہا ہے اور حالیہ صورتحال کے باعث ایرانی کمپنیوں نے پاکستان کے لیے سامان کی بکنگ بند کر دی ہے کیونکہ انھیں نقصان کا خدشہ ہے۔
ضلع چاغی کے سرحدی شہر تفتان کے تاجر رہنما حاجی شوکت عیسیٰ زئی نے بتایا کہ اس وقت ایران سے جو بھی اشیا آ رہی ہیں ان کا 70 فیصد ایل پی جی پر مشتمل ہے۔
حاجی شوکت عیسیٰ زئی نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت ایل پی جی کی جو کھپت ہے اس کے بڑا انحصار ایران سے ہونے والی درآمد پر ہے۔
ایران کے ساتھ سرحد کی بندش سے پاکستان کے دیگر شہروں کی طرح بلوچستان میں بھی ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
کوئٹہ میں ایل پی جی فروخت کرنے والے ایک دکاندار تُشار کمہار نے بتایا کہ سرحد کی بندش سے پہلے کوئٹہ میں ایل پی جی کی فی کلو قیمت 480 روپے تک تھی لیکن ایران سے درآمد بند ہونے کے بعد اس کی قیمت 600 روپے تک پہنچ گئی تھی۔
دونوں طرف کے بلوچستان پر اثرات

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سرحد کے ایک جانب ایران کا صوبہ سیستان و بلوچستان اور دوسری جانب پاکستان کا صوبہ بلوچستان واقع ہے۔ ثقافتی، لسانی اور خاندانی روابط کی وجہ سے ان دونوں علاقوں کے تعلقات عام سرحدی روابط سے کہیں زیادہ گہرے ہیں۔
سرحد بند ہونے کے بعد پاکستان کا بلوچستان ان اولین علاقوں میں شامل ہے جو اس کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔ پاکستان روزانہ تقریباً سات ہزار ٹن مائع گیس ایران سے درآمد کرتا ہے۔ گوادر چیمبر آف کامرس کے سابق صدر شمس الحق کے مطابق اس میں سے چار ہزار ٹن سے زیادہ گیس گبد۔ریمدان گزر گاہ کے ذریعے آتی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس سپلائی میں عارضی رکاوٹ کے بعد 12 کلوگرام مائع گیس کے سلنڈر کی قیمت چند روز میں ساڑھے چار ہزار سے بڑھ کر تقریباً سات ہزار روپے ہو گئی تھی اور بعض علاقوں میں اس سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔
موسم سرما کی آمد کے موقع پر پاکستان کو اس ایندھن کی ضرورت ہے اور ملک کی ایل پی جی ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ قلت اور قیمتوں میں اضافہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران کا صوبہ سیستان و بلوچستان بھی ان پابندیوں سے خاصا متاثر ہوتا ہے۔ سرحدی تجارت اور مقامی بازار اس خطے کی معیشت کا اہم حصہ ہیں اور بہت سے رہائشی اپنی ضرورت کی بعض اشیا پاکستان سے حاصل کرتے ہیں۔
سرحد کے دونوں جانب موجود مضبوط اقتصادی، ثقافتی اور خاندانی رشتوں کی وجہ سے آمد و رفت یا تجارت میں طویل رخنہ مقامی آبادی کے روزگار اور کاروباری سرگرمیوں پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔
پاکستان اور ایران میں تجارت کا حجم
ایران اور پاکستان کی مشترکہ سرحد صرف ایک تجارتی راہداری نہیں بلکہ دونوں ممالک کے لیے اہم اقتصادی شریان بھی ہے مگر اس کے باوجود دو طرفہ تجارت کا حجم اب بھی تہران اور اسلام آباد کے طے کردہ 10 ارب ڈالر کے ہدف سے بہت کم ہے۔ مختلف سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم تقریباً ایک ارب سے 3.1 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔
ایران کی تجارتی ترقیاتی تنظیم کے سربراہ دہقان دہنوی کے مطابق ایران سے پاکستان بھیجی جانے والی تقریباً 62 فیصد مصنوعات کا تعلق توانائی سے ہے، جن میں گیس، بٹومین (سڑکوں کی تعمیر میں استعمال ہونے والا تارکول نما مادہ)، بیوٹین (ہائیڈروکاربن گیس) اور پولی تھیلین (پلاسٹک بنانے کا خام مال) شامل ہیں۔
دوسری طرف پاکستان سے ایران جانے والی تقریباً 70 فیصد درآمدات زرعی اور مویشیوں سے متعلق اشیا پر مشتمل ہیں، جن میں چاول، گائے کا گوشت، تل، آم، کیلے، زندہ مویشی اور جیلاٹن (خوراک اور ادویات میں استعمال ہونے والا پروٹین) شامل ہیں۔
ایران پاکستان مشترکہ چیمبر آف کامرس کے رکن محمد علی نشاطی نے کہا ہے کہ پاکستان میں پیدا ہونے والے مسائل اور دو طرفہ تجارت پر ان کے اثرات کے باعث تجارتی حجم میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق میرجاوہ سمیت بعض سرحدی راستے کئی ماہ سے بند ہیں۔
زمینی محاصرے سے متعلق قیاس آرائیاں
ایران، جو بہت زیادہ مہنگائی، معاشی جمود، جنگ کے باعث پیدا ہونے والی تجارتی پابندیوں اور وسیع اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، اس کے لیے پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ زمینی سرحدیں تجارت اور درآمدی ضروریات پوری کرنے کے اہم راستوں میں شمار ہوتی ہیں۔
اس لیے ان گزرگاہوں پر تجارتی آمد و رفت میں رکاوٹ ایرانی برآمدات اور اُن سے حاصل ہونے والی آمدنی کو متاثر کر سکتی ہے۔
اسی دوران بعض مبصرین سرحدی گزر گاہوں کی بندش کو ایران پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے وسیع تر تناظر میں دیکھتے ہیں۔
اقتصادی خبروں کے لیے معروف امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے لکھا ہے کہ عراق اور پاکستان سمیت ایران کے بعض زمینی راستوں پر نقل و حرکت کی پابندیاں تہران پر معاشی دباؤ بڑھا سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سمندری، فضائی اور مالیاتی پابندیاں ایران کی بیرونی تجارت کو مزید مشکل بنا سکتی ہیں۔
تاہم ابھی تک ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ پاکستانی سرحد پر تجارتی سرگرمیوں کی معطلی ایران کے ’زمینی محاصرے‘ کے کسی سرکاری اور مربوط منصوبے کا حصہ تھی۔ پاکستانی حکام اس اقدام کو سکیورٹی اور انتظامی تقاضوں سے جوڑتے ہیں جبکہ ایرانی حکام تکنیکی اور احتیاطی وجوہات کا ذکر کرتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان اس سے پہلے ایران کو سامان کی ترسیل آسان بنانے کے لیے متعدد اقدامات کر چکا تھا۔ اسلام آباد نے 25 اپریل کو تیسرے ممالک کے سامان کو ایران منتقل کرنے کے لیے چھ زمینی راستے کھولے تھے اور اسی طرح 24 مارچ سے 21 جون تک چاول، گوشت، سبزیوں اور ادویات سمیت بعض اشیا کی درآمد کے لیے بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ کی شرط بھی ختم کر دی گئی تھی تاکہ ایران کو سامان کی فراہمی میں سہولت دی جا سکے۔
اسی دوران تہران پر بڑھتے ہوئے اقتصادی دباؤ کے ساتھ یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آئی ہیں کہ زمینی راستوں سے ایران کے ساتھ تجارت پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔




















