نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں افغان سفیر کا خطاب: کیا افغان طالبان حکام میں پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی سوچ پیدا ہو رہی ہے؟

،تصویر کا ذریعہNDU
- مصنف, منزہ انوار
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 13 منٹ
پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے سفیر سردار احمد شکیب کی جانب سے اسلام آباد کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ کوئی ’غیر معمولی‘ بات نہیں ہے اور اس نوعیت کی سرگرمی کو ’دو فریقوں کے درمیان تعلقات کی جانچ کا معیار نہیں سمجھا جا سکتا۔‘
یاد رہے کہ پاکستان میں تعینات افغان طالبان کے سفیر سردار شکیب احمد نے گذشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت میں واقع نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) کا دورہ کیا تھا اور وہاں اُن کی جانب سے کیا گیا خطاب پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ کئی ماہ سے جاری کشیدہ حالات کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کرتا نظر آیا ہے۔
نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں کیے گئے اپنے خطاب میں افغان سفیر نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینا چاہتا، تاہم انھوں نے افغانستان کے خلاف فوجی کارروائی، بیرونی دباؤ اور تجارت و ٹرانزٹ کو سیاسی ہتھیار بنانے کی بھی مخالفت بھی کی تھی۔
اُن کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو ماضی کے تجربات کے بجائے موجودہ حقائق کی بنیاد پر ایک دوسرے کے جائز سکیورٹی اور قومی مفادات کو تسلیم کرتے ہوئے براہِ راست بات چیت کا راستہ اپنانا چاہیے۔
تجزیہ کاروں نے افغان سفیر کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی جیسے ادارے میں مدعو کرنے اور وہاں اُن کی گفتگو کو دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔
جب صحافیوں کی جانب سے بدھ کی شام یہی سوال وزارت خارجہ کے ترجمان سے کیا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ ’سفارتی نمائندے تعلیمی اداروں کا دورہ کرتے رہتے ہیں اور یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ اس نوعیت کی سرگرمی کو دونوں فریقوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی جانچ کا معیار نہیں سمجھا جا سکتا۔ لہٰذا اس معاملے کو غیر ضروری اہمیت نہیں دینی چاہیے۔‘
وزارت خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ وہ افغانستان کے ساتھ روابط کے حوالے سے کسی ایسے فیصلے سے آگاہ نہیں ہیں اور یہ کہ اس معاملے کا انحصار افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی اُن یقین دہانیوں پر ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق ’ہم مسلسل اس مؤقف کا اعادہ کرتے آ رہے ہیں اور اس حوالے سے ہمارے مؤقف میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یاد رہے کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں افغان طالبان کے سفیر کی جانب سے کیا گیا یہ خطاب منگل کے روز پاکستان میں افغانستان کے سفارتخانے کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر بھی شیئر کیا گیا تھا تاہم چند گھنٹوں بعد سفارتخانے کا یہ آفیشل ایکس اکاؤنٹ ہی غیر فعال ہو گیا اور بدھ کو جب یہ اکاؤنٹ دوبارہ فعال ہوا تو وہاں سفیر کے خطاب سے متعلق پوسٹ موجود نہیں تھی۔
بی بی سی نے ’ایکس‘ پوسٹ حذف کیے جانے سے متعلق سوال سفارتخانے سے بھی پوچھا تاہم اُن کی جانب سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
اس سوشل میڈیا پوسٹ سے متعلق سوال پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سے بھی کیا گیا جس پر انھوں نے اس مؤقف کو دہرایا کہ اس پورے معاملے کو غیرمعمولی اہمیت نہیں دی جانی چاہیے۔ ترجمان نے کہا کہ ’جہاں تک سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کی جانے والی پوسٹ یا ان کے حذف کیے جانے کا تعلق ہے، مجھے اس بارے میں کوئی معلومات نہیں کہ کیا پوسٹ کیا گیا تھا اور بعد میں کیا حذف کیا گیا۔‘
تاہم دوسری جانب سفارتی اُمور کے تجزیہ کار افغان سفیر کے اس بیان کو افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے ایک حالیہ انٹرویو کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس انٹرویو میں سراج الدین حقانی نے سکیورٹی خدشات کے حل کے لیے پاکستان کے ساتھ مشترکہ طریقۂ کار (جوائنٹ میکانزم) کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کسی ثالث کے بجائے براہِ راست مذاکرات کی تجویز دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہX.com
افغان سفیر نے اپنے خطاب میں کیا کہا؟
پاکستان میں افغان طالبان کے سفیر سردار احمد شکیب نے نیشنل ڈیفس یونیورسٹی میں بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں سیاسی، سلامتی اور اقتصادی معاملات پاکستان کو متاثر کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے پاکستان میں ہونے والی پیش رفت افغانستان کو متاثر کرتی ہے۔
’یہ ایک جغرافیائی اور تزویراتی حقیقت ہے جسے کوئی بھی ملک تبدیل نہیں کر سکتا۔ لیکن ہمارے پاس یہ انتخاب ضرور موجود ہے کہ ہم اس باہمی انحصار کو بحران کا ذریعہ سمجھیں یا اسے استحکام، سلامتی اور مشترکہ اقتصادی ترقی کے لیے ایک موقع کے طور پر استعمال کریں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغان سرزمین سے پیدا ہونے والے ممکنہ سلامتی کے خطرات کے حوالے سے خدشات ہیں، اور افغانستان ان خدشات کو مکمل طور پر سمجھتا ہے۔ تاہم افغانستان اس بات پر بھی یکساں زور دیتا ہے کہ سلامتی سے متعلق الزامات مخصوص، واضح اور ٹھوس معلومات، قابلِ شناخت افراد، مخصوص نیٹ ورکس اور خاص واقعات سے منسلک ہونے چاہییں۔
’دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی موجودہ حقیقتوں کے بارے میں پرانے مفروضوں سے آگے بڑھنا ہو گا۔ آج کے افغانستان کو گذشتہ کئی دہائیوں کے تناظر میں نہیں پرکھا جانا چاہیے۔ افغانستان سرد جنگ کے دور کا افغانستان نہیں ہے۔ یہ 1990 کی دہائی کا افغانستان بھی نہیں ہے، اور نہ ہی یہ وہ افغانستان ہے جو 2001 کے بعد براہِ راست غیر ملکی فوجی موجودگی اور غیر ملکی سیاسی مداخلت کے زیرِ اثر موجود تھا۔‘
سردار احمد شکیب کا کہنا تھا کہ اب غیر ملکی فوجی موجودگی ختم ہو چکی ہے۔ ’کابل میں ایک نئی سیاسی حقیقت سامنے آ چکی ہے۔ افغانستان نہیں چاہتا کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو۔ اسی وقت افغانستان یہ بھی قبول نہیں کر سکتا کہ پاکستان کے سلامتی سے متعلق خدشات کو افغانستان کے خلاف فوجی کارروائی کے جواز کے طور پر استعمال کیا جائے۔‘
’اگر پاکستان کی سلامتی سے متعلق مخصوص خدشات کے حوالے سے افغانستان سے تعاون کی توقع کی جاتی ہے تو افغانستان بھی اسی طرح پاکستان کے ساتھ اپنی سلامتی سے متعلق تشویش پر براہِ راست بات چیت کرنا چاہتا ہے۔۔۔‘
سردار احمد شکیب نے کہا کہ ’افغانستان اپنی خودمختاری اور داخلی امور کے حوالے سے بیرونی دباؤ کی منطق کو قبول نہیں کرنا چاہتا۔ افغانستان یہ نہیں چاہتا کہ فوجی کارروائی سفارتی رابطے اور مذاکرات کا متبادل بن جائے۔ افغانستان یہ نہیں چاہتا کہ افغان شہریوں کو اجتماعی سزا دینا سلامتی کے مسائل حل کرنے کا ذریعہ بنے۔ افغانستان یہ نہیں چاہتا کہ تجارت اور ٹرانزٹ کو سیاسی دباؤ کے ذرائع کے طور پر استعمال کیا جائے۔ افغانستان اپنی جغرافیہ تبدیل نہیں کر سکتا۔ پاکستان بھی اپنا جغرافیہ تبدیل نہیں کر سکتا۔ ہم ایک دوسرے کے ہمسایہ رہیں گے۔‘
’لہٰذا اصل سوال یہ نہیں ہے کہ ہمارے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات ہوں گے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اچھے ہمسایوں کی حیثیت سے کس طرح رہیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’افغانستان اس انتخاب کے لیے تیار ہے، کمزوری کی پوزیشن سے نہیں، انحصار کی پوزیشن سے نہیں، اور محاذ آرائی کی پوزیشن سے بھی نہیں، بلکہ ایک ایسی آزاد ریاست کی حیثیت سے جو اپنی تاریخ سے واقف ہے، اپنے جغرافیے کو سمجھتی ہے، اپنے ماضی کے تجربات سے سیکھتی ہے، اور اپنے مستقبل کی تعمیر اپنے عوام کی خواہشات اور اپنے قومی مفاد کی بنیاد پر کرنا چاہتی ہے۔‘
’بظاہر افغان طالبان میں پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور مسائل حل کرنے کی سوچ پیدا ہوئی ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سینیئر صحافی اور افغان امور کے ماہر طاہر خان موجودہ ماحول میں افغان سفیر کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی بلائے جانے اور وہاں اُن کی گفتگو کو ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہیں۔
بی بی سی نیوز اُردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان حکومتی سطح پر تقریباً کوئی براہِ راست رابطہ اور بات چیت نہیں ہو رہی۔
’گذشتہ مہینوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں، سرحدیں اور آمدورفت کے تمام راستے، تجارت اور ٹرانزٹ بند ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے سکیورٹی اداروں سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس، خواہ وہ غیر رسمی یا غیر اعلانیہ نوعیت کے، روزانہ کی بنیاد پر ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی میں مصروف ہیں۔‘
طاہر خان کے مطابق ’ایسے ماحول میں افغان سفیر کو ایک فوجی ادارے، یعنی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، میں مدعو کرنا اور وہاں ایک تفصیلی خطاب کا موقع دینا خاص اہمیت رکھتا ہے۔‘
طاہر خان کے مطابق افغان سفیر کو وہاں مدعو کرنے کے فیصلے کے پیچھے ممکنہ طور پر یہ سوچ بھی ہو سکتی ہے کہ فوجی افسران افغان سفیر کا مؤقف براہِ راست سُنیں، انھیں سوالات کرنے کا موقع ملے اور وہ سفیر سے آمنے سامنے اپنے سوالات اور تحفظات کا اظہار کر سکیں۔
طاہر خان کہتے ہیں کہ ماضی میں بھی طالبان سفارت کاروں کو مدعو کیا جاتا رہا ہے، تاہم وہ ان دعوتوں پر شرکت نہیں کرتے تھے اور اُن کے نزدیک موجودہ صورتحال میں افغان سفیر کا دعوت قبول کرنا اور وہاں آ کر باقاعدہ خطاب کرنا اہمیت رکھتا ہے۔
طاہر خان نے اپنے حالیہ دور کابل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے اس دوران سراج الدین حقانی کے انٹرویو کے علاوہ، افغان حکام اور مختلف شخصیات سے ملاقاتیں بھی کیں اور اُن کے مطابق وہاں ہونے والی گفتگو سے انھیں یہ اندازہ ہوا کہ افغان طالبان اب پاکستان کے ساتھ معاملات حل کرنے کی طرف جا رہے ہیں یا کم از کم اس راستے پر جانا چاہتے ہیں۔
اُن کے مطابق شاید افغان طالبان کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ پاکستان کے ساتھ جنگ کی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے اور موجودہ بحران اس قدر طول پکڑ سکتا ہے۔
انھوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ سفیر کی تقریر عموماً سفیر خود نہیں لکھتے بلکہ اس کا متن مرکزی حکومت یا وزارتِ خارجہ کی جانب سے تیار کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ممکن ہے کہ افغان حکومت نے سفیر کے ذریعے پاکستان کو اپنی پالیسی کا ایک واضح پیغام دیا ہو، اس لیے سفیر کی جانب سے کسی مؤقف کا اظہار محض ان کی ذاتی رائے نہیں بلکہ اس کے پیچھے موجود وسیع تر حکومتی پالیسی کی بھی عکاسی کر سکتا ہے۔
طاہر خان نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مسائل حل کرنے سے متعلق افغان طالبان کی یہ پالیسی عوامی سطح پر بھی سامنے آ رہی ہے جس کا اظہار افغان وزیر داخلہ اور پھر افغان سفیر کے خطاب کی صورت میں ہوا۔
افغان امور کے تجزیہ کار اور صحافی احسان اللہ ٹیپو محسود کے مطابق نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں افغان سفیر کو موجودہ حالات میں مدعو کر کے خطاب کا موقع دینا معمولی پیش رفت نہیں ہے، کیونکہ یہ ایک خالصتاً فوجی ادارہ ہے اور وہاں اس تقریب میں شریک بیشتر افراد فوجی حکام تھے۔
ان کے مطابق این ڈی یو میں ایسے ملک کی حکومت کے نمائندے کو مدعو کرنا جسے پاکستان نے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا اور جس کے خلاف پاکستان کی فوجی کارروائی بھی تاحال ختم نہیں ہوئی، اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کہیں نہ کہیں معاملات پر بات چیت جاری ہے۔
ٹیپو محسود کے مطابق سراج حقانی کی جانب سے جوائنٹ میکانزم کی پیشکش کے بعد افغان سفیر کو این ڈی یو میں بلایا جانا دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت کا دوسرا اہم اشارہ ہے۔
بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس پیش رفت سے بظاہر یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ ’جنگ کے ساتھ ساتھ دونوں فریقوں کے درمیان کہیں نہ کہیں معاملات پر بات چیت بھی ہو رہی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹیپو محسود کے مطابق طول پکڑتی اس کشیدگی کے تناظر میں سب سے اہم عوامل میں پاکستان کے ساتھ سرحد کی بندش ہے، جو افغان طالبان کی معیشت پر دباؤ ڈال رہی ہے۔
انھوں نے مختلف ممالک سے افغانستان واپس جانے والے افغان شہریوں کی تعداد، تقریباً 25 سے 26 لاکھ افراد، کو بھی ایک بڑا مسئلہ قرار دیا۔
ٹیپو محسود کے مطابق افغان طالبان نے ماضی میں پاکستان پر انحصار کم کرنے اور ایران یا جنوبی ملائیشیا کے ذریعے تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کی، لیکن بظاہر وہ اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اُن کے مطابق اسی لیے افغان طالبان اب چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ معاملات کچھ بہتر ہوں۔
طاہر خان اور ٹیپو محسود نے اس ضمن میں چین کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے چین کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔
یاد رہے حالیہ عرصے میں چین کے افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی دو مرتبہ اسلام آباد کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ پاکستانی وزارت خارجہ نے بھی حالیہ بریفنگ میں طویل عرصے بعد حکومت سے حکومت کی سطح پر مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔
ٹیپو محسود کے مطابق پاکستان کا مؤقف شروع سے یہ رہا ہے کہ وہ حکومت سے حکومت کی سطح پر مذاکرات کرے گا، غیر ریاستی عناصر کے ساتھ براہِ راست بات چیت نہیں کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ ماضی میں براہِ راست ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے بجائے پاکستان نے افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کو ترجیح دینے کا مؤقف اختیار کیا تھا۔
طاہر خان کے مطابق چین بھی اس کوشش میں ہے کہ گذشتہ اپریل میں ارومچی میں پاکستان اور افغانستان میں ہونے والے مذاکرات کا دوسرا دور منعقد ہو۔
انھوں نے بتایا کہ چینی نمائندہ خصوصی کابل بھی جا چکے ہیں اور اِس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ نہ کچھ پیش رفت ضرور ہو رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا آنے والے دنوں میں عملی تبدیلی آئے گی؟
طاہر خان کا کہنا تھا کہ یقیناً پسِ پردہ کچھ ہو رہا ہے۔ اُن کے مطابق ’اس طرح کے حالات میں جب پیغام رسانی ہوتی ہے تو اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘
انھوں نے سراج الدین حقانی کے حالیہ بیان کے بعد پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مؤقف کا حوالہ دیا، جس میں پاکستانی وزارتِ خارجہ نے حقانی کی جانب سے مشترکہ طریقۂ کار (جوائنٹ میکانزم) کی تجویز پر پاکستان کے مؤقف کو واضح کیا تھا۔
یاد رہے کہ 27 اگست 2026 کو پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران طاہر خان نے افغانستان کے وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی کے اپنے ساتھ انٹرویو کا حوالہ دیا جس میں حقانی نے پاکستان کو ایک مشترکہ طریقۂ کار (جوائنٹ میکانزم) کی تجویز دی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کی جانب سے کمیٹیاں بنائی جائیں گی، شواہد ملنے پر کارروائی کی جائے گی اور عسکریت پسندوں کی موجودگی، اسلحے اور نقل و حرکت روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ طاہر خان کے مطابق حقانی نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہیں اور مسائل کے حل کے لیے دوسرے ممالک کی ثالثی کے بجائے پاکستان اور افغانستان کو براہِ راست بات چیت کرنی چاہیے۔
طاہر خان نے ترجمان سے سوال کیا کہ افغان فریق کی جانب سے مذاکرات اور رابطے کے لیے اس واضح آمادگی کے بعد جوائنٹ میکانزم کے قیام اور دوطرفہ رابطے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف کیا ہے؟
اس پر دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کی عبوری حکومت کے وزیرِ داخلہ کی جانب سے متنازع مسائل کے حل کے لیے جوائنٹ میکانزم بنانے کی تجویز کا نوٹس لیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ریاستی سطح پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم کسی بھی ایسے طریقۂ کار کی کامیابی اور پائیداری محض یقین دہانیوں کے بجائے عملی اور ٹھوس اقدامات پر منحصر ہو گی۔
ترجمان نے کہا کہ مذاکرات کے لیے افغان طالبان کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ کابل کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی، جن میں دوحہ فریم ورک کے تحت کیے گئے وعدے بھی شامل ہیں۔
طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ افغانستان کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے دشمن گروہوں کے استعمال میں نہ آئے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان ادارہ جاتی سطح پر رابطے اور تعاون کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عملی اور قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں اور سرحدوں کا مؤثر انتظام یقینی بنایا جائے۔
اسی کا حوالہ دیتے ہوئے طاہر خان کا کہنا ہے کہ اگر وزارتِ خارجہ کے سابقہ بیانات کا جائزہ لیا جائے تو ماضی میں پاکستان کا ردعمل نسبتاً زیادہ سخت رہا ہے۔
ان کے مطابق اکتوبر 2025 کے بعد پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان نہ تو کوئی دوطرفہ مذاکرات ہوئے ہیں اور نہ ہی باقاعدہ رابطے برقرار رہے ہیں۔ تاہم اب پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے عوامی سطح پر واضح کیا ہے کہ پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے، حتیٰ کہ ’حکومت سے حکومت کی سطح پر مذاکرات‘ کے لیے بھی آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔
ٹیپو محسود کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایک طرف ٹی ٹی پی کے حملے جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب پاکستان کی جانب سے افغانستان کے خلاف کارروائی بھی باضابطہ طور پر ختم کیے جانے کا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا، لیکن اس کے باوجود مذاکرات کے حوالے سے اہم اور قابلِ توجہ اشارے سامنے آ رہے ہیں۔



















