’جادو ٹونے اور بادشاہ کا موم کا مجسمہ‘ بنوانے کا الزام: برطانوی شاہی خاندان کی رکن جنھیں ننگے پاؤں لندن کے بازاروں میں گھمایا گیا

    • مصنف, ڈیبورا نکولس-لی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

بظاہر لگ رہا تھا کہ گلوسٹر کی ڈچز ایلینور کوبہم انگلینڈ کی ملکہ بننے جا رہی ہیں۔ لیکن پھر ان پر گمراہ کن عقائد اور جادوگری کے الزامات لگا کر انھیں مجرم قرار دے دیا گیا۔

یہ ایسا سکینڈل تھا جس نے بعد میں وارز آف دی روزز کی راہ ہموار کی۔ کیا وہ اقتدار کی خواہش میں مبتلا ایک مکار جادوگرنی تھیں یا پھر سیاسی کھیل کا مہرہ؟ ایک نیا ناول ان کی کہانی بیان کرتا ہے۔

یہ سنہ 1441 کی بات ہے جب ایلینور کوبہم ڈیوک آف گلوسٹر ہمفری آف لنکاسٹر کی اہلیہ تھیں۔ ہمفری کمزور اور بے اولاد بادشاہ ہنری ششم کے متوقع جانشین سمجھے جاتے تھے۔ ایسے میں ایلینور کے ملکہ بننے کا قوی امکان کا تھا۔

تاہم جیسے جیسے شاہی دربار میں ہمفری کا اثر و رسوخ کم ہوتا گیا، ایسے الزامات سامنے آنے لگے کہ ایلینور نے اپنے شوہر کی جانشینی کو یقینی بنانے کے لیے جادو ٹونے کا سہارا لے رہی ہے۔

ان الزامات کے نتیجے میں ان پر غداری سے متعلق جادوگری کا مقدمہ قائم ہوا اور انھیں مجرم قرار دے دیا گیا۔ یہ مقدمہ اس دور کا سب سے بڑا سکینڈل بن گیا اور اس کے نتیجے میں تخت کے مزید دعوے داروں کو سامنے آنے کا موقع ملا۔

اب فلپا گریگوری نے اپنے افسانوی ناول رائل وچ میں ایلینور کوبہم کی کہانی کو نئے انداز میں پیش کیا ہے، جس سے ایک ایسی خاتون دوبارہ توجہ کا مرکز بنی ہیں جو اپنی خوبصورتی اور بلند عزائم کے لیے جانی جاتی ہیں، مگر آج بھی ان کی شخصیت متنازع ہے۔

بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ انگلینڈ کی پہلی اور واحد شاہی خاتون جنھیں جادوگری کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی، ان کے خلاف شواہد گھڑے گئے تھے اور وہ محض ایک سیاسی کھیل کا مہرہ تھیں۔

تاہم گریگوری نے انھیں ایک ایسی بے رحم شخصیت کے طور پر پیش کیا ہے جنھوں نے اپنی تقدیر خود لکھنے کی کوشش کی۔

مصنفہ کہتی ہیں کہ ’وہ اس لالچ کا شکار ہو گئیں کہ جادوگری کے ذریعے بادشاہ کو قتل کیا جائے اور اپنے شوہر کے توسط سے خود انگلینڈ کے تخت تک پہنچا جائے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ایلینور جادوگری کے الزامات کا سامنے کرنے والی دیگر خواتین سے مختلف تھیں اور وہ ’واقعی جادو ٹونے کیا کرتی تھیں۔‘

بعض لوگوں کے نزدیک دربار کی یہ سابق خاتون ملازم ابتدا ہی سے کافی مشکوک تھیں۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے اپنی مالکن کاؤنٹیس آف ہینالٹ جیکولین کے شوہر کو اپنی طرف مائل کیا تھا۔

ان ناقدین کی نظر میں وہ ایک بے اصول درانداز تھیں جن کے پرتعیش اور نمائش پسند طرزِ زندگی نے لوگوں کی ناراضی میں مزید اضافہ کیا۔ ان کے خیال میں انھیں ان کی ’اوقات‘ یاد دلانا ضروری تھا۔

ایلینور اور ہمفری کی ماورائی علوم میں دلچسپی ان کی وسیع ذاتی لائبریری سے بھی ظاہر ہوتی تھی۔

تاہم جلد ہی بادشاہ کی کونسل تک یہ افواہیں پہنچ گئیں کہ ملکہ بننے کی خواہش مند ایلینور نے بادشاہ کی موت کی پیش گوئی کرانے کی سازش کی ہے۔ اس مبینہ سازش میں دیگر افراد کے علاوہ مارگری جورڈمین بھی شامل تھیں، جو ’وِچ آف آئی‘ کے نام سے معروف تھیں، جبکہ معروف عالم اور نجومی راجر بولنگ بروک کا نام بھی سامنے آیا۔

ان الزامات کی بنیاد پر ایلینور کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کیا گیا۔

من گھڑت الزامات؟

ہمفری کے سوتیلے چچا اور بڑے سیاسی حریف کارڈینل ہنری بیوفورٹ کی قیادت میں ایلینور پر روحوں کو طلب کر کے ان سے پوشیدہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش، بدعت اور جادوگری کے 18 الزامات عائد کیے گئے۔

ان الزامات میں جادوئی معجونیں حاصل کرنا، بادشاہ کی موت کی پیش گوئی کے لیے زائچہ تیار کروانا، اور بادشاہ کو جان لیوا نقصان پہنچانے کی غرض سے موم کا ایک مجسمہ بنوانا شامل تھا۔

ممکن ہے غداری کے الزامات سے بچنے اور یہ تاثر دینے کے لیے کہ یہ جادو ٹونا صرف گھریلو معاملات تک محدود تھا، ایلینور نے اعتراف کیا کہ انھوں نے مارگری جورڈمین سے محبت اور زرخیزی بڑھانے والی معجونیں حاصل کی تھیں۔

بہت سے مؤرخین کے نزدیک یہ الزامات من گھڑت تھے اور ان کے پیچھے سیاسی محرکات کارفرما تھے۔

جیما ہولمین 2019 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب رائل وِچز: جون آف ناوار سے الزبتھ ووڈوِل تک میں لکھتی ہیں کہ اہم فیصلوں میں رہنمائی حاصل کرنے کے لیے علمِ نجوم سے پیش گوئیاں کروانا ’کوئی غیر معمولی عمل نہیں تھا، حتیٰ کہ شاہی خاندانوں میں بھی۔‘

’اگر ایلینور نے اولاد کے حصول کے لیے محبت یا زرخیزی سے متعلق معجونیں آزمائی بھی تھیں تو اس حوالے سے وہ اپنے دور کی بہت سی دوسری خواتین سے مختلف نہیں تھیں، جو اسی طرح کے حالات کا سامنا کر رہی تھیں۔‘

ڈاکٹر ایون راجر جیسے کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ ایلینور ہمدردی کی مستحق ہیں۔

ڈاکٹر ایون راجر قومی آرکائیوز کے ریکارڈز کے ماہر اور قرونِ وسطیٰ کے آخری دور اور ٹیوڈر عہد کے مؤرخ ہیں۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں اس کہانی میں ایک افسوس ناک پہلو بھی ہے۔

’دراصل یہاں جو کچھ ہو رہا تھا، اور جس وجہ سے انھوں نے جادوگری سے متعلق اپنے خلاف عائد بعض الزامات کا اعتراف کیا، وہ یہ تھی کہ انھیں اولاد کی خواہش تھی اور اس مقصد کے حصول کے لیے وہ اُن طریقوں کا سہارا لے رہی تھیں جنھیں اس زمانے میں جادوگری سمجھا جاتا تھا۔‘

ان کے مطابق محبت کی معجون استعمال کرنے کے الزام کی شکل شاہی کونسل کو ایک ایسا جواز مل گیا تھا جسے بنیاد بنا کر ایلینور کی تخت کے متوقع وارث سے شادی ختم کی جا سکتی تھی، جبکہ غداری کے الزامات نے ان کے شوہر کو سیاسی طور پر ناقابلِ قبول شخصیت بنا دیا۔

ڈاکٹر راجر کہتے ہیں کہ ان کے میں ’یہ الزامات ایک کردار کشی کی مہم کا حصہ تھے۔‘

’ایلینور اپنے شوہر کی کمزوری سمجھی جاتی تھیں۔ ان کی ماورائی علوم میں دلچسپی مشہور تھی اور کونسل کے ارکان نے اسے ان کے شوہر کو نشانہ بنانے کے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کیا۔‘

ان کے بقول ایلینور کے خلاف پیش کیے گئے شواہد قابلِ اعتبار نہیں تھے۔

’زیادہ تر شواہد بولنگ بروک کے اعترافی بیان سے آتے ہیں، جسے تقریباً یقینی طور پر ایلینور کو اس معاملے میں ملوث دکھانے کے لیے منظرِ عام پر لایا گیا تھا۔ اور غالب امکان یہی ہے کہ پسِ پردہ بولنگ بروک پر تشدد کیا گیا تھا۔‘

ایلینور کے خلاف مقدمہ

اس کے برعکس، ناول رائل وچ میں ایلینور کو محض ایک سازش کی محرک نہیں بلکہ واقعات کے مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ناول میں وہ موم سے بنائے گئے مجسمے پر بادشاہ کی شبیہ خود کندہ کرتی ہیں اور اسے بادشاہ کے گھنگریالے سیاہ بالوں کے تراشے گئے ٹکڑوں کے ساتھ رکھتی ہیں۔

اس کتاب میں ایلینور کو جادو کا استعمال ’صرف ایک بچہ حاصل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ایک بادشاہ حاصل کرنے، ملک کو بچانے، شاہی خاندان کو بچانے اور خود کو عظیم بنانے کے لیے‘ کرتے دکھایا گیا ہے۔

گریگوری کے نزدیک ایلینور کے خلاف مقدمہ خاصا مضبوط تھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس بات کے کافی شواہد موجود تھے کہ ایسے کام ہو رہے تھے جنھیں اس زمانے میں جادوگری اور غالباً شیطان پرستی سمجھا جاتا تھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ راجر بولنگ بروک نے ’کبھی اپنا اعترافی بیان واپس نہیں لیا‘ اور ان کے خیال میں یہ بات بھی اہم ہے کہ ملزمان نے اپنی بے گناہی پر ’زیادہ زور دار انداز میں‘ اصرار نہیں کیا۔

گریگوری اس بات پر بھی زور دیتی ہیں کہ ایلینور کا مقدمہ کوئی معمول کا جادوگری کا مقدمہ نہیں تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’وہ اپنی کامیابی کے عروج پر تھیں۔ وہ شاہی ڈچز تھیں۔ انھِن بادشاہ کی خاص عنایت حاصل تھی اور وہ تخت کی وارث بننے کی صف میں شامل تھیں۔ وہ غیر معمولی طاقت اور اثر و رسوخ کی حامل شخصیت تھیں اور میرے خیال میں کسی کی ان کے خلاف کارروائی کرنے کی جرات نہیں ہو سکتی تھی اگر ان کے پاس انتہائی مضبوط شواہد نہ ہوتے۔‘

گریگوری نے اپنے ناول میں ایلینور کو ایک بااختیار اور فیصلہ کن شخصیت کے طور پر پیش کیا ہے۔

وہ وضاحت کرتی ہیں کہ ایلینور ’ایک انتہائی بلند عزائم رکھنے والی عورت تھی، جس نے اپنی زندگی خود بنائی۔‘

ناول میں ایلینور کہتی ہیں ’میں اپنے لیے کچھ حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ اپنا لقب چاہتی ہوں، اپنی دولت اور اپنی زمینیں خود حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ میں یہ سب کسی ایسے مرد کے ساتھ کرنا پسند کروں گی جس سے میں محبت کرتی ہوں، مگر یہ نہیں چاہتی کہ وہ میرے لیے یہ سب حاصل کرے۔‘

ناول رائل وچ میں اس غیرمعمولی خاتون کو، جو 15ویں صدی کے ایک مورخ کے بقول ’انتہائی حسین اور دلکش‘ تھیں، ایک ایسی شخصیت کے طور پر دکھایا گیا ہے جو اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے مردوں کو بیوقوف بناتی ہے۔ اور وہ اکثر اس مقصد ذہانت کو چھپا کر رکھتی۔

ناول میں جب وہ ڈیوک ہمفری کی توجہ حاصل کرنے کے لیے گھڑسواری پر نکلتی ہیں تو جان بوجھ کر خود کو کمزور ظاہر کرتی ہیں۔

وہ قاری سے کہتی ہیں: ’میں ایک ماہر گھڑ سوار ہوں... لیکن بہتر یہی ہے کہ خود کو نازک اور کمزور ظاہر کیا جائے تاکہ مردوں میں شرافت اور مدد کرنے کا جذبہ ابھرے۔‘

گریگوری کے مطابق یہی حکمت عملی ایلینور نے بعد میں اپنے مقدمے کے دوران بھی اپنائی، جہاں انھوں نے خود کو ’ایک خوف زدہ عورت، ایک کنواری لڑکی جتنا معصوم‘ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔

گریگوری کی بیان کردہ کہانی میں ایلینور ہی اپنے شوہر کے سیاسی عزائم کو ہوا دیتی ہیں۔

یہ کردارنگاری شیکسپیئر کے تاریخی ڈرامے ہنری ششم، حصہ دوم کی یاد دلاتی ہے، جہاں ایلینور، ہمفری کو ترغیب دیتی ہیں کہ ’اپنا ہاتھ بڑھاؤ اور اس شاندار سونے تک پہنچنے کی کوشش کرو۔‘

’بلند عزائم رکھنے والی عورت‘

تاہم بعض مؤرخین کے مطابق ایلینور کے بلند عزائم اور کامیابیوں سے اس بات کی اہمیت کم نہیں ہوتی کہ اس مقدمے میں انھیں پھنسایا گیا تھا۔

قرونِ وسطیٰ کے ماہر رالف گریفتھس نے اپنے معروف 1969 کے مضمون دی ٹرائل آف ایلینور کوبہم میں لکھا تھا کہ ’ایلینور کی بلند عزائم ہی بالآخر ان کی تباہی کا باعث بنے۔ ایلینور کوبہم کی کمزوری جادوگری اور نیکرومینسی میں ان کی دلچسپی تھی، لیکن جب اس کا امتزاج سیاسی خواہشات سے ہوا تو بعض لوگوں نے ان کے ان مشاغل کو غداری کا رنگ دے دیا۔‘

ڈاکٹر ایون راجر بھی اس سے متفق دکھائی دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’بڑی حد تک یہ معاملہ ایک بلند عزائم رکھنے والی عورت کو نیچا دکھانے کا تھا۔‘

ان کے بقول ’بعد کے دور میں جب ہم ایڈورڈ چہارم اور الزبتھ ووڈوِل کو دیکھتے ہیں تو ان کے بارے میں بھی جادوگری جیسی افواہیں گردش کرتی نظر آتی ہیں۔ میرے خیال میں خاص طور پر اس زمانے تک آتے آتے یہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی خواتین پر حملہ کرنے کا ایک مؤثر سیاسی ہتھیار بن چکا تھا۔‘

اگر یہ واقعی ایک من گھڑت مقدمہ تھا تو اس کی سزائیں یقیناً عبرتناک اور عوامی تضحیک پر مبنی تھیں۔

اس سکینڈل میں اپنے کردار کے باعث راجر بولنگ بروک کو ایک سٹیج پر لایا گیا، جہاں انھیں کاغذ کا تاج پہنایا گیا تھا۔ انھیں ان کے ’جادوئی‘ آلات سے گھری ہوئی اس کرسی پر بٹھایا گیا جسے مبینہ طور پر وہ عملیات کے لیے استعمال کرتے تھے، اور انھیں عوام کے سامنے اپنے ’گمراہ کن عقائد‘ سے توبہ کرنے پر مجبور کیا گیا۔

چند ماہ بعد انھیں پھانسی دے دی گئی۔ موت کے بعد ان کی لاش کے ٹکڑے کیے گئے اور ان کا سر لندن برج پر نمائش کے لیے لٹکا دیا گیا۔

مارگری جورڈمین کو زندہ جلا کر ہلاک کر دیا گیا۔

دوسری جانب چرچ، جس نے شاہی کونسل کے ساتھ مل کر ایلینور کا مقدمہ چلایا، انھیں بھی مثال بنانے پر تلا ہوا تھا۔

عمر قید کی سزا سنائے جانے سے پہلے ایلینور کو تین دن تک عوامی توبہ کی سزا بھگتنا پڑی۔

ننگے پاؤں، صرف ایک ہلکا لباس پہنے ہوئے اور ہاتھ میں موم بتی لیے، انھیں لندن کی مصروف ترین بازاروں سے ان دنوں گزرنے پر مجبور کیا گیا جب وہاں سب سے زیادہ ہجوم ہوتا تھا، تاکہ عوام کے سامنے ان کی رسوائی ہو اور دوسروں کے لیے عبرت کا سامان پیدا کیا جا سکے۔

ایلینور پر ہونے والے مظالم اور توہین آمیز سلوک کے باوجود گریگوری انھیں اپنے ناول میں ایک مظلوم کردار کے طور پر پیش نہیں کرتیں۔ ان کے ناول میں قید و بند کے دوران بھی ایلینور کی ذہانت اور جرات پڑحنے والوں حیران کر دیتی ہے۔

گریگوری کہتی ہیں کہ ان کے خیال میں بے بس اور خاموش مظلوم عورت کا تصور تاریخی اعتبار سے درست نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم نے خواتین کے بارے میں وکٹورین دور کے نظریات کو اختیار کر کے انھیں پوری تاریخ پر منطبق کر دیا ہے، حالانکہ اس سے ان گنت ایسی خواتین نظرانداز ہو جاتی ہیں جو فعال، پُرعزم اور مؤثر تھیں۔

چاہے ایلینور واقعی جادو ٹونے میں دلچسپی رکھتی تھیں یا اسے بدنیتی سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، اس نے تاریخ کا دھارا بدلنے میں کردار ادا کیا۔

اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے خلاف اس غیر معمولی مقدمے نے نئی قانون سازی کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ اس قانون کو بعد میں این بولین کے خلاف استعمال کیا گیا تاکہ ہنری ہشتم کے لیے دوبارہ شادی کی راہ ہموار کی جاسکے۔

ایلینور کے خلاف الزامات، اور ان سے وابستگی کے باعث ہمفری کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان نے ہاؤس آف لنکاسٹر کو کمزور کر دیا۔ اس سے حریف دھڑے، ہاؤس آف یارک کو تقویت ملی اور بالآخر وارز آف دی روزز کی راہ ہموار ہوئی، جو تخت کے حصول کے لیے تین دہائیوں پر محیط ایک خونریز خانہ جنگی تھی۔

شاید اسی لیے گریگوری کو کسی حد تک افسوس محسوس ہوتا ہے کہ ایلینور کے سیاسی عزائم پورے نہ ہو سکے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میرے خیال میں وہ ایک اچھی ملکہ ثابت ہو سکتی تھیں۔‘

گریگوری اس رائے کی تائید میں ایلینور کی عوامی تاثر سازی کی صلاحیتوں اور بین الاقوامی تنازعات سے متعلق ان کے تجربے کا حوالہ دیتی ہیں۔

ناول نگار کے مطابق ایلینور میں ’خود پسندی‘ اور ’حد سے زیادہ خود اعتمادی‘ تو ضرور تھی، لیکن ’قرونِ وسطیٰ کی ایک ملکہ بننے کے لیے شاید ایسی ہی خصوصیات کی ضرورت ہوتی تھی۔‘

رائل وچ کے اختتامی نوٹ میں گریگوری لکھتی ہیں:

’مجھے ایسی عورت پسند ہے جو اپنے اندر کے اندھیروں کا سامنا کر سکے اور نہ تو ان سے خوفزدہ ہو اور نہ ہی ان پر معذرت خواہ رویہ اپنائے۔‘